Friday, September 25, 2026
 

پاسبان ریمٹنس ریوارڈز اسکیم کا یکم اکتوبر سے آغاز، پہلی قرعہ اندازی جنوری 2027 میں ہوگی

 



گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاسبان ریمٹنس ریوارڈز اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترسیلات سے متعلق حکومت کی سابقہ اسکیم میں حکومت سبسڈی مہیا کرتی تھی، جبکہ سوہنی دھرتی ترسیلات پروگرام میں ترسیلات بھیجنے والوں کو حکومتی محکموں سے رعایت ملتی تھی۔ یکم جولائی سے یہ اسکیم ختم کردی گئی، اب بینکوں کے اشتراک سے نئی اسکیم لارہے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2022 میں بلند ترین افراط زر جیسے مسئلے کا سامنا تھا، دوسرا بڑا مسئلہ بیرونی ادائیگیوں کا عدم توازن تھا۔ بیرونی ادائیگیوں کے شدید دباؤ کی وجہ سے واجبات 90 ارب ڈالر جبکہ وصولیاں 72 ارب ڈالر تھیں اور 18 ارب ڈالر کا خسارہ درپیش تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر محدود ہونے کی وجہ سے اسٹیٹ بینک نے 8 ارب ڈالر مارکیٹ میں شامل کیے۔ جمیل احمد نے کہا کہ درآمدات پر پابندی لگانا پڑی اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی منتقلی روکنا پڑی۔ ان پابندیوں کی وجہ سے معیشت سست روی کا شکار ہوئی اور جی ڈی پی منفی ہوگئی۔ انفلوز اور فارن ایکسچینج کے ذرائع کو حکمت عملی کے تحت بڑھانے کے اقدامات کیے گئے اور انفلوز کو بڑھا کر بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا گیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ایکسپورٹ میں کوئی نمایاں بہتری نہیں ہوسکی اور ایکسپورٹ 32 ارب ڈالر تک ہی محدود ہے۔ ترسیلات زرمبادلہ کے حصول کا دوسرا بڑا ذریعہ ہیں، ترسیلات کو غیر قانونی راستوں سے قانونی ذرائع پر منتقل کیا گیا اور ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ ترسیلات 31 ارب ڈالر سے بڑھ کر 41 ارب ڈالر پر آگئیں۔ انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس پر توجہ مرکوز کرکے اسے مزید بہتر بنایا گیا، غیر ملکی رہائشی پاکستانیوں، سرمایہ کاروں اور کاروبار کو بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں شامل کیا گیا۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ماہانہ 100 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر ہونے سے پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال آؤٹ فلو 86 ارب ڈالر رہا، جبکہ 2022 میں انفلوز 71 ارب ڈالر سے بڑھ کر 83.5 ارب ڈالر ہوگئے۔ رواں مالی سال درآمدات 68 سے 72 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، درآمدات کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ کو بھاری خسارہ نہیں ہوگا۔ رواں مالی سال جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کی رینج میں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم سے نئے پراجیکٹ لگیں گے۔ ایکسپورٹ ری فنانس کا حجم 500 ارب روپے بڑھا کر 1500 ارب روپے کردیا گیا ہے، اس اسکیم کے تحت ایکسپورٹرز کو بینک اپنی جانب سے بھی رعایت دے رہے ہیں۔ رواں مالی سال شارٹ ٹرم فنانسنگ اسکیم کے تحت 4.5 فیصد شرح سود پر فنانسنگ فراہم کی جارہی ہے، جبکہ حکومت ایکسپورٹ بڑھانے پر ایک سے دو فیصد ریبیٹ بھی فراہم کرے گی۔ پاکستان ہائی کمیشن لندن میں انفلوز بڑھانے کے اقدامات سے پاکستانی کمیونٹی کو آگاہ کیا گیا۔ انفلوز میں ترسیلات کو اہمیت دی جارہی ہے۔ رواں مالی سال ترسیلات 44 ارب ڈالر سے زائد رہنے کی توقع ہے، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے اور آج کی اسکیم بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاسبان ترسیلات ریوارڈ اسکیم کے لیے 16 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، ہر سہ ماہی میں 4 ارب ڈالر کے سیکڑوں انعامات دیے جائیں گے۔ ترسیلات بھجوانے والے پاکستانیوں کے لیے خصوصی طور پر نئی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کو شفاف رکھنے کے لیے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر میکنزم بنایا گیا ہے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات کی یہ اسکیم مکمل طور پر آئی ٹی بیسڈ ہے۔ جتنی زیادہ ترسیلات بھجوائی جائیں گی، اتنے زیادہ انعامات حاصل کرنے کے امکانات بڑھیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسکیم کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں وطن سے محبت کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ اسکیم کا آغاز یکم اکتوبر سے ہوگا، جبکہ پہلی قرعہ اندازی جنوری 2027 میں ہوگی۔ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری کو ہوگی۔ اسکیم کے تحت پہلا انعام 10 کروڑ روپے، دوسرا انعام ڈھائی کروڑ روپے 20 خوش نصیب خاندانوں کو دیا جائے گا، ایک کروڑ روپے کے 100 انعامات جبکہ 10 لاکھ روپے کے چوتھے انعام کے 2400 خوش نصیب ہوں گے۔ انعامات میں خلیجی ریاستوں کے لیے 50 فیصد، برطانیہ سے آنے والی ترسیلات کے لیے 15 فیصد اور یورپ سے بھجوائی جانے والی ترسیلات کے لیے 15 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، جبکہ نارتھ امریکا اور متفرق ممالک سے بھیجی گئی ترسیلات کے لیے انعامات میں 10، 10 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ اسکیم میں شمولیت کے لیے مسلسل تین ماہ کم از کم 100 ڈالر ماہانہ ترسیلات بھیجنا ہوں گی۔ ہر 100 ڈالر پر قرعہ اندازی میں ایک انٹری ملے گی۔ 100 امریکی ڈالر یا کسی بھی کرنسی میں 100 ڈالر کے مساوی رقم ماہانہ تین ماہ تک بھیجنے پر انعامی اسکیم میں شامل ہوا جاسکے گا، جبکہ رقوم ایک ہی اکاؤنٹ میں بھیجنا ہوں گی۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معاشی بہتری کا عمل اب استحکام کی جانب جائے گا اور پائیدار معاشی ترقی کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل