Loading
ایک امریکی ماہرِ اعصاب کی جانب سے جنریشن زی (Gen Z) کی ذہنی اور علمی صلاحیتوں سے متعلق دی گئی وارننگ نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہر کا کہنا ہے کہ توجہ، یادداشت اور استدلال (آرگومنٹ) جیسی صلاحیتوں میں آنے والی تبدیلیوں کو جدید ٹیکنالوجی اور اسکرین کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
نیورو سائنس دان ڈاکٹر جیرڈ کونی ہوروَتھ نے امریکی سینیٹ میں گواہی دیتے ہوئے آئی کیو اسکورز اور تعلیمی کارکردگی کے بعض رجحانات کا حوالہ دیا۔
ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں کچھ علمی صلاحیتوں میں کمی کے رجحانات سامنے آئے ہیں۔
جیرڈ ہوروَتھ نے خاص طور پر تعلیمی اداروں میں اسکرینز، ڈیجیٹل آلات اور ایجوکیشنل ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال پر توجہ دلائی۔
ان کا مؤقف ہے کہ ٹیکنالوجی پر بڑھتا انحصار طلبا کے سیکھنے اور توجہ مرکوز رکھنے کے طریقوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق جدید تعلیمی ماحول میں طلبہ کا زیادہ وقت ڈیجیٹل مواد کے ساتھ گزارنا یادداشت، توجہ اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیتوں سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔ تاہم، ان نکات کو ٹیکنالوجی کے براہِ راست اثر سے جوڑنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے درمیان یہ دعویٰ متفقہ طور پر تسلیم شدہ نہیں کہ جنریشن زی، ملینیئلز کے مقابلے میں کم ذہین ہے۔ علمی کارکردگی اور آئی کیو میں تبدیلیوں پر متعدد عوامل اثرانداز ہو سکتے ہیں، جن میں تعلیمی نظام، سماجی حالات اور سیکھنے کے مختلف طریقے شامل ہیں۔
اس لیے موجودہ اعداد و شمار سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہی نوجوانوں کی علمی صلاحیتوں میں کمی کی وجہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید جامع اور طویل مدتی تحقیق ضروری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل