Loading
پاکستان اپنی جغرافیائی ساخت ہی کی طرح تہذیبی، لسانی اور مذہبی اعتبار سے بھی غیرمعمولی تنوع کا حامل ملک ہے۔ تاہم اس تنوع کی بہت سی جہتیں قومی تاریخ نویسی میں وہ توجہ حاصل نہیں کرسکیں جس کی وہ مستحق تھیں۔
چترال کی کالاشہ برادری بھی ایسی ہی ایک قدیم اور منفرد تہذیبی اکائی ہے جسے عموماً رنگین لباس، موسیقی، رقص، تہواروں اور سکندرِاعظم سے منسوب ایک مقبول روایت کے حوالے سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ اس سطحی اور سیاحتی تاثر کے پس منظر میں کالاشہ لوگوں کی حقیقی تاریخ، مذہبی تصورِکائنات، سماجی ادارے، سیاسی تجربات اور بدلتی ہوئی ثقافتی زندگی اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ ڈاکٹر محمد کاشف علی، جامعہ گجرات میں تاریخ کے استاد ہیں، کی کتاب Kalasha: Sole Non-Muslim Indigenous People of Pakistan اسی علمی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ اور جامع کوشش ہے۔
وینگارڈ بکس، لاہور سے 2026ء میں شائع ہونے والی یہ کتاب ڈاکٹر محمد کاشف علی کے ایک طویل علمی اور تحقیقی سفر کا حاصل ہے۔ مصنف نے کالاشہ سے متعلق باقاعدہ مطالعے کا آغاز 2004–2005ء میں کیا، جب کہ کالاشہ وادیوں کا ان کا پہلا عملی و تحقیقی دورہ 2007ء میں ہوا۔
اس کے بعد وہ وقفے وقفے سے ان وادیوں میں جاتے، مقامی لوگوں سے مکالمہ کرتے اور ان کی مذہبی، سماجی اور ثقافتی زندگی کا مشاہدہ کرتے رہے۔ یوں یہ کتاب محض کتب خانوں میں بیٹھ کر مرتب کی گئی تاریخ نہیں بلکہ تقریباً دو دہائیوں پر محیط مطالعے، مسلسل فیلڈ ورک، مقامی روایات، شخصی مشاہدات اور کالاشہ برادری کے ساتھ قائم ہونے والے اعتماد کا نتیجہ ہے۔
یہ طویل وابستگی مصنف کو ایک عارضی بیرونی مبصر سے آگے بڑھا کر ایسے شریکِ مشاہد کی حیثیت دیتی ہے جو کالاشہ معاشرے کو اس کے اپنے تاریخی اور ثقافتی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ڈاکٹر محمد کاشف علی کا بنیادی میدان تاریخ ہے، لیکن اس کتاب میں انہوں نے تاریخی طریقِ تحقیق کو بشریاتی مشاہدے، زبانی روایات اور مقامی ثقافتی علم کے ساتھ مربوط کیا ہے۔ اسی بین العلومی طرزِمطالعہ کی وجہ سے کتاب میں کالاشہ تاریخ صرف حکم رانوں، جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ مذہب، معاشرت، رسومات، فنِ تعمیر، معیشت، جنس، لباس، تہواروں اور روزمرہ زندگی کو بھی تاریخی مطالعے کا حصہ بنایا گیا ہے۔
کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے اور اس کی ترتیب میں تاریخی تسلسل اور موضوعاتی وسعت دونوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ابتدا کالاشہ کے جغرافیے، آبادی اور سماجی تعارف سے ہوتی ہے، جس کے بعد ان کے نسلی اور تاریخی ماخذ سے متعلق مختلف نظریات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
کالاشہ کے بارے میں سب سے زیادہ مقبول تصور یہ ہے کہ وہ سکندرِاعظم کے لشکر کی باقیات ہیں، مگر ڈاکٹر محمد کاشف علی اس روایت کو محض اس کی رومانوی کشش کی بنیاد پر قبول نہیں کرتے۔ وہ تاریخی روایات، لسانی شواہد، مذہبی تصورات، مقامی حافظے اور جدید جینیاتی مطالعات کی روشنی میں اس مفروضے سمیت مختلف نظریات کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس طرح کالاشہ کی اصل کا سوال ایک سادہ اور سنسنی خیز دعوے کے بجائے ایک پیچیدہ تاریخی مسئلے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
مصنف نے کالاشہ کو وسیع تر ہندوکش، داردستان اور ہند آریائی تہذیبی روایت کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ زاویہ اس لیے اہم ہے کہ کالاشہ کی شناخت کو صرف یونانی نسبت کے ذریعے بیان کرنے سے ان کے مقامی تاریخی ارتقا، زبان، مذہبی روایت اور ہمسایہ اقوام کے ساتھ صدیوں پر محیط تعلقات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ کتاب اس مقبول بیانیے سے آگے بڑھ کر کالاشہ کی اپنی روایات اور ان کے علاقائی تاریخی تعلقات کو اہمیت دیتی ہے۔
کتاب کا ایک نمایاں حصہ کالاشہ کی سیاسی تاریخ سے متعلق ہے۔ عام طور پر انہیں ایک ایسی الگ تھلگ برادری سمجھا جاتا ہے جو صدیوں سے چند دشوار گزار وادیوں تک محدود رہی، لیکن مصنف کالاشہ روایات اور دست یاب تاریخی مواد کی مدد سے اس تصور پر نظرثانی کرتے ہیں۔ وہ اس دور کا جائزہ لیتے ہیں جب کالاشہ اقتدار اور آبادی کا دائرہ موجودہ تین وادیوں سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ راجہ وائی اور بُلا سنگ جیسے تاریخی اور روایتی کرداروں کے ذریعے کالاشہ کی ماضی کی سیاسی قوت، علاقائی موجودگی اور اجتماعی حافظے کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس کے بعد رئیس اور کٹور حکمرانوں کے ادوار میں کالاشہ برادری کی بدلتی ہوئی حیثیت کا جائزہ سامنے آتا ہے۔ مسلم سیاسی اقتدار کی توسیع، مذہبی تبدیلی، آبادی کی پسپائی اور بالآخر چترال پر برطانوی اثرورسوخ نے کالاشہ کی سیاسی اور جغرافیائی دنیا کو بتدریج تبدیل کیا۔ اس بحث کی اہمیت یہ ہے کہ مصنف کالاشہ کو تاریخ سے باہر موجود کسی جامد قبیلے کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ انہیں چترال اور وسیع تر ہندوکش میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والی ایک فعال تاریخی برادری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کالاشہ کی موجودہ جغرافیائی محدودیت کو ان کی ازلی حالت سمجھنے کے بجائے اسے تاریخی تغیرات کے نتیجے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد کالاشہ کی تاریخ پر مشتمل باب کتاب کی ایک اور اہم جہت ہے۔ اس میں ابتدائی بعد از نوآبادیاتی زمانے سے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کالاشہ کو حاصل ہونے والی ریاستی شناخت، جنرل ضیاء الحق کے عہد کی مذہبی و سماجی فضا اور نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتِ حال تک مختلف مراحل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سرحد پار شدت پسندی، طالبان کے خطرات، مذہبی کشیدگی، ریاستی پالیسیوں، تعلیم، روزگار اور سیاحت نے کالاشہ زندگی کو مختلف انداز میں متاثر کیا۔ یوں کتاب مقامی تاریخ کو پاکستان اور خطے کی بڑی سیاسی تبدیلیوں سے مربوط کردیتی ہے۔
کتاب کا سب سے وسیع اور دل چسپ حصہ کالاشہ مذہب، معاشرت اور ثقافت کے مطالعے پر مشتمل ہے۔ کالاشہ زبان، دیوی دیوتاؤں کے نظام، مذہبی تصورات، تہواروں، پیدائش، شادی اور موت کی رسومات، روایتی لباس، طرزِتعمیر اور زرعی و گلہ بانی معیشت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان موضوعات کو محض عجیب و غریب رسوم کی فہرست کے طور پر بیان نہیں کیا گیا بلکہ انہیں کالاشہ کے مجموعی تصورِکائنات، اجتماعی حافظے اور سماجی تنظیم کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ یہی طرزِمطالعہ کتاب کو عام سیاحتی یا تعارفی لٹریچر سے ممتاز کرتا ہے۔
کالاشہ تہواروں کو بھی محض تفریح، رقص یا سیاحتی مظاہرے کے طور پر نہیں دیکھا گیا۔ مصنف ان تہواروں کے مذہبی، زرعی، موسمی اور سماجی مفاہیم کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ کالاشہ تہوار ان کے تصورِوقت، موسموں کی تبدیلی، زرعی سرگرمیوں، دیوی دیوتاؤں، آبائی روایات اور اجتماعی شناخت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح پیدائش، شادی اور موت کی رسومات کالاشہ معاشرت کے اندر فرد، خاندان، قبیلے اور برادری کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔
کالاشہ عورتوں کے مخصوص گھر بشالی پر قائم مستقل باب بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ بیرونی دنیا میں بشالی کو عموماً صرف عورت کی علیحدگی یا مذہبی ناپاکی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن مصنف اس ادارے کے تاریخی ارتقا، طرزِتعمیر، ثقافتی معنویت اور کالاشہ کے پاکیزگی اور ناپاکی سے متعلق بنیادی تصورات کی روشنی میں اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ عورتوں کی باہمی سماجیت اور ان کے تجربات میں بشالی کے کردار کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ بحث اس ادارے کو نہ تو غیرتنقیدی انداز میں مثالی بناتی ہے اور نہ ہی محض خارجی پیمانوں پر مسترد کرتی ہے بلکہ اسے کالاشہ مذہبی اور معاشرتی نظام کے اندر رکھ کر سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
کالاشہ کی تاریخی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے اسلامائزیشن کے عمل پر مشتمل باب نہایت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ مصنف جنجریت کوہ، کالکٹک، سویر، شیشی کوہ، اْرسون اور دمیل سمیت ان ذیلی وادیوں کا جائزہ لیتے ہیں جو کبھی کالاشہ مذہب و ثقافت کے دائرے میں شامل تھی، مگر مختلف ادوار میں وہاں کے کالاشہ باشندے مسلمان ہوگئے۔ اس تاریخی پس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کالاشہ آبادی کا بمبوریت، رمبور اور بریر تک محدود ہونا کوئی ازلی جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ کئی صدیوں پر محیط سیاسی، مذہبی اور آبادیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
اسلامائزیشن کا یہ مطالعہ محض تبدیلیٔ مذہب کے انفرادی واقعات کی تفصیل نہیں بلکہ کالاشہ آبادی کے بتدریج جغرافیائی سکڑاؤ کی تاریخ بھی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی تبدیلی کے ساتھ زمین، آبادی، سماجی تعلقات، مقامی اقتدار اور ثقافتی اداروں کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی گئی۔ یوں مصنف نے مذہبی تبدیلی کو کالاشہ کی مجموعی تاریخی صورتِ حال کے ساتھ مربوط کرکے دیکھا ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں ان ثقافتی اداروں اور روایات پر توجہ دی گئی ہے جو یا تو ختم ہوچکی ہیں یا تیزی سے زوال پذیر ہیں۔ بُڈالک، گنڈاؤ، گندوریک، منڈاؤجاؤ، بیرامور اور دیہار جیسے اداروں کا مطالعہ اس کتاب کو ایک اہم دستاویزی حیثیت عطا کرتا ہے۔ خصوصاً کالاشہ کاہن یعنی دیہار کے زوال کی بحث مذہبی تجربے، پیش گوئی، علاج، مقدس مقامات اور اجتماعی حافظے کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان روایات کی دستاویز بندی اس لیے بھی اہم ہے کہ آئندہ نسلوں کے لیے ان میں سے بعض ادارے شاید صرف تاریخی تحریروں، تصاویر اور بزرگوں کی یادداشتوں ہی میں باقی رہ جائیں۔
بُڈالک جیسے معدوم سماجی ادارے، تدفین کے مقامات اور رسوم، جنازوں سے وابستہ مجسمے، دعوتِ فضیلت بیرامور، روایتی اونی ثقافت اور دیہار کا زوال اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ثقافتی تبدیلی صرف چند ظاہری رسومات کے خاتمے کا نام نہیں۔ ہر ادارے کے ساتھ علم، عقیدہ، ہنر، معاشرتی تعلقات اور اجتماعی یادداشت کا ایک پورا سلسلہ وابستہ ہوتا ہے۔ جب کوئی ادارہ ختم ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک مخصوص طرزِفکر اور دنیا کو سمجھنے کا ایک طریقہ بھی کم زور پڑجاتا ہے۔
کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی وسعت ہے۔ اس میں تاریخ، مذہب، سیاست، معاشرت، زبان، رسومات، صنفی اداروں، فنِ تعمیر، معیشت، تبدیلیٔ مذہب اور ثقافتی زوال جیسے متعدد موضوعات یکجا ہوگئے ہیں۔ یہی وسعت بعض مقامات پر ایک علمی چیلنج بھی بن سکتی ہے، کیونکہ ان میں سے کئی موضوعات بذاتِ خود مستقل کتابوں کے متقاضی ہیں۔ تاہم ایک جامع بنیادی مطالعے کے طور پر یہ وسعت کتاب کی افادیت کو بڑھاتی ہے اور قاری کو کالاشہ زندگی کی مختلف جہتوں کے درمیان تعلق دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اس کتاب کی ایک اور اہم خوبی مقامی آوازوں اور زبانی روایات کی شمولیت ہے۔ کالاشہ کے بارے میں زیادہ تر ابتدائی علمی مواد بیرونی سیاحوں، نوآبادیاتی اہل کاروں، مشنریوں اور ماہرینِ بشریات نے مرتب کیا تھا۔ ان تحریروں کی اپنی اہمیت کے باوجود مقامی لوگوں کے تاریخی حافظے اور داخلی نقطۂ نظر کو ہمیشہ مناسب نمائندگی نہیں مل سکی۔ ڈاکٹر محمد کاشف علی نے تحریری ماخذ کے ساتھ مقامی روایت اور فیلڈ ورک کو شامل کرکے اس عدم توازن کو کسی حد تک دور کرنے کی کوشش کی ہے۔
مصنف کے سامنے بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ کالاشہ ثقافت اب تک کیسے قائم رہی بلکہ یہ بھی ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں اس کی بقا کس صورت میں ممکن ہے۔ ثقافتی تحفظ کا مطلب کسی زندہ انسانی برادری کو ماضی کے عجائب گھر میں منجمد کردینا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا ہے، لیکن رضاکارانہ اور فطری تبدیلی کو معاشی محرومی، زمین سے بے دخلی، مذہبی دباؤ، غیرمنظم سیاحت اور ثقافتی علم کی ترسیل میں رکاوٹ سے پیدا ہونے والی تبدیلی سے الگ کرکے دیکھنا ضروری ہے۔ کتاب کا اصل فکری وزن اسی مقام پر سامنے آتا ہے جہاں یہ روایت، جدیدیت، بقا اور انجذاب کے درمیان جاری کشمکش کو نمایاں کرتی ہے۔
سیاحت نے ایک طرف کالاشہ قبیلے کو قومی اور عالمی سطح پر شناخت دی ہے، مگر دوسری طرف ان کی ثقافت کو ایک تماشے یا نمائشی شے میں تبدیل کرنے کا خطرہ بھی پیدا کیا ہے۔ کالاشہ تہواروں، لباس اور مذہبی مقامات کو محض سیاحتی کشش سمجھنے کے بجائے ان کی روحانی اور سماجی معنویت کا احترام ضروری ہے۔ کتاب بالواسطہ طور پر اس ذمہ دارانہ طرزِسیاحت کی ضرورت بھی واضح کرتی ہے جو مقامی برادری کے وقار، مذہبی حدود اور ثقافتی اختیار کو مقدم رکھے۔
کالاشہ: پاکستان کے واحد غیر مسلم مقامی باشندے محض ایک منفرد پہاڑی برادری کا تعارف نہیں بلکہ چترال، ہندوکش اور پاکستان کی ثقافتی تاریخ میں ایک اہم علمی اضافہ ہے۔ یہ کتاب کالاشہ کو کسی پراسرار، منجمد یا معدوم ہوتی ہوئی قدیم نسل کے بجائے ایک زندہ انسانی برادری کے طور پر پیش کرتی ہے، ایسی برادری جو اپنے تاریخی حافظے، مذہبی تصورات اور ثقافتی شناخت کے ساتھ موجودہ زمانے کے پیچیدہ دباؤ کا سامنا کررہی ہے۔
یہ تصنیف مورخین، ماہرینِ بشریات، مذاہب کے محققین، ورثہ و سیاحت سے وابستہ ماہرین، پالیسی سازوں، طلبہ اور پاکستان کے ثقافتی تنوع میں دل چسپی رکھنے والے عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی۔ یہ کالاشہ سے متعلق پہلے سے موجود علمی مواد میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ تحقیق کے لیے نئے سوالات بھی پیدا کرتی ہے۔ بالخصوص کالاشہ کی سیاسی تاریخ، سابق کالاشہ وادیوں کی اسلامائزیشن، خواتین کے ثقافتی اداروں، مذہبی قیادت اور زوال پذیر روایات سے متعلق اس کے مباحث مزید تحقیق کے امکانات روشن کرتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر، یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کالاشہ محض سیاحتی تصویروں، رنگین تہواروں یا سکندرِاعظم سے وابستہ کسی دل کش داستان کا نام نہیں۔ وہ اپنی تاریخ، مذہب، سماجی اداروں، داخلی آوازوں اور مستقبل کے حق کے ساتھ ایک زندہ تہذیبی برادری ہیں۔ ڈاکٹر محمد کاشف علی کی یہ کتاب اسی زندہ تہذیب کو اس کے تاریخی وقار اور انسانی معنویت کے ساتھ سمجھنے کی ایک قابلِ قدر، جامع اور بروقت علمی کوشش ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل