Loading
سیاستدان کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کی وجہ سے صرف کراچی نہیں بلکہ پورا سندھ ہی تباہی کا شکار اور لاتعداد پریشانیوں اور مسائل میں گھرا ہوا ہے مگر ضروری ہے کہ سندھ پر مزید سیاست کرنے کی بجائے 18 سال سے سندھ پر حکومت کرنے والی پی پی حکومت پورے سندھ کے عوام اور صوبے کی بدترین حالت زار پر فوری توجہ دے اور سندھ کے مسائل پر کوئی احتجاج نہ ہونے دے۔
جے یو آئی کے ایک مرکزی رہنما نے کہا کہ جے یو آئی سندھ نے آئندہ سال مارچ میں سکھر میں ہونے والی تین روزہ عالمی کانفرنس کے لیے کراچی سمیت پورے سندھ میں عوامی رابطہ مہم شروع کر رکھی ہے جس کے دوران صرف کراچی نہیں پورے سندھ کی انتہائی بدترین صورت حال سامنے آئی ہے کہ پورا سندھ تباہی کا شکار ہے جس پر توجہ دینے کی بجائے سندھ حکومت نے بیڈ گورننس کرپشن اور لاقانونیت کے ریکارڈ قائم کر رکھے ہیں۔
سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں نے ہی نہیں بلکہ پکے کے سرکاری ڈاکوؤں نے بھی لوٹ مار کی انتہا کر رکھی ہے اور کوئی سرکاری کام رشوت کے بغیر نہیں ہو رہا۔ بدامنی سے عوام محفوظ نہیں۔ سرکاری ملازمتیں فروخت ہونا معمول اور کرپشن کی انتہا ہو چکی ہے سندھ اسمبلی میں تحریک التوا پر چار روزہ تقاریر میں کسی ایک رکن اسمبلی یا پارٹی نے سندھ کی تقسیم کی کوئی بات نہیں کی تھی بلکہ سندھ کے مسائل اور تباہ حالی، بیڈ گورننس، کرپشن سمیت ہر معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت کسی کو بھی قبول نہیں اور سندھ میں رہنے والے سندھ کو ماں کا درجہ دیتے اور سندھ کی سرزمین کو مقدس اور ناقابل تقسیم قرار دیا جا چکا ہے۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کی طرف سے کہا گیا کہ ہم بھی سندھ کو ماں کا درجہ دیتے ہیں جو ہمیں کھلا رہی ہے مگر سندھ حکومت اسی ماں کو 18 سالوں سے کھا رہی ہے جس کی وجہ سے سندھ لاتعداد مسائل کا شکار ہے ہمیں سب کومل کر سندھ دھرتی ماں کا احساس کرنا اور سندھ کے مسائل کے حل اور ترقی کا سوچنا ہوگا۔ سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے بعد سندھ کی تقسیم کا سوال ہی ختم ہو جانا چاہیے کیونکہ سندھ پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی پارلیمنٹ پر بھی واضح کر چکی ہے کہ سندھ کی تقسیم پر بات بھی نہ کی جائے۔
اس سلسلے میں پی پی قیادت بھی واضح کر چکی ہے جس کے بعد سندھ کی تقسیم پر سیاست ختم ہو جانی چاہیے تھی کیونکہ سندھ پر مسلسل برسر اقتدار پیپلز پارٹی، سندھ اسمبلی کی اپوزیشن جو عوام کی منتخب ہیں اور عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے سندھ کی وحدت پر کوئی بھی سمجھوتہ نہ کرنے کا واضح طور پر اعلان کر چکے ہیں جن کی موجودگی میں سندھ کی تقسیم کے انتہائی حساس معاملے پر سیاست کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔
پیپلز پارٹی اندرون سندھ کی منتخب سب سے بڑی پارٹی ہے اور ہر معاملے میں سندھ کے عوام کی مکمل ترجمانی کرتی آ رہی ہے جس سے کسی کو توقع نہیں کہ اس کی موجودگی میں کوئی سندھ کے مفاد کو متاثر بھی کر سکے گا مگر سندھ کی غیر منتخب قوم پرست چھوٹی سیاسی جماعتوں کو سندھ اسمبلی کی منظور کر دہ پانچویں قرارداد کے بعد بھی سندھ کی تقسیم کے مسئلے پر سیاست کرنے کا موقع ملا ہوا ہے اور وہ پیپلز پارٹی کی مخالفت میں سندھ میں اپنی سیاست زندہ رکھنے کا کوئی جواز ہے نہ وہ اندرون سندھ ایک کونسلر کی سیٹ جیتنے کی بھی سیاسی طاقت رکھتیں مگر وہ اب بھی اس مردہ ایشو پر ریلیاں نکال رہی ہیں اور مسلسل اعلانات کیے جا رہے ہیں، دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور لسانی اشتعال پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اندرون سندھ کی ان قوم پرست پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں کے پاس پیپلز پارٹی کی مخالفت میں سیاست کرنے کے لیے سندھ کے مسائل، صوبے میں کرپشن، بدامنی، بیڈ گورننس کے جواز موجود ہیں مگر سندھ کی تقسیم کو انتہائی حساس بنا کر مختلف قوم پرستوں کی طرف سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ سندھ کا بچہ بچہ نکل کر سندھ کا تحفظ کرے گا۔ سندھ کے وجود کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔
کوئی قوم پرست رہنما کہہ رہا ہے کہ سندھ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے خود ٹکڑے ہو جائیں گے کروڑوں لوگ بیدار ہو چکے ہیں جو سندھ کی وحدت پر آنچ نہیں آنے دیں گے سندھ کے مسائل پر پیپلز پارٹی سندھ کی تمام قوم پرست جماعتوں پر حاوی ہے جو کبھی ان کی دال نہیں گلنے دے گی مگر ان قوم پرست پارٹیوں کی سیاست صرف سندھ کی تقسیم پر چل رہی ہے جو پیپلز پارٹی سے خوفزدہ ہیں۔
سندھ میں اس وقت منشیات کا استعمال اور فروخت اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ اچھروتھر میں خشک سالی کے باعث مقامی باشندے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں جہاں متاثرہ علاقوں میں پینے کا پانی لوگوں کو میسر ہے نہ جانوروں کو چارہ، انھیں فوری ضروری امداد چاہیے۔ سندھ کی مختلف برادریوں کی طرف سے زیادتیوں پر احتجاج ہو رہے ہیں، کہیں نہری پانی کی قلت پر آبادگاروں کے دھرنے چل رہے ہیں۔ بدامنی، چوری ڈکیتیوں اور پولیس کے مظالم پر آواز اٹھ رہی ہے۔
بے روزگاری اور مہنگائی نے سندھ کے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے مگر پیپلز پارٹی کے بعد قوم پرستوں کی سیاست صرف سندھ کی تقسیم پر چل رہی ہے تاکہ لسانی کشیدگی بڑھنے سے ان کی سیاست چمک سکے۔ اندرون سندھ کے لاتعداد مسائل کے حل، عوام کو ضروریات کی فراہمی، تعلیم، صحت، مواصلاتی فقدان ختم کرنا سندھ حکومت کی اولین ذمے داری ہے مگر حکومت کی بے حسی ختم نہیں ہو رہی اور یہ سو فی صد درست ہے کہ پورا سندھ حکومت کی فوری توجہ اور اپنے مسائل کے حل کا منتظر ہے مگر حکومت کو پروا نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل