Tuesday, September 22, 2026
 

پولیس کی ناکامیاں

 



پیپلز پارٹی، (ن) لیگ، جے یو آئی و دیگر پارٹیاں جمہوری کہلاتی ہیں مگر عملاً ایسا نہیں سب اپنے سربراہ کی مکمل گرفت میں ہیں اور ان کی پارٹیوں کی سربراہی بھی خاندانوں ہی میں رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے قیام کو 59 برس گزرچکے، بھٹو صاحب بانی تھے، جن کے بعد ان کی اہلیہ اور بیٹی کو سربراہی ملی اور اب بلاول بھٹو چیئرمین ہیں اور صدر آصف علی زرداری شریک چیئرمین ہیں۔ مسلم لیگ (ن) خود میاں نواز شریف نے مسلم لیگ میں گروپنگ پر بنائی تھی، مسلم لیگ ہی میں جونیجو، چٹھہ، فنکشنل، ق لیگ و دیگر گروپ بھی بنے۔ سب مسلم لیگیں خاندانی پارٹیاں ہیں۔ جے یو آئی ہند سے جے یو آئی پاکستان بنی تھی جس کے سیکریٹری جنرل مولانا مفتی تھے جن کے سربراہ بننے کے بعد سے قیادت مولانا فضل الرحمن کے پاس ہے، جن سے اختلاف کے باعث جے یو آئی سمیع الحق اور نظریاتی بھی بنیں ۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے بھائی بیٹوں کے سوا کسی کو قابل نہیں سمجھا اور ہر بار بلامقابلہ منتخب ہو جاتے ہیں۔  جماعت اسلامی نے 1987 میں جنرل ضیا الحق کے کرائے گئے بلدیاتی الیکشن میں اپنے ہی سابق میئر عبدالستار افغانی کو لیبر نشست پر منتخب کرایا تھا مگر وہ ہارے نہیں تھے اور امیر بھی نہیں تھے، جن کی اچھی کارکردگی کی قدر کرتے ہوئے دوبارہ میئر کے عہدے کا حق دیا گیا تھا۔ کارکردگی کی قدر کی کسی اور پارٹی میں مثال نہیں ملتی مگر اکثر پارٹیوں میں سینیٹ الیکشن میں اس کی دولت کے باعث دوبارہ سینیٹر منتخب کرائے جانے کی مثالیں ضرور موجود ہیں مگر دوبارہ منتخب ہونے والے میئر کراچی کا تعلق لیاری اور متوسط طبقے سے تھا۔ جماعت اسلامی میں کسی دولتمند کو امیر منتخب کرنے یا دوبارہ نوازنے کی مثال موجود نہیں۔ جماعت اسلامی میں مرکزی سربراہ اپنی کارکردگی پر ضرور دوبارہ منتخب ہوئے مگر جماعت میں امیر کے لیے دکھاوے کا نہیں خفیہ رائے شماری سے انتخاب ہوتا ہے جہاں خود کوئی عہدے کا امیدوار نہیں ہوتا نہ مرکزی امیر مطلق العنان ہوتا ہے کہ من مانی سے فیصلے کرے اور اس کے ہر فیصلے کو جماعت میں تسلیم کیا جائے کیونکہ امیر منتخب کیا جاتا ہے اور پارٹی قوانین کے مطابق چلتا ہے جہاں کوئی موروثیت نہیں ہوتی جیسا دیگر تمام پارٹیوں میں ہوتا آ رہا ہے اور ہر پارٹی اس کے سربراہ کی میراث ہے اور وہی ہر الیکشن میں دوبارہ بلامقابلہ منتخب کر لیا جاتا ہے۔ سیاست میں موروثیت کے سخت مخالف بانی پی ٹی آئی نے اپنی گرفتاری کے بعد بظاہر بیرسٹر گوہر کو اپنی جگہ چیئرمین بنا رکھا ہے مگر عملاً پی ٹی آئی ان کی بہنوں کے کنٹرول میں ہے جب کہ ان کے بیٹے باہر بیٹھ کر بانی پی ٹی آئی کے حق میں مہم چلارہے ہیں۔  محمد خان جونیجو کے نام سے مسلم لیگ جونیجو گروپ بنی ، اسی دور میں (ن) لیگ نواز شریف نے بنائی تھی۔ مسلم لیگ (قائد اعظم)جنرل پرویز نے بنوائی تھی۔ چٹھہ لیگ، وٹو لیگ ختم ہو چکیں، فنکشنل لیگ پیر پگاڑا کی وفات کے بعد سکڑ کر برائے نام رہ گئی اور موجودہ پیر پگاڑا کے ذریعے سندھ میں سیاست کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (ق) پارلیمانی سیاست میں پنجاب تک رہ گئی۔ ولی خان نے اے این پی بنائی تھی جس کی سربراہی ان کے بیٹے کے بعد پوتے ایمل ولی کے پاس ہے۔ اور نام کی پارٹی رہ گئی ہے۔ مولانا شاہ احمد نورانی کی جے یو پی ، ان کے بعد سے مختلف گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ بانی ایم کیو ایم کی جلاوطنی کے بعد بھی ایم کیو ایم کی 2015 تک اہمیت رہی پھر ایم کیو ایم پاکستان بن کر شناخت بنائی، قیادت کے مسئلے پر فاروق ستار اور پھر مصطفیٰ کمال نے پی ایس پی بنائی تھی پھر تینوں دھڑے ایک ہوئے مگر قیادت کے حصول کی کوشش اب بھی چل رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل