Sunday, September 27, 2026
 

امریکا اور چین نے 30 ارب ڈالر کی اشیاء پر ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ کر لیا

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان تین روزہ سربراہی ملاقات کے بعد امریکا اور چین نے 30 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کرلیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ممالک نے ہر سمت 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا کے لیے زیادہ سازگار ٹیرف پالیسی کی سفارشات پر اتفاق کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت امریکا سے چین جانے والی زرعی مصنوعات، لکڑی اور کاسمیٹکس جبکہ چین سے امریکا آنے والی چھوٹی گھریلو اشیا، کھلونے اور آرائشی سامان شامل ہوں گے۔ دونوں ملکوں نے تجارتی معاملات پر رابطے کے لیے ایک نیا ٹریڈ کونسل قائم کرنے اور کوالالمپور میں ہونے والے سابقہ مذاکرات کے نتائج کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب دنیا کی دو بڑی معیشتوں نے تجارتی جنگ بندی میں مزید دو ماہ کی توسیع کی ہے، جس سے وسیع تر تجارتی معاہدے پر بات چیت کے لیے اضافی وقت مل گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے معاملے پر بھی امریکا اور چین نے ٹیکنالوجی کے فوائد اور خطرات پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان آئندہ مذاکرات نومبر میں ہوں گے جبکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق ممکنہ واقعات سے نمٹنے کے لیے رابطے کا خصوصی چینل بھی قائم کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے بجائے سپر انٹیلی جنس کی اصطلاح استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے جسے چین نے بھی اہم قرار دیا۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ شی جن پنگ کا دورہ امریکا چین تعلقات میں نیا باب کھولنے اور دوطرفہ روابط کے مجموعی استحکام میں معاون ثابت ہوگا۔ شی جن پنگ تین روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل