Tuesday, September 22, 2026
 

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا مرحلہ

 



دہشت گردی جب سرحد پار سے راستہ پاتی ہے تو اسے روکنے کے لیے صرف سرحد پر پہرہ کافی نہیں رہتا۔ پھر ریاست کو ان راستوں اور ٹھکانوں تک پہنچنا پڑتا ہے جہاں حملے کا منصوبہ بنتا ہے، خودکش بمبار تیار ہوتے ہیں، اسلحہ جمع ہوتا ہے اور سہولت کاری کا پورا نظام خاموشی سے کام کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں کوہاٹ، ہنگو اور تھل کے بعد افغانستان سے متصل علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں اسی بدلتی ہوئی صورتحال کی عکاس ہیں۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 37 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جن میں نو دہشت گرد کوہاٹ اور ہنگو کے انٹیلی جنس بیسڈ گراؤنڈ آپریشن میں مارے گئے جب کہ افغانستان سے ملحق علاقے میں تین ٹھکانوں کی تباہی کے دوران 28 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ محض ایک کارروائی کا حساب نہیں، بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب حملہ ہونے کے بعد جواب دینے سے آگے بڑھ کر حملے کے ماخذ تک پہنچنے کا تقاضا کرتی ہے۔ حالیہ کارروائیوں کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ ان کا بنیادی انحصار انٹیلی جنس اطلاعات پر بتایا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی موثر مہم میں گولی آخری مرحلہ ہوتی ہے، اصل جنگ معلومات، نگرانی، شناخت اور بروقت فیصلے کے میدان میں لڑی جاتی ہے، اگر ریاست کو کسی گروہ کے ٹھکانے، نقل و حرکت، تربیتی مراکز، اسلحہ گاہوں اور رابطہ کاری کے نظام کا درست علم ہو تو دہشت گردوں کو میدان میں آنے سے پہلے روکا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس محض ردعمل کی کارروائیاں ہمیشہ مہنگی پڑتی ہیں، کیونکہ اس وقت تک دہشت گرد اپنا مقصد حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوہاٹ اور ہنگو میں کارروائی کے ساتھ افغانستان کے سرحدی علاقے میں تربیتی مرکز سمیت تین اہداف کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع معمولی پیش رفت نہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق ان مقامات پر خودکش بمباروں کی تربیت اور دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والا انفراسٹرکچر موجود تھا۔ یہ معاملہ محض چند مسلح افراد کا نہیں بلکہ ایک ایسے منظم ڈھانچے کا ہے جس کے خلاف کارروائی کو مسلسل اور مربوط رکھنا ہوگا۔تاہم یہاں ایک بنیادی نقطہ ملحوظ رہنا چاہیے۔ دہشت گردوں کو مارنا اور دہشت گردی کو ختم کرنا ایک ہی بات نہیں۔ پہلی کارروائی فوری نتیجہ دیتی ہے، دوسری کے لیے طویل المدت حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ ایک کی کامیابی میدان میں دکھائی دیتی ہے، دوسری کی کامیابی بازار، اسکول، سڑک اور گھر میں محسوس ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایک کارروائی میں کتنے دہشت گرد مارے گئے،اصل سوال یہ ہے کہ ان کے بعد وہ خلا کون پُر کرے گا، ان کے رابطے کہاں جائیں گے، ان کی مالی معاونت کیسے رکے گی اور ان کے سہولت کار دوبارہ نیٹ ورک قائم کرنے سے کیسے روکے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا کے حالیہ واقعات اس سوال کو مزید سنگین بناتے ہیں۔ دہشت گردوں نے اگرچہ سیکیورٹی تنصیبات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا، مگر اس کا اثر براہ راست عام شہری کی زندگی پر پڑا۔ دہشت گردی کا ہر واقعہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کے ساتھ معاشی سرگرمی، تعلیم، نقل و حرکت اور سماجی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک بم دھماکا صرف چند جانیں نہیں لیتا، وہ پورے معاشرے میں خوف کی ایک طویل لہر پیدا کرتا ہے۔ اس خوف کو ختم کرنا بھی انسدادِ دہشت گردی کی کامیابی کا حصہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے لیے سب سے پیچیدہ پہلو افغانستان کا محاذ ہے۔ دہشت گردی کا ایک اہم ذریعہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ اور ان کے مراکز ہیں۔ دہشت گردی کی موجودگی اگر واقعی سرحد پار مسئلہ بن چکی ہے تو اس کا جواب بھی سرحدی سیاست سے آگے بڑھ کر دینا ہوگا۔پاکستان کو ایک طرف اپنی سرزمین کے دفاع میں کوئی ابہام نہیں رکھنا چاہیے، دوسری طرف ہر سرحد پار کارروائی کو وسیع تر علاقائی تصادم کا دروازہ بننے سے روکنا بھی ضروری ہے۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں عسکری ضرورت اور سفارتی حکمت ِ عملی ایک دوسرے سے جڑتی ہیں، اگر افغانستان میں موجود کسی مرکز سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی ہورہی ہے تو اس خطرے کو نظرانداز کرنا قومی سلامتی سے غفلت ہوگی۔ افغانستان کے ساتھ واضح، مسلسل اور نتیجہ خیز سفارتی رابطہ ضروری ہے۔ مطالبہ سادہ ہونا چاہیے، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اس مطالبے کے ساتھ شواہد، مخصوص معلومات اور قابلِ تصدیق اقدامات بھی ہونے چاہییں۔ محض بیانات سے نہ سرحد محفوظ ہوتی ہے نہ دہشت گردی ختم ہوتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں پاکستان کو یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی ہوگی کہ افغانستان کی سرحد کو فول پروف بنانے کے لیے مزید کیا کیا اقدامات ضروری ہیں ۔ سرحدی علاقوں میں تجارت، آمدورفت، قانونی گزرگاہوں اور مقامی آبادی کی معاشی ضروریات کو سیکیورٹی پالیسی کے ساتھ متوازن رکھنا ہوگا۔ موثر سرحد وہ ہے جہاں غیر قانونی نقل و حرکت رک جائے مگر قانونی معاشی سرگرمی کے لیے واضح اور منظم راستے موجود رہیں۔ افغانستان کی رجیم کی پالیسی واضع ہے۔ وہ عوام کی نمائیندہ نہیں ہے، وہ لسانی و قبائلی رشتوں کو لے کر پراپگینڈا مہم چلا رہی ہے، پاکستان کے علاقوں میں رہنے والے قبائل اور عوام کو افغان بنانے کا سلسلہ انگریز اقتدار سے شروع ہوا ہے، یوں ڈیڑھ صدی سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس کا مقابلہ کرنا بھی انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔یہاں پولیس اور سول اداروں کو بھی قومی حکمت عملی کے مرکز میں لانا ہوگا۔ دہشت گردی کا پہلا دھچکا اکثر پولیس کو برداشت کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ شہری زندگی کے سب سے قریب موجود ریاستی ادارہ ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم محکموں کی استعداد، فرانزک سہولتیں، ڈیجیٹل نگرانی، مقامی انٹیلی جنس اور مقدمات کی موثر پیروی کے بغیر عسکری کامیابی مستقل نتیجے میں تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ایک دہشت گرد مارا جاتا ہے، دوسرا پیدا ہوجاتا ہے، اس سلسلے کو توڑنے کے لیے صرف بندوق نہیں، قانون اور ادارہ جاتی صلاحیت بھی درکار ہے۔اسی طرح دہشت گردی کے مالی پہلو کو نظرانداز کرنا بھی بڑی غلطی ہوگی۔ مسلح تنظیمیں صرف نظریے پر نہیں چلتیں۔ انھیں پیسہ، نقل و حرکت، رہائش، اسلحہ، مواصلات اور سہولت کار درکار ہوتے ہیں، اگر ریاست ان عناصر کو نشانہ نہیں بناتی تو دہشت گردی کی تنظیمی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ مالیاتی نیٹ ورک توڑنا، غیر قانونی اسلحے کی ترسیل روکنا اور سہولت کاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا کسی بھی جامع انسدادِ دہشت گردی پالیسی کے بنیادی اجزا ہونے چاہییں۔’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت جاری مہم کے لیے بھی یہی امتحان ہے۔ اس مہم کو محض کارروائیوں کی ایک مسلسل فہرست نہیں بننا چاہیے۔ قوم کو ایک واضح حکمت عملی درکار ہے جس میں یہ بتایا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اگلا مرحلہ کیا ہے، اداروں کے درمیان رابطہ کیسے بڑھے گا، سرحدی نگرانی کس طرح مضبوط ہوگی، متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کی گرفت کیسے بحال ہوگی اور دہشت گردی کے مقدمات کو منطقی انجام تک کیسے پہنچایا جائے گا۔ کامیابی کا پیمانہ بھی وسیع ہونا چاہیے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اہم ہے، مگر روکے گئے حملے، محفوظ شہری، کم ہوتی بھتہ خوری، ٹوٹتے مالی نیٹ ورک اور بحال ہوتی معمول کی زندگی اس سے کہیں زیادہ معنی رکھتی ہے۔خیبر پختونخوا کو صرف سیکیورٹی آپریشنز کے نقشے پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ یہ ایک زندہ معاشرہ ہے جس کے شہری طویل عرصے سے دہشت گردی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ریاست اگر ان علاقوں میں مستقل امن چاہتی ہے تو سیکیورٹی کے بعد ترقی، تعلیم، روزگار، صحت اور انتظامی انصاف کو بھی وہاں پہنچانا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار وہ شہری بناتا ہے جسے ریاست پر اعتماد ہو، جس کے پاس روزگار ہو، جس کے بچے اسکول جاتے ہوں اور جسے معلوم ہو کہ شکایت کی صورت میں قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔37 دہشت گردوں کی ہلاکت یقینا ایک اہم عسکری نتیجہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے باب میں اعداد کبھی آخری سطر نہیں ہوتے۔ اصل حساب اس وقت ہوگا جب دہشت گردوں کے تربیتی مراکز دوبارہ آباد نہ ہوں، حملہ آوروں کے سہولت کار محفوظ نہ رہیں، سرحد پار نیٹ ورک پاکستان کے اندر راستے نہ بنا سکیں اور خیبر پختونخوا کے شہری خوف کے بجائے معمول کی زندگی کو اپنا مقدر سمجھ سکیں۔پاکستان کو اس مرحلے پر دو غلطیوں سے بچنا ہوگا۔ ایک غفلت، دوسری جذباتیت۔ غفلت دہشت گردی کو موقع دے گی اور جذباتیت اسے ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں بدل سکتی ہے۔ ضرورت تیسرے راستے کی ہے ۔ موثر انٹیلی جنس، محدود اور درست عسکری کارروائی، مضبوط داخلی قانون، سخت مالیاتی نگرانی اور مسلسل سفارت کاری۔دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ وہ نہیں جو سب سے زیادہ شور پیدا کرے، فیصلہ کن جنگ وہ ہے جو دہشت گرد کو منصوبہ بنانے، سرحد عبور کرنے، سہولت حاصل کرنے اور شہری تک پہنچنے سے پہلے روک دے۔ ریاست کو اب اسی سطح کی جنگ لڑنی ہے، اگر حالیہ کارروائیاں اس جامع حکمت عملی کی ابتدا ہیں تو انھیں تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور سیاسی عزم کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا، کیونکہ امن صرف دشمن کے ٹھکانے تباہ کرنے سے نہیں آتا، امن اس وقت قائم ہوتا ہے ،جب دشمن کے لیے دوبارہ جگہ بنانا ممکن نہ رہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل