Loading
حکومت اور جماعت اسلامی پاکستان کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور میں اہم پیش رفت کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں اور سپرلانگ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہی عوامی ریلیف کے حوالے سے بڑا بریک تھرو کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو بڑا عوامی ریلیف پیکیج دینے کی پیش کش کی ہے، تاہم پیکیج کی منظوری جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری سے مشروط ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی عوامی ریلیف پیکیج کے معاملے پر آن بورڈ ہیں اور وزیراعظم کی وطن واپسی پر جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت عوامی ریلیف دینے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو سپر لانگ مارچ میں وقفہ کیا جاسکتا ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی کے حتمی خاتمے تک لانگ مارچ ختم نہیں کیا جائے گا۔
اس حوالے ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومتی وفد کے بعض ارکان بھی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے خواہاں ہیں، حکومتی رکن کے مطابق وفد کے ارکان عوامی نمائندے ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدام پر انہیں خوشی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے جلد جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطے کا بھی امکان ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور دیگر شہروں میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے دھرنوں اور احتجاج کے بعد آج کراچی سپر لانگ مارچ آغاز ہوگیا ہے اور جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکنان کراچی سے بذریعہ ٹرین اسلام آباد کی طرف روانہ ہوچکے ہیں اور یہ کارواں کل ملتان پہنچے گا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں سپر لانگ مارچ لاہور پہنچے گا جہاں سے مزید کارکنان اور دیگر رہنما بھی شامل ہوں گے اور اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل