Sunday, September 20, 2026
 

امریکہ کا ’’جی پی ایس‘‘ سسٹم مفت کیوں؟

 



جی پی ایس (GPS) بلا شبہ کرہ ارض پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی آپ راستے تلاش کرنے کے لیے اپنے فون کا استعمال کرتے ہیں، کسی دوست کے ساتھ اپنی لوکیشن شیئر کرتے ہیں، اپنی دوڑ کا ٹریک رکھتے یا کھانا آرڈر کرتے ہیں، تو اِس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اس سروس پر انحصار کر رہے ہوں۔ لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ اِس سسٹم کے لیے مالی وسائل کہاں سے آتے ہیں۔ یا مزید واضح طور پر کہیں تو اس کا خرچ کون اٹھاتا ہے؟ دراصل امریکی ٹیکس دہندگان ہر سال تقریباً 2 ارب ڈالر کا تخمینی خرچ برداشت کرتے ہیں تاکہ سیٹلائٹ کا وہ نیٹ ورک برقرار رکھا جا سکے جو دنیا کے ایک بڑے حصے کو مفت نیویگیشن (یا سمت راہنمائی) کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ سروس مفت کیوں؟ یہ بڑا اہم اور انوکھا سوال ہے کہ امریکہ یہ تمام اخراجات کیوں برداشت کرتا چلا جا رہا ہے؟ اس کا جواب سرد جنگ کے میزائل پروگراموں، چین اور روس کے بنائے گئے سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور کوانٹم ٹیکنالوجیز کی نئی نسل سے جڑا ہوا ہے جو آگے چل کر جی پی ایس کی مکمل جگہ لے سکتی ہیں۔ اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے ، جی پی ایس کام کیسے کرتا ہے؟آئیے یہ امر سمجھنے کے لیے بالکل آغاز سے بات شروع کرتے ہیں۔ گلوبل پوزیشننگ سسٹم یا جی پی ایس بنیادی طور پر امریکی اسپیس فورس کے کم از کم 24 سیٹلائٹس کا ایک گروہ (اسکواڈرن) ہے۔ زمین سے تقریباً 20 ہزار کلومیٹر (12,400 میل) اوپر مدار میں گردش کرتے ہوئے ان میں سے ہر سیٹلائٹ مسلسل ایک ہی وقت میں دو معلومات نشر کرتا ہے: وہ اس وقت کہاں موجود ہے اور سگنل بھیجنے کا درست وقت کیا تھا۔ آپ کا موبائل فون، سیٹ نیو (sat nav) یا رننگ واچ صرف ان سگنلوں کو موصول کرتی ہے۔ ایک ہی وقت میں کئی سیٹلائٹس کے فاصلے کی پیمائش کر کے آپ کا آلہ آخرکار زمین پر وہ واحد نقطہ تلاش کر لیتا ہے جو اُن تمام فاصلوں کے ساتھ بالکل مطابق ہوتا ہے۔ اس طریقہ کار کو تکنیکی اصطلاح میں ’’ٹریلیٹریشن‘‘ (trilateration) کہا جاتا ہے یعنی فاصلوں کی مدد سے کسی جگہ یا مقام کا تعین کرنا ۔ اِس وقت دنیا بھر میں 6 ارب سے زیادہ آلات جی پی ایس کی مدد سے فاصلوں کا تعین کر رہے ہیں۔ 2030ء کی دہائی کے اوائل تک یہ تعداد 10 ارب کے قریب پہنچنے کا تخمینہ ہے جو دنیا کے تقریباً ہر زندہ انسان کے لیے ایک ڈیوائس کے برابر ہو گا۔ صرف امریکہ میں روزانہ 90 کروڑ سے زیادہ ریسیور استعمال کیے جاتے ہیں۔  امریکہ نے جی پی ایس بنایا ؟ جی ہاں، جی پی ایس کو بنیادی طور پر امریکی فوج نے سرد جنگ کے دوران تیار کیا تھا۔اس کا پہلا سیّارہ یا سیٹلائٹ 22 فروری 1978ء کو چھوڑا گیا۔ فی الوقت جی پی ایس اکتیس سیاروں پر مشتمل ہے۔ اس کا آخری سیّارہ حال ہی میں 21 اپریل کو خلا میں چھوڑا گیا تھا۔ امریکہ ایک ایسا نیویگیشن سسٹم چاہتا تھا جو اُس کی افواج، طیاروں اور جنگی جہازوں کو یہ بتا سکے کہ وہ زمین پر بالکل کہاں موجود ہیں۔ اتنی ہی اہم بات یہ بھی تھی کہ اُسے اپنی آبدوزوں سے داغے جانے والے ایٹمی میزائلوں کی لانچنگ کی درست پوزیشن معلوم کرنے کی ضرورت تھی … کیونکہ کسی دور دراز ہدف کو درستگی سے نشانہ بنانے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ فائر کہاں سے کر رہے ہیں۔ اس ضرورت کا نتیجہ جی پی ایس کی صورت میں نکلا۔ امریکی فوج کو دنیا بھر میں نیویگیٹ کرنے اور فورسز کے درمیان رابطے کی بے مثال صلاحیت فراہم کر کے گلوبل پوزیشننگ سسٹم نے اپنے حریفوں کے مقابلے میں امریکی افواج کو ایک بڑا اسٹریٹجک فائدہ فراہم کر دیا۔ ایک اہم سوال لیکن کیسے؟ کیا دشمن ان سگنلوں کو آسانی سے موصول نہیں کر سکتے تھے؟ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ہاں … جی پی ایس سگنلز کھلے عام نشر کیے جاتے ہیں اور جو ریسیور رکھنے والے کسی بھی شخص تک پہنچتے ہیں۔ لیکن بڑی ہوشیاری سے امریکہ نے گلوبل پوزیشننگ سسٹم کے دو ورژن نشر کیے۔ درست سگنل کو اینکرپٹ (سیکرٹ کوڈ میں) کیا گیا تھا تاکہ صرف امریکی افواج اور ان کے اتحادی ہی اس کی مکمل درستگی سے فائدہ اٹھا سکیں۔ باقی تمام لوگوں کے لیے ایک دوسرا، کھلا سگنل تھا جسے جان بوجھ کر تھوڑا غیر واضح یا دھندلا کیا گیا تھا ۔ اس خصوصیت کو تکنیکی طور پر’’سلیکٹو اویلیبلٹی‘‘(selective availability) کہا گیا۔ اس طرح جب عام شہری گلوبل پوزیشننگ سسٹم استعمال کرتے تو اُن کی پوزیشن میں تقریباً 100 میٹر (330 فٹ) کا فرق آ جاتا تھا۔ دو نمونوں والا یہ نظام تاہم مئی 2000ء میں بدل گیا، جب تب کے امریکی صدر بل کلنٹن نے اس ’’سلیکٹو اویلیبلٹی‘‘ کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ یوں ہر سویلین ریسیور کی درستگی میں فوری طور پر دس گنا اضافہ ہو گیا۔ اس قدم کو جلد ہی مستقل کر دیا گیا اور اب امریکہ میں نئے سیٹلائٹس درج بالا فیچر کے بغیر ہی بنائے جاتے ہیں۔ تاہم اس سے امریکی افواج کی عسکری برتری ختم نہیں ہوئی: اب دنیا بھر میں سگنل دھندلا کرنے کے بجائے امریکی فوج مخصوص جنگی علاقے میں جی پی ایس کی رسائی روک سکتی ہے جبکہ باقی تمام دنیا پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔گویا گلوبل پوزیشننگ سسٹم پر زیادہ کنٹرول پا کر اسے عوام کے لیے عام کر دیا گیا تاکہ وہ اس سے بخوبی مستفید ہو سکیں۔ مالی اعانت اِس موقع پر یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا امریکی حکومت جی پی ایس کی مالی اعانت جاری رکھے گی؟امریکی حکومت جی پی ایس کے لیے فنڈنگ جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ یہ اس کی فوج، قومی سلامتی اور ہوا بازی کے نظام کے لیے اب بھی انتہائی اہم ہے۔ حالیہ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان سروسز کو فنڈز دینے میں ہچکچاہٹ کے باوجود جن سے امریکہ سے باہر کے ممالک کو فائدہ پہنچتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جی پی ایس قائم رہنے کے لیے ہی بنا ہے۔ اس کی وجہ سمجھنا آسان ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جی پی ایس نے 1983ء سے لے کر اب تک زراعت، کان کنی اور بحری جہاز رانی سے لے کر دس مختلف شعبوں میں امریکہ کو 1.4 ٹریلین (14 کھرب) ڈالر سے زیادہ کی اقتصادی نمو و ترقی فراہم کی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اِس قدر و قیمت کا تقریباً 90 فیصد حصہ صرف 2010ء کے بعد سے حاصل ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ سمارٹ فونوں کا استعمال اور مفت سگنل پر مبنی لوکیشن سروسز جیسے نیویگیشن، رائڈ ہیلنگ (کیکسی ایپس) اور فوڈ ڈیلیوری کا فروغ ہے۔ لیکن جو سب سے قیمتی چیز جی پی ایس فراہم کرتا ہے وہ اصل میں لوکیشن (مقام) نہیں بلکہ ’’وقت‘‘ ہے۔ ہر سیٹلائٹ میں ایٹمی گھڑیاں لگی ہوتی ہیں جو وقت کا انتہائی درست سگنل جنم دیتی ہیں۔ یہی وقت دور جدید کے اُن نظاموں کو چلا رہا ہے جن کے بارے میں ہم میں سے اکثر سوچتے بھی نہیں: یہ موبائل فون نیٹ ورکس کا باہمی ربط قائم رکھتا ہے، مالیاتی منڈیوں سے گزرنے والے اربوں کے لین دین پر وقت کا اندراج کرتا اور بجلی کے گرڈز کو متوازن رکھتا ہے۔ بہت بڑی تباہی ان تمام باتوں کا مطلب یہ ہے کہ جی پی ایس کا بند ہونا ایک بہت بڑی تباہی کا باعث بنے گا۔ نارتھ کیرولائنا کے ایک سائنسی ادارے، آر ٹی آئی (انٹرنیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) کی تحقیق کے مطابق جی پی ایس کھو جانے سے امریکہ کو روزانہ 1 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا … اور بدترین وقت پر یہ نقصان اِس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر فصلوں کی کاشت کے موسم بہار کے دوران 30 دن کے بلیک آؤٹ سے جب کسان اپنے ٹریکٹروں کی رہنمائی کے لیے سینٹی میٹر کی حد تک درست جی پی ایس پر انحصار کرتے ہیں۔ یوں صرف امریکی زرعی شعبے کا نقصان 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ آر ٹی آئی کے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ’’اتنا طویل بلیک آؤٹ شاید ممکن نہ ہو لیکن ہمیں معلوم ہوا ہے کہ روزانہ 1 ارب ڈالر کا معاشی نقصان بیک اپ جی پی ایس سسٹم بنانے کی لاگت سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ اس تناظر میں شاید یہ بات غیر متوقع نہیں ہے کہ امریکہ نے اپنے سیٹلائٹ سسٹم کی اپ گریڈنگ پر زبردست رقم … 8 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کی ہے۔ عملی نقطہ نظر امریکی نیو ہیون یونیورسٹی میں سیاسیات کی پروفیسر پیٹریشیا کروز کہتی ہیں کہ جی پی ایس کی فنڈنگ جاری رکھنے کا امریکی جذبہ’’ایک عملی نقطہ نظر رکھتا ہے۔‘‘ مزید کہتی ہیں: ’’اگرچہ مسک کے پاس اسٹار لنک (Starlink) موجود ہے، جو نظریاتی طور پر جی پی ایس کی جگہ لے سکتا ہے، لیکن آپ لوگوں کو اپنے خرچے پر نجی سیٹلائٹس استعمال کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ’’ہم امریکی شہری ظاہر ہے ٹیکسوں کے ذریعے جی پی ایس سسٹمز کی قیمت ادا کرتے ہیں، لیکن یہ زیادہ بالواسطہ (indirect) طریقہ ہے۔ اور اس کی فنڈنگ بند کرنے کی کوشش سے امریکہ میں افراتفری پھیل جائے گی۔ نیز کچھ امریکیوں کی سوچ کے برعکس ہم امریکی کُلی طور پر آسمانوں کے مالک نہیں ہیں۔‘‘ متبادل نظام اب ایک نیا سوال ذہن میں ابھرتا ہے:’’کیا جی پی ایس کی متبادل ٹیکنالوجیاں موجود ہیں؟‘‘ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ جی پی ایس دنیا کا واحد عالمی نیویگیشن سسٹم نہیں ۔ یورپ کے پاس ’’گیلیلیو‘‘(Galileo) سسٹم ہے۔ چین اور روس کے بھی اپنے نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم ہیں جو اگرچہ اتنے عام نہیں لیکن ان ملکوں کو اہم اسٹریٹجک فوائد فراہم کرتے ہیں۔ چین نے جی پی ایس کا جواب ’’بیڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم‘‘ (BeiDou) بنا کر دیا جو 2020ء میں دنیا بھر میں مکمل طور پر فعال ہو گیا تھا۔ اگرچہ یہ عالمی کوریج پیش کرتا ہے، لیکن یہ پورے ایشیا میں خاص طور پر مضبوط ہے جہاں یہ درستگی کے معاملے میں جی پی ایس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ کچھ حالات میں اس سے آگے بھی نکل جاتا ہے۔ بیڈو کی ایک خصوصیت ایسی بھی ہے جو اُسے اکثر نیویگیشن سسٹمز سے ممتاز کرتی ہے: صارفین اُس کے سیٹلائٹس کے ذریعے مختصر ٹیکسٹ میسجز (پیغامات) بھیج سکتے ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ دور دراز صحرا، پہاڑی سلسلے یا سمندر کے حصے میں پھنسا ہوا شخص بھی اُس وقت رابطہ کر سکتا ہے جب کوئی موبائل فون سگنل دستیاب نہ ہو۔ تاہم یہ سسٹم بھی مکمل طور پر نقائص سے پاک نہیں ہے۔ اگرچہ بیڈو پورے ایشیائی خطے میں غیر معمولی طور پر اچھا کام کرتا ہے، لیکن دنیا کے دیگر حصوں میں اُس کی درستگی کم ہونے لگتی ہے۔ اُسے اپنی کچھ انتہائی جدید صلاحیتوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جی پی ایس کے مقابلے میں زیادہ مخصوص ہارڈویئر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اِس کے باوجود چینی سسٹم کی جیو پولیٹکل (جغرافیائی و سیاسی) اہمیت اُس وقت نمایاں ہوئی جب اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ واسرائیل کے ساتھ تنازع کے دوران جی پی ایس سے ہٹ کر چینی سسٹم کو اپنانا شروع کر دیا۔مذید براں اِس سے قبل چین پاکستان کی افواج کو بھی بیڈو تک رسائی دے چکا تھا۔ واشنگٹن کے زیرِ کنٹرول نیویگیشن نیٹ ورک پر انحصار کرنے سے گریزاں ممالک کے لیے بیڈو جیسے متبادل نہ صرف عملی فوائد پیش کرتے ہیں بلکہ زیادہ تکنیکی اور فوجی خود مختاری بھی یقینی بنا دیتے ہیں۔ روسی سسٹم روس کے متبادل سسٹم کا نام ’’گلوناس‘‘ (GLONASS) ہے۔ بنیادی طور پر اسے سوویت دور کے دوران تیار کیا گیا ۔ بعد کی دہائیوں میں جدید بنایا گیا یہ سسٹم ماسکو کو جی پی ایس سے وہی اسٹریٹجک خود مختاری دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا جو بیڈو چین کو فراہم کرتا ہے۔ گلوناس کی سب سے بڑی طاقت وہ انداز ہے جس میں اُس کے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں چکر لگاتے ہیں۔ ان کی پوزیشننگ انہیں اعلیٰ عرض البلد (high latitudes) پر خاص طور پر اچھی کوریج دیتی ہے، جس سے یہ سسٹم شمالی علاقوں اور آرکٹک (قطب شمالی) میں خاص طور پر موثر ثابت ہوتا ہے، جہاں معیاری جی پی ایس سگنلز اکثر مدہم پڑ تے یا ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا نقصان مگر یہ ہے کہ گلوناس دنیا کے دیگر تمام حصّوں بالخصوص خطِ استوا (equator) کے قریب جدید جی پی ایس اور بیڈو کے مقابلے میں عام طور پر کم درستگی فراہم کرتا ہے۔روس کو تاریخی طور پر متبادل سیٹلائٹس کی ساخت اور لانچنگ کے لیے درکار بھاری اخراجات اور تیاری میں تاخیر کے مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایک نظام سے ماورا چین اور روس جیسے بڑے ممالک کے لیے ایک آزاد نیویگیشن سسٹم کا مالک ہونا جی پی ایس پر انحصار کم کرتا ہے۔ لیکن اب تیزی سے وہ ممالک اور کمپنیاں بھی جو جی پی ایس تک رسائی رکھتی ہیں، کسی ایک سسٹم سے آگے کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ برطانیہ میں رائل انسٹی ٹیوٹ آف نیویگیشن کے نائب صدر اور امپیریل کالج لندن کے محقق اینڈی پروکٹر کہتے ہیں: ’’الیکٹرونک مصنوعات کو اب اس طرح اپ گریڈ کیا جا رہا ہے کہ وہ یورپی اور روسی سسٹمز کو بھی استعمال کر سکیں تاکہ سگنل جامنگ کی صورت میں کام بند نہ ہو…اور یہ وہ عمل ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح آپ کا ڈیوائس جہاں سے بھی سگنل دستیاب ہوں، حاصل کر سکتا ہے۔‘‘ مذید بہتری؟ اب ایک نیا سوال:امریکی حکومت اب جی پی ایس کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟ کیا مزید بہتری آرہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین بتاتے ہیں، عالمی پوزیشننگ سسٹمز میں اپنی برتری برقرار رکھنے کی کوششوں میں امریکہ کے لیے ہر چیز منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوئی ہے۔ جی پی ایس کی افادیت بہتر سے بہترین بنانے کے لیے چھوٹے اور کم لاگت والے نیویگیشن سیٹلائٹس کو شامل کرنے کی تجرباتی کوششوں کو امریکی اسپیس فورس نے خاموشی سے ختم کر دیا ہے … حالانکہ پہلے اِس پروگرام کو ترجیح قرار دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ امریکی ماہرین کے لیے جی پی ایس سسٹم کے زمین پر مبنی حصوں (ground-based systems) کی بحالی اور انہیں جدید بنانا ایک مشکل چیلنج ثابت ہوا ہے۔اس سلسلے میں پروکٹر کہتے ہیں’’سیٹلائٹس کو مدار میں بھیجنا تو آسان کام ہے۔ اصل مشکل حصہ زمین پر کنٹرول سسٹم قائم کرنا اور خلائی جہازوں کا انتظام سنبھالنا ہے۔‘‘ انہوں نے نوٹ کیا ہے کہ امریکہ زمین پر موجود سسٹمز کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو فی الوقت 1990ء کی دہائی کے اوائل سے تعلق رکھتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ جدید ترین خلائی ٹیکنالوجی کے ساتھ اُن کی مطابقت کو بڑھایا جا سکے اور انہیں سائبر حملوں کے خلاف زیادہ محفوظ بنایا جائے۔ 8 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہونے کے باوجود یہ کام جاری ہے، کیونکہ پینٹاگون معاملات تیز کرنے کے لیے منصوبے کے ٹھیکے دار یا کنٹریکٹر، امریکی عسکری کمپنی،لاک ہیڈ مارٹن پر انحصار کر رہا ہے۔ نئے نظام یہ یاد رہے،جی پی ایس سگنلز پانی سے نہیں گزر سکتے۔ اس لیے جیسے ہی کوئی امریکی آبدوز پانی میں غوطہ لگاتی ہے، وہ عملی طور پر اندھی ہو جاتی ہے۔اس کے بعد سطح پر آنے تک اپنی حرکات و سکنات کا خود اندازہ لگا کر وہ راستہ بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے، دنیا بھر میں محققین ایسی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کر رہے ہیں جو ایک دن جی پی ایس پر ہمارا انحصار مکمل طور پرختم نہیں تو کم ضرور کر سکتی ہیں۔ان میں سے سب سے زیادہ اُمید افزا متبادل ’’کوانٹم نیویگیشن‘‘ (Quantum Navigation) ہے۔ جی پی ایس کے برعکس جو سیٹلائٹ سے سگنل موصول کر کے کام کرتا ہے، کوانٹم نیویگیشن سسٹم مسلسل اپنی ہی حرکت کی پیمائش کر کے کام کرتا ہے۔ کوانٹم فزکس کی عجیب و غریب خصوصیات کا استعمال کرنے والے انتہائی حساس سینسرز کی مدد سے یہ سسٹم ہر رفتار، موڑ اور سمت کی تبدیلی کا ریکارڈ رکھ سکتا ہے۔ اِس معلومات کو مسلسل اپ ڈیٹ کر کے یہ سسٹم سیٹلائٹس سے رابطہ کیے بغیر ہی اپنی درست پوزیشن کا حساب لگا سکتا ہے۔ یہ طریقہ کار جی پی ایس کی سب سے بڑی کمزوری کو حل کر سکتا ہے: کیونکہ جی پی ایس صرف اس وقت کام کرتا ہے جب سگنل دستیاب ہوں۔ زمین کے مدار سے باہر، جی پی ایس سگنل اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ کارآمد نہیں رہتے۔جیسا کہ بتایا گیا، پانی کے اندر کام کرنے والی آبدوزیں ان سگنلز تک بالکل رسائی حاصل نہیں کر سکتیں۔ اور فوجی تنازعات کے دوران دشمن ان سگنلز کو جام کر یا ان میں خلل (spoofing) ڈال سکتے ہیں۔ امریکی فوج پہلے سے ہی مدار میں کوانٹم نیویگیشن ٹیکنالوجی کے خفیہ تجربات کر رہی ہے۔پروکٹر، جن کی اپنی کمپنی عالمی پوزیشننگ سسٹمز میں کوانٹم ٹیکنالوجی کے استعمال پر مشاورت فراہم کرتی ہے، کا ماننا ہے کہ ہم اس شعبے میں کوانٹم ٹیکنالوجی کی پیش رفت کی ’’دہلیز پر پہنچ چکے ہیں۔‘‘اگر ان کا اندازہ درست ثابت ہوتا ہے، تو جو ٹیکنالوجی آگے چل کر جی پی ایس کی جگہ لے گی، وہ شاید ابھی سے اپنا وجود اختیار کر رہی ہے۔ یہ گدھے کہاں سے آئے؟ گاڑی کا نیویگیشن سسٹم کہہ رہا ہے کہ آپ اپنی منزل یعنی ہوٹل پہنچ چکے لیکن سامنے ایک کھیت ہے جہاں صرف گائیں اور گدھے نظر آ رہے ہیں۔بعض اوقات گلوبل پوزیشننگ سسٹم ہمیں دھوکا دے جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ غلط کیوں ہوتا ہے؟ کسی گہری وادی یا گھنے جنگل میں جا کر سگنل کی حد (range) سے باہر نکل جانا آپ کی گاڑی کے جی پی ایس کو راستے سے ہٹانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹمز (GNSS) کے ناکام ہونے کی دیگر سنسنی خیز اور نقصان دہ وجوہ بھی ہیں۔ برطانیہ کے امپیریل کالج لندن کا کہنا ہے کہ GNSS جو ہوائی جہازوں، بحری جہازوں اور یہاں تک کہ سمارٹ بموں تک ہر چیز میں استعمال ہوتا ہے،سگنل بلاک ہونے (jamming)، جعلی سگنل تیار کرنے (imitation)، یا سگنل کا رابطہ منقطع ہونے (denial) سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اسپوفنگ (Spoofing) ایک اور بڑا مسئلہ ہے جس میں جی پی ایس ڈیوائس کو دھوکا دینے کے لیے جعلی سگنل بھیجے جاتے ہیں تاکہ وہ سمجھے کہ وہ کسی اور جگہ موجود ہے ۔ یورپی بزنس ایئرکرافٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 2022 ء کے دوران ہوائی جہازوں میں اس طرح کے تقریباً 50 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تھے۔ یہی وجہ ہے، سائنس دان اور حکومتیں ایک متبادل منصوبے پر توجہ مرکوز کر رہی ہیں اور یہاں ’’کوانٹم نیویگیشن‘‘ (Navigation Quantum ) میدان میں آتی ہے۔تاہم کوانٹم نیویگیشن سسٹمز کا فی الحال GNSS کی جگہ لینا ممکن نظر نہیں آتا۔ کوانٹم نیویگیشن کے لیے انتہائی ٹھنڈے ایٹمز (Ultracold atoms) کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس کا سامان فی الوقت کافی بڑا اور وزنی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان مشینوں کو آنے والے برسوں میں چھوٹا بنا بھی لیا جائے، تب بھی کوانٹم نیویگیشن کو مکمل متبادل کے بجائے صرف ایک سپورٹنگ سسٹم کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔    مشہور برطانوی کمپنی، بی اے ای سسٹمز کی ٹیم کے رکن ہینری وائٹ جن کے اجداد نے ہوائی جہاز کی پرواز کے کامیاب تجربے پر کام کیا تھا، کہتے ہیں ’’آپ اپنے سیٹلائٹ سسٹمز سے مکمل چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ واقعی بہت آسان اور کارآمد ہیں۔‘‘

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل