Saturday, September 19, 2026
 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کوہاٹ کا دورہ، پولیس لائنز دھماکے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات

 



وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع کوہاٹ کے دورہ کے دوران پولیس لائنز دھماکے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ اموقع پر پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، ریسکیو 1122، ڈاکٹرز، ضلعی انتظامیہ اور کوہاٹ کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  کہ گزشتہ روز دہشت گردوں کے خلاف تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے دوران جس بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابل تحسین ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس جوانوں اور شہریوں نے قوم اور ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ شہداءکے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلخانہ کو صبر جمیل عطا کرے اور تمام زخمیوں کو جلد صحتیابی نصیب فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا 2004 سے مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور اس دوران صوبے کے 80 ہزار قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ طویل قربانیوں کے بعد صوبے میں امن قائم ہوا تھا اور عمران خان کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا نے امن دیکھا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس دور میں پاکستان کی خارجہ پالیسی عوام اور ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر بنائی گئی۔ افغانستان میں ایسی حکومت کے باوجود جس کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں تھے، عمران خان نے اسٹیٹس مین کا کردار ادا کیا، افغانستان کو پاکستان مدعو کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ جس حکومت کے آنے پر ہم نے جشن منایا اور جس کے ساتھ چائے کے پیالے پیے، آج اسی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے، تجارت متاثر ہے، قبائلی اضلاع میں معاشی سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بارڈر کی بندش سے گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا اور رواں مالی سال بھی صوبے کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک بڑی وجہ ناکام خارجہ پالیسی ہے۔ گزشتہ 22 سال سے ایک ہی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، لیکن اگر کوئی پالیسی موثر نتائج نہیں دے رہی تو اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی پالیسی کسی جماعت کے فائدے کے لیے نہیں بلکہ خیبرپختونخوا اور پورے پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہے۔ اگر اس پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت کی توجہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کو روکنے پر مرکوز ہے۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو دوسرے صوبے میں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہ دینا، جلسے اور احتجاج روکنا اور سیاسی نعروں تک پر پابندیاں عائد کرنا اس ترجیح کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہو رہے ہیں، عوام اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود صوبے کو ہی خطرے کے طور پر پیش کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے بھارت کے بجائے پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرے کا اظہار انتہائی افسوسناک ہے۔ اگر بھارت اور فتنہ الہندستان سے کوئی خطرہ نہیں اور خطرہ اپنے ہی صوبوں سے ہے تو یہ ریاستی بیانیے کے حوالے سے ایک سنگین سوال ہے۔ وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں، عوام اور پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے صوبے، اپنی عوام اور پاکستان کے لیے مضبوطی سے کھڑا رہنا ہوگا۔ 22 سال کی قربانیوں کے باوجود اگر صوبے کے عوام اور پولیس کے حوصلے بلند ہیں تو انہیں آئندہ بھی دہشت گردی کے خلاف اسی عزم کے ساتھ کھڑا رہنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پولیس کی استعداد کار بڑھانے، جدید اسلحہ، آلات اور انفراسٹرکچر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اے ڈی پی سے ہٹ کر 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا بجٹ تقریباً 81 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنا اس لیے ضروری ہے کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی کابینہ اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز نے بھی اپنے ترقیاتی پیکیجز میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل مختص کیے ہیں، کیونکہ صوبائی حکومت اور منتخب نمائندے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ امن کے بغیر ترقی کا سفر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی پالیسی کے نتیجے میں دہشت گردی دوبارہ بڑھی ہے، تاہم خیبرپختونخوا اس کا مقابلہ کرے گا۔ پالیسی میں تبدیلی کے لیے صوبائی حکومت اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کرتی رہے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی سال 2026-27 خیبرپختونخوا کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ جو شہداءحکومتی شہداءپیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور دیگر ضروری جدید آلات کی کمی کو دور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی ری ویمپنگ جاری ہے اور جہاں جہاں جدید طبی آلات کی ضرورت ہوگی وہاں وہ فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کوہاٹ واقعے میں متاثر ہونے والی مسجد کی تعمیر نو کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسے بہترین انداز میں دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کوہاٹ میں اسپیشل برانچ کے لیے پولیس اسٹیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو بھی جلد مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کوہاٹ پولیس ہسپتال کو بھی بہتر بنانے اور ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوہاٹ پر طبی سہولیات کا بوجھ زیادہ ہے، اسی لیے ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کا پہلے ہی اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ منصوبہ مکمل طور پر صوبائی حکومت فنڈ کرے گی اور اسے ریکارڈ مدت میں تقریباً چھ ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل اسٹرکچر تقریباً چھ سے سات ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے، اس لیے کوہاٹ کے علاوہ مالاکنڈ اور پشاور میں بھی متعلقہ منصوبوں کو صوبائی حکومت خود فنڈ کرے گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ دھماکے سے ہونے والے نقصانات کی بحالی اور متاثرہ عمارتوں کی تعمیر نو کی جائے گی، تاہم سب سے اہم چیز عوام اور پولیس کا حوصلہ ہے، جسے کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس نفری میں کمی کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو کابینہ میں زیر بحث لا کر ضروری فیصلہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کا دورہ کر کے دھماکے کے زیر علاج زخمیوں کی عیادت کی اور انکی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی، صوبائی وزراءشفیع جان اور آفتاب عالم کے علاوہ رکن صوبائی اسمبلی داو¿د آفریدی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل