Loading
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی تحریک اب پوری قوم کی آواز بن چکی ہے، پیٹرولیم لیوی ہر صورت ختم کرنی پڑے گی، کل سے لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں، حکومت نے پھر رابطہ کیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ پٹرولیم لیوی کے بھتے کو کوئی جواز نہیں ہے، ایف بی آر کا عملہ ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کرتا، یہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے بھتہ ٹیکس لیتے ہیں، وفاقی حکومت کے اخراجات ایک ٹریلین سے بڑھ چکے ہیں، حکومت اپنے اخراجات میں 30 فیصد اضافہ کرتی ہے،عوام سے قربانی مانگتے ہیں، پٹرولیم لیوی 107 روپے فی لٹر وصول کی جا رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لیوی کے علاوہ کئی طرح کے ٹیکسز بھی پٹرول پر عائد ہیں، یہ اپنی کرپشن اور لوٹ مار ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں، مذاکرات میں یہ کہتے ہیں ہمیں تجاویز دیں، جو ہمارا کام نہیں ہے، ہم نے مذاکرات میں تجاویز بھی دیں، یہ ماننے کو تیار نہیں، یہ آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں سود تین فیصد کر دو، یہ کہتے ہیں اسٹیٹ بنک خودمختار ہے، اسٹیٹ بنک میں تقرریاں تو حکومت ہی کرتی ہے، انہوں نے نام نہاد ریلیف کا اعلان کیا، یہ عوام کو خیرات ہے، جماعت اسلامی کی تحریک اب پوری قوم کی آواز بن چکی ہے، پٹرولیم لیوی ہر صورت ختم کرنی پڑے گی، کل سے لانگ مارچ شروع کر رہے ہیں، حکومت نے پھر رابطہ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم نئے کئی میٹنگز کر لیں، حکومت ہر مرتبہ وقت مانگتی ہے، اگر حکومت لیوی ختم کرتی ہے تو ان سے بات ہو سکتی ہے، اگر لیوی ختم نہیں کرتے تو ہم لانگ مارچ کسی صورت ختم نہیں کریں گے، حکومت پروپوزل کے ساتھ آئے گی تو بات کریں گے، عوام کو خیراتی ریلیف نہیں ان کا حق چاہئے، حکمرانوں کا فرض ہے کہ عوام کو ریلیف دے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وقت آٹے اور چینی کا شدید بحران ہے، زرداری، شریف اور ترین خاندان کی شوگر ملیں ہیں، شوگر مافیا کبھی درآمد کی کبھی برآمد کی اجازت مانگتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل