Loading
دنیا کی بڑی طاقتیں جب کسی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسے معاہدے کا حوالہ دینے لگیں جس کا نام ایک نسبتاً چھوٹے مگر سفارتی طور پر متحرک ملک کے دارالحکومت سے جڑا ہو تو یہ محض سفارتی خبر نہیں رہتی، اس کے اندر عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے زاویے بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ آج اسلام آباد کے نام سے موسوم مفاہمتی یادداشت کا معاملہ اسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
پاکستان اور ایران اسے آگے بڑھانے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، جبکہ چین نے واشنگٹن اور تہران کو اسی مفاہمت کی طرف واپس آنے کی ضرورت پر زور دیا ہے-اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ دوسری طرف آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کشیدگی نے جنگ کو محض سرحدوں اور محاذوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ عالمی تجارت، توانائی، بحری نقل و حمل اور مہنگائی کے امکانات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی نیویارک میں ملاقات اسی پس منظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد آگے بڑھانے پر زور دیا، جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان کی سفارت کاری اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی ایران کے لیے پوری طرح قابل قبول ہے اور تہران اسے آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ سفارت کاری میں کسی مفاہمت کی اصل قدر اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے عملی امکان میں ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران میز پر رکھا ہوا ایک کاغذ اس وقت تک امن کا راستہ نہیں بنتا جب تک فریقین اسے اپنے مفادات کے ساتھ قابل قبول نہ سمجھیں۔ اسلام آباد مفاہمت کی موجودہ اہمیت یہی ہے کہ اس نے ایک ایسے مرحلے پر دوبارہ جگہ بنائی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست کشمکش نے پورے خطے کو غیر یقینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ چین کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں امریکا اور ایران کو اسی مفاہمت کی طرف واپس آنے کا مطالبہ اس امر کی علامت ہے کہ معاملہ اب صرف پاکستان اور ایران کے باہمی سفارتی دائرے تک محدود نہیں رہا۔
چین کا کردار بھی اس منظرنامے میں قابل توجہ ہے۔ بیجنگ پہلے ہی امریکا اور ایران سے تحمل، کشیدگی میں کمی اور اسلام آباد مفاہمت کی طرف واپسی پر زور دے چکا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی اس سے قبل دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسلام آباد مفاہمت کی طرف لوٹیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کریں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین نے خود کو کسی ایک فریق کے سیاسی موقف کا تابع کر دیا ہے، بلکہ اس کے اپنے معاشی اور تجارتی مفادات بھی اسے ایسے تصادم کے خاتمے کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں جو توانائی کی عالمی رسد اور سمندری تجارت کو متاثر کر رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کے مفادات جہاں ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں، وہیں بعض بحران ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں سب کے لیے تباہی کا راستہ مشترک بن جاتا ہے۔آبنائے ہرمز اس مشترک خطرے کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ دنیا کی توانائی کی تجارت کے لیے یہ بحری گزرگاہ محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی اہم شریان ہے۔
اس میں مسلسل کشیدگی نے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم کے مطابق موجودہ تنازع کے آغاز سے آبنائے ہرمز اور اس کے گرد تجارتی جہازوں پر کم از کم 80 حملوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں کم از کم 22 بحری کارکن ہلاک ہوئے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ معاملہ صرف خام تیل کی قیمت تک محدود نہیں، جہاز، بیمہ، مال برداری، سپلائی چین، بندرگاہیں اور بالآخر صارف تک پہنچنے والی ہر شے اس بحران کی زد میں آ سکتی ہے۔
اگر بحری راستوں، بندرگاہوں، تیل تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا تو مشرق وسطیٰ کی جنگ ایک ایسے معاشی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات خطے سے کہیں دور محسوس ہوں گے۔ فرانس کی جانب سے ینبع کے تحفظ کے لیے فوج اور دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان اور دیگر ممالک کی بڑھتی ہوئی حفاظتی سرگرمیاں بھی اس تشویش کی عکاس ہیں کہ تنازع کا جغرافیہ مسلسل پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اس خطرے کا معاشی اظہار ہے۔ برینٹ خام تیل 107.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی نمایاں اضافے کے ساتھ 96.28 ڈالر تک جا پہنچا۔ ایسے حالات میں دنیا کے مرکزی بینکوں کے لیے مہنگائی اور شرح سود کے درمیان توازن مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ توانائی مہنگی ہو تو نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے، نقل و حمل مہنگی ہو تو اشیائے ضرورت کی لاگت بڑھتی ہے اور لاگت میں اضافہ بالآخر عام آدمی کے بجٹ تک پہنچتا ہے۔ یوں ایک جغرافیائی تنازع عالمی معاشی اضطراب میں ڈھل جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس صورت حال کی معنویت دوہری ہے۔ ایک طرف وہ ایران کا ہمسایہ ہے، دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تاریخی، مذہبی، اقتصادی اور دفاعی روابط ہیں۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کے لیے سفارت کاری کا راستہ محض ایک خارجہ پالیسی کا انتخاب نہیں بلکہ قومی مفاد کی ضرورت بھی ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ مکہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں اور ایران کو اعتماد میں لیا گیا ہے، اسی توازن کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان اگر ایک جانب اپنے برادر ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھتا ہے اور دوسری جانب ایران کے ساتھ براہ راست رابطے کا دروازہ کھلا رکھتا ہے تو وہ خطے کے پیچیدہ تنازعات میں ایک ایسے رابطے کا کردار ادا کر سکتا ہے جس کی ضرورت جنگ کے ہر نئے مرحلے کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا کہ سیاسی اور عسکری قیادت مل کر امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گی، اسی جامع طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کردار کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان اپنی سفارتی کوششوں کو مستقل مزاجی، واضح ترجیحات اور تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے کے ساتھ کس حد تک آگے بڑھاتا ہے۔اس وقت دنیا کو ایسے بیانات سے زیادہ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو کشیدگی کو حقیقتاً کم کریں۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کا محفوظ گزر، باب المندب میں بحری سلامتی، تیل تنصیبات کا تحفظ، حملوں میں کمی اور براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا تسلسل وہ عملی اقدامات ہیں جو کسی بھی وسیع تر معاہدے کے لیے ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی بحری تنظیم بھی مسلسل خبردار کر رہی ہے کہ موجودہ حالات میں سمندری کارکنوں اور تجارتی جہازوں کو غیر معمولی خطرات لاحق ہیں۔ اسلام آباد کے لیے بھی یہی لمحہ سفارتی سرگرمی کو مستقل حکمت عملی میں بدلنے کا ہے، اگر پاکستان اپنے ہمسایہ ایران، خلیجی ممالک، چین، امریکا اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بیک وقت رابطے برقرار رکھ سکے تو اس کی سفارت کاری محض ثالثی کی خواہش نہیں رہے گی بلکہ بحران کو محدود رکھنے کا ایک عملی ذریعہ بن سکتی ہے۔
امن کی کوئی ضمانت پہلے سے موجود نہیں، مگر جنگ کے پھیلاؤ کی قیمت سب کے سامنے ہے۔ اس لیے اسلام آباد مفاہمت کی طرف واپسی کا مطالبہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں، یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جب جنگ سمندروں، بازاروں اور توانائی کے راستوں تک پہنچ جائے تو اس کا حل بھی کسی ایک دارالحکومت کے اختیار میں نہیں رہتا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کے شور میں مکالمے کی آواز دبنے نہ پائے۔ پاکستان نے اگر واقعی امن کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کا عزم کیا ہے تو اسے الفاظ سے آگے بڑھ کر رابطوں کو نتیجہ خیز بنانا ہوگا۔ ایران کا مفاہمت کو قبول کرنا، چین کا اس کی طرف واپسی پر زور دینا اور خطے کی مسلسل بگڑتی ہوئی سلامتی ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
جنگ جتنی پھیلتی جائے گی، مذاکرات کی ضرورت اتنی ہی ناگزیر ہوتی جائے گی۔ امن کا راستہ شاید مختصر نہ ہو، مگر اس راستے کی طرف پہلا قدم یہی ہے کہ فریقین دوبارہ ایک دوسرے سے بات کرنے پر آمادہ ہوں۔ اسلام آباد اس مرحلے پر ایک ایسے پل کا کردار ادا کر سکتا ہے جس کی اہمیت صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لیے ہے جہاں ایک میزائل کی پرواز چند لمحوں میں عالمی منڈیوں کے مزاج بدل دیتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل