Loading
غزل
وہ بونوں میں کھڑا خود کو بہت اونچا سمجھتا ہے
وگرنہ اس کا جتنا قد ہے ہر بندہ سمجھتا ہے
یہی تو ہے ادھورا پن جسے سمجھا نہیں کوئی
کہ ہر بندہ ہی اپنے آپ کو پورا سمجھتا ہے
خدا قہار ہے، غفار ہے، محسن ہے، عادل بھی
خدا اس کے لئے ویسا ہے جو جیسا سمجھتا ہے
یہ اہلِ عقل سے کہہ دو مجھ سے دور ہی ٹھہریں
جو دیوانہ ہو اس کی بات دیوانہ سمجھتا ہے
ہمارا میکدے سے دور رہنے کا سبب سمجھو
ہماری تشنگی ساقی نہ پیمانہ سمجھتا ہے
وفاداری صغیرؔ اس کو وفاداری نہیں لگتی
تو پھر یہ طے ہوا مجھ کو وہ خود جیسا سمجھتا ہے
(صغیر احمد صغیر۔ رحیم یار خان)
غزل
جانے کیا دیکھتے ہیں اور وہ کیا کہتے ہیں
چاند کو بامِ فلک کا جو دیا کہتے ہیں
پیار آتا ہے سدا تم پہ، سدا کہتے ہیں
جان کہتے ہیں تمہیں، جانِ وفا کہتے ہیں
یہ الگ بات کہ ہم کان نہیں دھرتے مگر
کہنے والے ترے بارے میں برا کہتے ہیں
ہو کے ناکام وہاں سے بھی پلٹ آئے ہیں
لوگ جس در کو محبت کا پتا کہتے ہیں
یہ ہیولے ہمیں آرام رساں لگتے ہیں
دشتِ وحشت کو بھی ہم خواب سرا کہتے ہیں
ہونے لگتا ہے وہ تحلیل مری آنکھوں میں
سب سرِ شام جسے خواب نما کہتے ہیں
ہم روایات کی دنیا میں ہیں جدت کے امیں
ہم وہی لوگ ہیں جو شعر نیا کہتے ہیں
(ماہم حیا صفدر۔ فیصل آباد)
غزل
مجھ کو ناکردہ گناہوں کی سزا دی اس نے
اس پہ پھر ایک قیامت بھی اٹھا دی اس نے
ہم نے جو لمحۂ تسکین میں کہہ ڈالی تھی
خلقتِ شہر کو وہ بات بتا دی اس نے
ہم نے اک عمر لگا کر جسے تعمیر کیا
ایک لمحے میں وہ دیوار گرادی اس نے
اس بھرے شہر میں اب کس سے گواہی چاہیں
مار ڈالے ہیں مرے سارے منادی اس نے
اب وہ چاہے ہے کہ جاں اس کے حوالے کر دیں
دلِ شاعر کی امانت تو گنوا دی اس نے
اب تذبذب میں کھڑا ہوں سرِ ساحل اکرامؔ
آخری بار اگر مجھ کو صدا دی اس نے
(اکرام افضل۔ مٹھیال)
غزل
رات کا پھیلنا مختصر ہو گیا
میں ترے عشق میں بے ہنر ہو گیا
زندگی کٹ گئی دھوپ میں دوستا
میں سرِ دشت ٹھہرا شجر ہو گیا
دل میں نفرت کا جنگل ہرا کیا ہوا
لفظ چاہت سے میں بے خبر ہو گیا
اُن کی آنکھوں کے روشن دیے بجھ گئے
سوز و سازِ غزل بے اثر ہو گیا
جو کسی اور کا دست و بازو رہا
بے بسی میں مِرا ہمسفر ہو گیا
پُر سکوں تھا میں جب تک ترے ساتھ تھا
میں تجھے چھوڑ کر دربدر ہو گیا
(فیصل امام رضوی۔ مظفرگڑھ)
’’سالگرہ‘‘
یہ گھڑی جذبۂ احساس سے عاری تو نہیں
تم سمجھتی ہو کہ تم پہ ہی جنوں طاری ہے
کیا سمجھتی ہو کہ الفاظ کا محتاج ہے پیار
کیوں سمجھتی ہو کہ لفظوں کی زباں بھاری ہے
کیا ضروری ہے کہ فرسودہ رسومات ہی ہوں
کیوں نہ یہ سالگرہ ایسے منائیں جاناں
تم وہاں پھونک سے ہر شمع بجھا دو یک دم
ہم یہاں تیرے لیے دل کو جلائیں جاناں
کیوں نہ یہ سالگرہ ایسے منائیں جاناں
(نجم الحسن نجمی۔ کلرکہار)
غزل
جب کوئی ساتھ چھوڑ جاتا ہے
اک دیا راستہ دکھاتا ہے
جیب خالی ہے شہر دشمن ہے
جو بھی ملتا ہے مسکراتا ہے
ہم نے خود اپنے ہاتھ کاٹے ہیں
اب ہمیں کون یہ بتاتا ہے
چھین لیتا ہے نیند آنکھوں سے
خواب جب بھی کوئی ستاتا ہے
خوف ایسا ہے اب کے بستی میں
آئنہ بھی نگہ چراتا ہے
آستینوں میں سانپ پالے ہیں
خود کو ڈسوا کے چین آتا ہے
ہونٹ سینے سے کچھ نہیں ہوتا
وہ تو آنکھوں سے جان جاتا ہے
کون سمجھے یہاں کسی کا دکھ
ہر کوئی اپنی ہی سناتا ہے
یہ زمانہ بتائے گا جاذبؔ
کون اب کس کے گیت گاتا ہے
(سلیمان جاذب۔ دبئی)
غزل
میری آنکھوں کی اسی پل روشنائی جائے گی
تیرے چہرے سے نظر جب بھی ہٹائی جائے گی
لوٹ آئے گی مری قوت سماعت اس گھڑی
جس گھڑی آواز وہ مجھ کو سنائی جائے گی
عیب حاکم کے ہی لکھنے پر میں مارا جاؤں گا
پھر خطا دنیا کو کچھ اور ہی بتائی جائے گی
وہ گنہ کرنے پہ راضی خود بخود ہو جائے گا
بھوک کے مارے کو جب روٹی دکھائی جائے گی
حسن اترائے گا اپنے حسن پر جب بھی کبھی
آنکھ پھر اس کو فقط تیری دکھائی جائے گی
(اکرام حبیب باقر ۔چنیوٹ)
غزل
تیری جینے کی دھن، سب ختم
وہ جو کہہ دے نہ کن، سب ختم
واپسی کا نہیں راستہ
جانے والے یہ سن، سب ختم
وقت آنے کی ہے دیر بس
جتنے جالے بھی بُن، سب ختم
عشق کے بعد کچھ بھی نہ تھا
یعنی وہ، آپ، اُن، سب ختم
ہے اجل تاک میں ہر گھڑی
سن جو آوازِ کن ، سب ختم
یوں گرے ہجر کے ہاتھ سے
جتنے گاتے تھے گُن، سب ختم
پاس ہو گر نہ اخلاص کا
نیکیاں جو بھی چن، سب ختم
چھوڑ دے یہ اگرچہ ، مگر
دل کی بس بات سن، سب ختم
تیرے دم سے یہ نغمے حسیں
ورنہ فَعْ، فاعِلُن، سب ختم
رند، شاہد کہ ہو پارسا
جو بھی رہتا ہے ٹن، سب ختم
(مشہود شاہد ۔چترال)
غزل
کس ارادے سے نکل آئے ہیں
غم جو چہرے سے نکل آئے ہیں
تب چراغوں کو جلایا اُس نے
جب اندھیرے سے نکل آئے ہیں
زندگی تیری کفالت کے لیے
ہم بڑھاپے سے نکل آئے ہیں
اب تحفظ بھی کہاں پائیں گے
ہم جو پنجرے سے نکل آئے ہیں
تا کہ دیواریں بھی باتیں کر لیں
ہم بھی کمرے سے نکل آئے ہیں
کیا بتائیں گے وہ شجرہ شافیؔ
جو قبیلے سے نکل آئے ہیں
(بلال شافی۔ جڑانوالہ، فیصل آباد)
غزل
لبوں پہ اک سوال تھا، نہیں رہا
اسے مرا خیال تھا، نہیں رہا
وہ جاتے وقت سارے فن ہی لے گیا
جو شعر میں کمال تھا، نہیں رہا
اسے یہ دور کی ہوائیں کھا گئیں
جو شخص لازوال تھا، نہیں رہا
مری تھی آشنائی اس کے نام سے
وہ اپنی خود مثال تھا، نہیں رہا
بہت دنوں سے اُس پری سے دوستا
جو رابطہ بحال تھا، نہیں رہا
(ارباب اقبال بریار۔ واہنڈو، گوجرانوالہ)
غزل
جہاں میری نظر ہے اور میں ہوں
ترا محبوب در ہے اور میں ہوں
چھپاؤں کس طرح حالات اپنے
کہ خستہ میرا گھرہے اور میں ہوں
کبھی بھرتا نہیں دل حاضری سے
کہ اس کا سنگ در ہے اور میں ہوں
خوشی بے حد ملی ہے زندگی میں
سفر میں ہمسفر ہے اور میں ہوں
تری مرضی ڈبالے یا بچالے
سمندر ہے بھنور ہے اور میں ہوں
نبھانے فرض اپنے جا رہا ہوں
یہ رستہ پر خطر ہے اور میں ہوں
وہاں اغیار کا ہر پل ہے قصبہ
جہاں میری گزر ہے اور میں ہوں
ہٹالے اے خدایا بارِ غربت
بہت دکھتی کمر ہے اور میں ہوں
وہی رستہ ہمارا آج ساقیؔ
ابھی تک منتظر ہے اور میں ہوں
(سرور ساقی۔ صحبت پور، بلوچستان)
غزل
تِری چشمِ پُرنم میں تاروں کو دیکھا
تِرے رخ پہ اتری بہاروں کو دیکھا
زبانِ خموشی سے تم نے کہا جو
مِرے دل نے اُن ہی اشاروں کو دیکھا
گھرا جب بھی تاریکیوں میں مرا دل
تِری یاد کے ہی سہاروں کو دیکھا
تلاطم میں جب بھی یہ کشتی گھری تو
تِری چاہتوں کے کناروں کو دیکھا
چھپا تھا جو سینے میں آتش فشاں سا
محبت کے اُن ہی شراروں کو دیکھا
ملا کیا ہمیں اِس کمالِ جنوں میں
وفا کے نگر میں خساروں کو دیکھا
تلاشِ وفا میں نکل کر جو ساگرؔ
محبت کے مٹتے مزاروں کو دیکھا
( رجب علی ساگر، ڈیرہ اسماعیل خان ،پہاڑ پور)
غزل
رہا نہ اب کسی سے واسطہ نہ رابطہ کوئی
شناسا نہ کسی کا میں نہ میرا آشنا کوئی
میں کھوتا جا رہا ہوں دن بدن اس کے خیالوں میں
اسے اب بھول جانے کا بتائے راستہ کوئی
ابھی اک شخص کی میں جستجو میں ہوں مگن جاناں
ترے جانے پہ مجھ سے ہو گیا ہے لاپتا کوئی
دعا میں کیوں اثر ہوتا نہیں، ہو بھی بھلا کیسے
کسی کو مانگتا ہوں میں، مجھے بھی دوسرا کوئی
کسی بھی راستے میں برملا چلتا رہا ہوں میں
مری امی دعا گو ہے نہ ہوگا حادثہ کوئی
ہمیشہ زخم دے گا فیصلہ جذبات کا گہرا
نہ لینا بھول کر جذبات میں تم فیصلہ کوئی
قمر ؔنہ کھل رفیقوں پر خدارا تم کبھی اتنا
کہیں نہ مار دے تجھ کو ترا ہی ہم نوا کوئی
(شکیل احمد قمر۔ منشاہی، کٹیہار، بہار۔ انڈیا)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل