Loading
دنیا کے نقشے پر بحرالکاہل ایک وسیع نیلے سمندر کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، مگر اسی سمندر کی سطح کے نیچے چھپی ہوئی حرارت کبھی پوری دنیا کے موسموں کا مزاج بدل دیتی ہے۔ بظاہر ایک خطے میں رونما ہونے والی سمندری تبدیلی ہزاروں کلومیٹر دور واقع براعظموں میں بارش، خشک سالی، درجۂ حرارت، برف باری، طوفانی سرگرمی اور زرعی حالات پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’ایل نینو‘‘ محض ایک موسمی اصطلاح نہیں رہتا بلکہ کرۂ ارض کے باہم مربوط آب و ہوا کے نظام کی ایک اہم علامت بن جاتا ہے۔
2026 کا سال اس اعتبار سے غیرمعمولی اہمیت اختیار کرچکا ہے کہ بحرالکاہل کے استوائی مشرقی اور وسطی حصے میں سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ مسلسل مضبوط ہورہا ہے۔ امریکی قومی سمندری و فضائی انتظامیہ، یعنی این او اے اے، کے 10 ستمبر 2026 کے تشخیصی جائزے کے مطابق مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سطحی سمندری درجۂ حرارت کا معمول سے انحراف بعض علاقوں میں +3.0°C سے بھی تجاوز کرچکا تھا۔ اگست 2026 میں نینو-3.4 خطے کا ماہانہ انحراف +1.8°C، نینو-3 کا +2.5°C اور نینو-1+2 کا +3.4°C ریکارڈ کیا گیا، جب کہ نینو-4 کی قدر +0.1°C رہی۔
یہ اعداد محض چند اعشاریے نہیں، ان کے پیچھے ایک پیچیدہ سمندری و فضائی نظام حرکت میں ہے۔ بحرالکاہل کی سطح کے نیچے بھی غیر معمولی حرارت جمع ہے اور بعض گہرائیوں پر زیرِسطح پانی کے درجۂ حرارت کا معمول سے انحراف +10.0°C سے زیادہ دیکھا گیا ہے۔ یہاں ایک اہم سائنسی وضاحت ضروری ہے: +10.0°C پانی کا مطلق درجۂ حرارت نہیں بلکہ معمول کے مقابلے میں درجۂ حرارت کا غیر معمولی انحراف ہے۔ یہی زیرِسطح حرارت آنے والے مہینوں میں سطحی سمندر کے رویے کو متاثر کرسکتی ہے۔
این او اے اے کے مطابق سمندر اور فضا دونوں میں ایسی تبدیلیاں دکھائی دے رہی ہیں جو مضبوط ہوتے ہوئے ایل نینو سے مطابقت رکھتی ہیں۔ استوائی بحرالکاہل کے بعض حصوں میں ہواؤں کی تبدیلیاں، وسطی و مشرقی بحرالکاہل میں بادلوں اور بارش کی سرگرمی میں اضافہ اور انڈونیشیا کے اوپر بادلوں کی سرگرمی میں کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ معاملہ صرف گرم سمندری پانی تک محدود نہیں بلکہ سمندر اور فضا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں ردعمل دے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 2026-27 کا موجودہ ایل نینو معمول کے ایک موسمی مرحلے سے بڑھ کر عالمی سائنسی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ این او اے اے نے 10 ستمبر کو کہا کہ شمالی نصف کرۂ ارض کے خزاں اور موسمِ سرما 2026-27 کے دوران ’’بہت مضبوط‘‘ ایل نینو کے امکانات 90 فیصد سے زیادہ ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اکتوبر تا دسمبر 2026 کے تین ماہ کے دوران نسبتاً سمندری نینو اشاریے، یعنی آر او این آئی، کی قدر +2.5°C یا اس سے زیادہ ہونے کے ایک تاریخی طور پر غیر معمولی واقعے کا امکان 75 فیصد بتایا گیا ہے۔
یہاں ’’تاریخی واقعے‘‘ کی اصطلاح کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ریکارڈ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے۔ 75 فیصد ایک پیش گوئی کا امکان ہے۔ این او اے اے کی تعریف کے مطابق اگر اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 کے تین ماہ کا آر او این آئی +2.5°C یا اس سے زیادہ رہا تو یہ 1950 کے بعد ریکارڈ کیے گئے سابقہ ایل نینو واقعات کے مقابلے میں انتہائی مضبوط واقعہ شمار ہوگا۔ لہٰذا صحافتی زبان میں اسے ’’تاریخی سطح تک پہنچنے کا 75 فیصد امکان‘‘ کہنا زیادہ درست ہے، نہ کہ یہ کہنا کہ تاریخ کا سب سے طاقتور ایل نینو بالفعل رونما ہوچکا ہے۔
17 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے این او اے اے کے تازہ موسمی جائزے نے اس تصویر کو مزید واضح کیا۔ اس کے مطابق ایل نینو موجود ہے اور مسلسل مضبوط ہورہا ہے، جب کہ بہت مضبوط واقعے کے امکانات اب بھی 90 فی صد سے زیادہ ہیں۔ تازہ ترین ہفتہ وار نینو-3.4 اشاریہ +2.0°C تک پہنچ چکا تھا۔ اس طرح اگست کی ماہانہ قدر +1.8°C اور ستمبر کے وسط کی تازہ ہفتہ وار قدر +2.0°C کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ دونوں اعداد میں کوئی تضاد نہیں؛ پہلا پورے اگست کی ماہانہ اوسط ہے، جب کہ دوسرا تازہ ترین ہفتہ وار صورتِ حال کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ’’سپر ایل نینو‘‘ کی اصطلاح عوامی اور صحافتی گفتگو میں سامنے آتی ہے۔ تاہم سائنسی دیانت کا تقاضا ہے کہ اسے باقاعدہ الگ سائنسی زمرہ نہ سمجھا جائے۔ این او اے اے کی سرکاری درجہ بندی میں بنیادی اصطلاح ’’ایل نینو‘‘ اور اس کی شدت کے درجات ہیں؛ ’’سپر ایل نینو‘‘ ایک غیررسمی تعبیر ہے جو غیر معمولی طور پر طاقتور ایل نینو کے لیے ذرائع ابلاغ اور بعض ماہرین استعمال کرتے ہیں۔ موجودہ 2026-27 واقعے کی شدت کے پیش نظر یہ اصطلاح زیرِبحث ضرور ہے، لیکن اسے این او اے اے کی کوئی باقاعدہ الگ درجہ بندی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس صورتِ حال کی اہمیت صرف بحرالکاہل تک محدود نہیں۔ ایل نینو ایک عالمی سطح پر مربوط موسمیاتی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس کے اثرات کہیں زیادہ بارش، کہیں خشک سالی، کہیں غیر معمولی گرمی اور کہیں سمندری و فضائی طوفانی سرگرمی کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اور احتیاط ضروری ہے: کسی مضبوط ایل نینو کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر خطے میں لازماً ایک ہی قسم کا موسم پیدا ہوگا۔ اثرات کا انحصار جغرافیہ، موسم کے مرحلے، دیگر سمندری و فضائی عوامل اور مقامی موسمیاتی حالات پر ہوتا ہے۔ خود این او اے اے بھی واضح کرتا ہے کہ ایل نینو کی شدت اور کسی مخصوص علاقے پر اس کے اثرات کی شدت ایک ہی چیز نہیں اور مضبوط واقعہ بھی کسی مخصوص اثر کی ضمانت نہیں دیتا۔
یوں 2026-27 کا اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ’’ایل نینو کتنا مضبوط ہوگا؟‘‘ بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی سمندری حرارت، فضائی گردش اور دیگر موسمیاتی عوامل کے ساتھ باہمی تعامل کس طرح دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کا نقشہ تشکیل دے گا۔ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب کے لیے سائنس دان محض سطح سمندر کو نہیں بلکہ سمندر کی گہرائی، ہواؤں، بادلوں، دباؤ، بارش اور عالمی سمندری گردش کے متعدد اشاریوں کو ایک ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
بحرالکاہل کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے صرف موجودہ اعداد کافی نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ یہ حرارت آئندہ مہینوں میں کہاں جائے گی، فضا کے بڑے پیمانے پر گردش کرنے والے نظاموں کو کس طرح متاثر کرے گی اور مختلف خطوں میں اس کے اثرات کس شکل میں ظاہر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی موسمیاتی مراکز مسلسل نئے مشاہدات کو اپنے پیش گوئی کے ماڈلز میں شامل کررہے ہیں۔
8 ستمبر 2026 کو امریکی قومی سمندری و فضائی انتظامیہ کی جیوفزیکل فلوئڈ ڈائنامکس لیبارٹری نے ستمبر کی پیش گوئی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے تجرباتی ماڈل میں ایل نینو کی متوقع بلند ترین شدت گزشتہ ماہ کے اندازے کے مقابلے میں قدرے کم دکھائی دی، تاہم موسمِ خزاں کے آخری حصے اور موسمِ سرما کے آغاز میں تاریخی طور پر مضبوط ایل نینو کے بارے میں اعتماد بدستور بلند رہا۔ اس ماڈل کے تمام 30 پیش گوئی ارکان نے موجودہ واقعے کو تاریخی مضبوط واقعات کے مقابلے میں انتہائی طاقتور سطح تک پہنچنے یا ان کے برابر آنے کی سمت میں دکھایا۔
یہاں ’’تمام 30 ارکان‘‘ کی اہمیت یہ ہے کہ موسمیاتی پیش گوئی ایک واحد لکیر یا ایک قطعی مستقبل نہیں ہوتی۔ مختلف ابتدائی حالات کے ساتھ ماڈل کو بار بار چلایا جاتا ہے تاکہ ممکنہ مستقبل کے مختلف راستے سامنے آسکیں۔ ان راستوں کے پھیلاؤ سے سائنس دان اندازہ لگاتے ہیں کہ پیش گوئی میں کتنا اعتماد ہے اور غیر یقینی پن کہاں بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026-27 کے ایل نینو کے بارے میں موجودہ اعتماد نسبتاً بلند ہونے کے باوجود آئندہ موسموں کے ہر مقامی اثر کو قطعی طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
این او اے اے کے 17 ستمبر کے موسمی جائزے میں بھی یہی احتیاط نمایاں ہے۔ اس نے واضح کیا کہ مضبوط ایل نینو کے باعث ایل نینو سے مطابقت رکھنے والے موسمی اثرات کے امکانات بڑھتے ہیں، مگر ان کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اسی لیے شمالی امریکا کے مختلف علاقوں کے لیے درجہ? حرارت اور بارش کے امکانات الگ الگ بیان کیے گئے ہیں۔ بعض شمالی اور مغربی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے امکانات بڑھتے ہیں، جبکہ جنوبی علاقوں اور کیلیفورنیا سمیت بعض خطوں میں معمول سے زیادہ بارش کے امکانات نمایاں ہوسکتے ہیں۔
اس سے ایک بنیادی سائنسی حقیقت سامنے آتی ہے: ایک ہی ایل نینو پوری دنیا پر یکساں موسم مسلط نہیں کرتا۔ عالمی موسمیاتی نظام میں مقامی جغرافیہ، سمندری درجۂ حرارت کے دیگر نمونے، فضائی دباؤ، ہواؤں کی گردش اور طویل مدتی سمندری تغیرات بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ چناںچہ کسی ایک خطے میں ایل نینو کا اثر غیر معمولی بارش ہوسکتا ہے تو دوسرے خطے میں خشک سالی یا گرمی میں اضافہ بھی ممکن ہے۔
پاکستان کے لیے یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کا زرعی، آبی اور معاشی نظام موسمی بارشوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بالخصوص دریائے سندھ کے بالائی حوض میں بارش اور برف پگھلنے کے نظام میں ہونے والی تبدیلیاں پانی کی دستیابی پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ تاہم کسی مخصوص سال میں پاکستان کی بارش، سیلاب یا خشک سالی کو صرف ایل نینو سے براہِ راست منسوب کرنا سائنسی طور پر محتاط طرزِعمل نہیں ہوگا۔ ایل نینو ایک اہم عالمی عامل ہوسکتا ہے، مگر مقامی اور علاقائی موسمیاتی عوامل بھی نتیجے کو بدل سکتے ہیں۔
اسی طرح کراچی جیسے ساحلی شہر کے بارے میں بھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موجودہ ایل نینو لازماً کسی ایک مخصوص درجۂ حرارت، بارش یا شہری موسمی واقعے کا سبب بنے گا۔ کراچی کا موسم بحیرۂ عرب، مقامی ہواؤں، سمندری سطح کے درجۂ حرارت، مغربی ہواؤں کے نظام اور علاقائی فضائی گردش سمیت متعدد عوامل سے تشکیل پاتا ہے۔ ایل نینو اس بڑے نظام کے ایک حصے کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن کسی مخصوص مقامی نتیجے کی پیش گوئی کے لیے علاقائی موسمیاتی ماڈلز اور تازہ مشاہدات ضروری ہیں۔
یہی احتیاط دنیا کے دوسرے خطوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ ماضی کے بڑے ایل نینو واقعات، مثلاً 1982-83، 1997-98 اور 2015-16، نے دنیا کے مختلف حصوں میں نمایاں موسمیاتی اثرات پیدا کیے، لیکن ہر واقعہ اپنی مخصوص سمندری و فضائی کیفیت کے باعث دوسرے سے مختلف بھی رہا۔ موجودہ 2026-27 واقعے کو ماضی کے واقعات سے تشبیہ دینا مفید ہے، مگر اسے ان کا عین تکرار سمجھنا درست نہیں۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ ستمبر 2026 کی سائنسی پیش گوئی میں خود ماڈلز کے اندر معمولی تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ جیو فزیکل فلوئڈ ڈائنامکس لیبارٹری کے مطابق ستمبر کے ماڈل میں ایل نینو کی بلند ترین متوقع شدت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں قدرے کم ہوئی، لیکن اس کے باوجود تاریخی طور پر مضبوط واقعے کے امکانات برقرار رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’ریکارڈ ٹوٹنا‘‘ ابھی ایک یقینی مشاہدہ نہیں بلکہ ایک مضبوط پیش گوئی کا امکان ہے۔
یہاں انسانی علم کی ایک خوب صورت حد بھی سامنے آتی ہے۔ سائنس مستقبل کو ایک قطعی لکیر کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ امکانات کے دائرے میں دیکھتی ہے۔ آج ہمارے پاس مصنوعی سیاروں، سمندری پیمائش کے آلات، خودکار مشاہداتی نظام، کمپیوٹر ماڈلز اور عالمی ڈیٹا نیٹ ورکس کی ایسی قوت موجود ہے جو چند دہائیاں پہلے تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھی، مگر اس کے باوجود فطرت کا ہر راز مکمل طور پر ہمارے سامنے نہیں آتا۔
بحرالکاہل کی موجودہ صورتِ حال اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ سمندر کی سطح بظاہر خاموش ہوسکتی ہے، مگر اس کی تہوں میں موجود غیر معمولی حرارت، فضا میں بدلتی ہوئی ہوائیں اور بادلوں کی حرکت ایک ایسے موسمیاتی عمل کی تشکیل کررہی ہے جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس ہوسکتے ہیں۔ اگست میں نینو-3.4 کی ماہانہ قدر +1.8°C تھی، ستمبر کے وسط میں تازہ ہفتہ وار قدر +2.0°C تک پہنچ گئی، مشرقی استوائی بحرالکاہل کے بعض حصوں میں سطحی انحراف +3.0°C سے تجاوز کرچکا ہے اور زیرِسطح بعض مقامات پر معمول سے +10.0°C سے زیادہ انحراف موجود ہے۔
اب اگلا فیصلہ کن مرحلہ 2026 کے آخری مہینوں اور 2027 کے ابتدائی حصے میں سامنے آئے گا۔ این او اے اے کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2026 میں +2.5°C یا اس سے زیادہ آر او این آئی کی ’’تاریخی‘‘ سطح تک پہنچنے کا امکان 75 فی صد ہے، جب کہ شمالی نصف کرۂ ارض کی خزاں اور موسمِ سرما کے دوران بہت مضبوط ایل نینو کے امکانات 90 فی صد سے زیادہ ہیں۔
اگر یہ پیش گوئی عملی مشاہدات میں بھی برقرار رہتی ہے تو 2026-27 کا ایل نینو جدید موسمیاتی ریکارڈ کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا اصل تاریخی مقام اس وقت طے ہوگا جب پورا واقعہ مکمل ہوجائے گا اور سائنس دان اس کے مشاہدہ شدہ اعداد و شمار کو سابقہ واقعات کے ساتھ حتمی طور پر موازنہ کرسکیں گے۔
اس مرحلے پر ایک اور اہم پہلو قابلِ غور ہے: ایل نینو صرف موسم کا مسئلہ نہیں، بلکہ پانی، خوراک، توانائی اور معیشت کا بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔ اگر کسی خطے میں بارش کے معمول میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر فصلوں کی پیداوار پر پڑسکتا ہے؛ اگر کہیں خشک سالی بڑھتی ہے تو آب پاشی اور پینے کے پانی کے ذخائر دباؤ میں آسکتے ہیں؛ اور اگر کسی دوسرے خطے میں غیرمعمولی بارش ہوتی ہے تو سیلابی خطرات، بنیادی ڈھانچے اور شہری نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔ عالمی موسمیاتی ادارہ بھی واضح کرتا ہے کہ بہت مضبوط ایل نینو بارش اور درجۂ حرارت کے نمونوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کرسکتا ہے اور سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔
اسی لیے عالمی موسمیاتی ادارے نے ستمبر 2026 میں اس بات پر زور دیا کہ ایل نینو فروری 2027 تک برقرار رہنے کے تقریباً 100 فیصد امکان کے ساتھ سال کے اختتام تک بہت مضبوط شدت اختیار کرسکتا ہے۔ اس عالمی ادارے کے مطابق اس صورتِ حال کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خطے میں ایک جیسا موسم پیدا ہوگا، بلکہ یہ کہ مختلف علاقوں میں موسمیاتی نمونوں کے غیرمعمولی ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ یوں عالمی سطح پر اصل ضرورت پیشگی تیاری، مسلسل نگرانی اور مقامی سطح پر موسمیاتی معلومات کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کی ہے۔
بین الاقوامی تحقیقی ادارے آئی آر آئی کے اگست 2026 کے جائزے نے بھی اس تشویش کو مزید سائنسی بنیاد فراہم کی تھی۔ اس کے مطابق وسط اگست تک 26 میں سے 25 ماڈلز نے اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران نینو-3.4 میں +2.0°C یا اس سے زیادہ انحراف کی پیش گوئی کی، جبکہ 15 ماڈلز نے +3.0°C یا اس سے زیادہ کی سطح تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا۔ آئی آر آئی نے یہ بھی بتایا کہ 2026 کا ایل نینو ابتدائی 2027 تک برقرار رہنے کی مضبوط علامات رکھتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم سائنسی اشارہ جنوبی ارتعاشی اشاریہ ہے۔ ایل نینو صرف سمندر کے گرم ہونے کا نام نہیں؛ اس کے ساتھ فضا میں دباؤ کے فرق اور ہواؤں کی گردش بھی بدلتی ہے۔ آئی آر آئی کے اگست کے تجزیے میں جولائی 2026 کا جنوبی ارتعاشی اشاریہ -29.1 اور 17 اگست تک 30 روزہ اشاریہ -18.6 رپورٹ ہوا، جب کہ استوائی جنوبی ارتعاشی اشاریے میں بھی منفی قدر دیکھی گئی۔ یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بحرالکاہل کی سمندری حرارت کے ساتھ فضائی گردش بھی ایل نینو کے موافق سمت میں تبدیل ہو رہی تھی۔
اس تعلق کو سمجھنا ضروری ہے، کیوںکہ ایل نینو دراصل سمندر اور فضا کے درمیان ایک باہمی تعامل ہے۔ اگر سمندر گرم ہو اور فضا اس تبدیلی کا جواب نہ دے تو معاملہ روایتی ایل نینو کی مکمل شکل اختیار نہیں کرتا۔ لیکن جب گرم سمندری سطح کے ساتھ تجارتی ہواؤں میں تبدیلی، فضائی دباؤ کے نمونوں میں فرق، بادلوں اور بارش کی سرگرمی میں تبدیلی اور واکر گردش کی کمزوری بھی شامل ہوجائے تو سمندر اور فضا ایک دوسرے کو تقویت دینے لگتے ہیں۔ یہی باہمی تقویت ایل نینو کے بڑھنے کی بنیادی حرکیات میں شمار ہوتی ہے۔
اس کے عالمی درجۂ حرارت سے تعلق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی موسمیاتی ادارہ واضح کرتا ہے کہ ایل نینو عموماً عالمی اوسط درجۂ حرارت پر عارضی اضافی اثر ڈالتا ہے، کیونکہ بحرالکاہل کی گرم سطح سمندر اور فضا کے درمیان توانائی اور نمی کے تبادلے کو بدل دیتی ہے۔ تاہم یہ طویل مدتی انسانی ساختہ عالمی حدت کا متبادل یا واحد سبب نہیں۔ دونوں مظاہر ایک ہی نظام میں کام کرتے ہیں اور ایک مضبوط ایل نینو پہلے سے گرم ہوتی ہوئی دنیا میں بعض شدید گرم واقعات کے امکانات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
یہی نکتہ 2024 کے تجربے سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق 2023-24 کا مضبوط ایل نینو عالمی درجۂ حرارت پر عارضی اضافی اثر ڈالنے والے عوامل میں شامل تھا اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی حدت کے ساتھ مل کر 2024 کے غیرمعمولی عالمی درجۂ حرارت میں کردار ادا کرتا رہا۔ اس تاریخی تجربے کی روشنی میں 2026-27 کے واقعے کی نگرانی اس لیے بھی اہم ہے کہ اگر ایل نینو بہت مضبوط سطح تک پہنچتا ہے تو عالمی حرارتی ریکارڈ اور شدید گرمی کے واقعات کے تناظر میں اس کے اثرات کا الگ سے جائزہ لینا ہوگا۔
تاہم سائنس ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ایک واقعے کو دوسرے واقعے کی مکمل نقل سمجھنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ ہر ایل نینو کی پیدائش، اس کی سمندری ساخت، فضائی گردش، شدت، دورانیہ اور اختتام کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ اسی لیے 2026-27 کے بارے میں ماضی کے واقعات سے موازنہ ضرور کیا جاسکتا ہے، مگر حتمی نتیجہ صرف موجودہ مشاہدات سے اخذ کیا جاسکتا ہے۔
زرعی معیشتوں کے لیے موسمی پیش گوئی اس لیے اہم ہوتی جارہی ہے کہ کسان محض بارش کے آنے یا نہ آنے پر منحصر نہیں رہنا چاہتے بلکہ انہیں پہلے سے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ موسم کا عمومی رجحان کس سمت جاسکتا ہے۔ بیج بونے کا وقت، فصل کا انتخاب، آب پاشی کی منصوبہ بندی، پانی کے ذخائر کا انتظام اور شدید موسمی واقعات سے بچاؤ سبھی بہتر پیش گوئی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح حکومتوں کے لیے بھی موسمیاتی معلومات محض سائنسی رپورٹ نہیں بلکہ منصوبہ بندی کا بنیادی ذریعہ بن سکتی ہیں۔
پانی کے حوالے سے پاکستان کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ملک کے بڑے دریائی نظام کا تعلق برفانی ذخائر، بارش اور موسمی بہاؤ سے ہے۔ اگر مختلف موسمی عوامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بارش یا درجۂ حرارت کے نمونے تبدیل کردیں تو پانی کی دستیابی کا وقت اور مقدار دونوں متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایل نینو جیسے عالمی مظہر کو پاکستان کے لیے کسی ایک قطعی پیش گوئی کے بجائے خطرات اور امکانات کے وسیع تر فریم میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
یہاں جدید موسمیاتی سائنس کی ایک اور جہت سامنے آتی ہے: پیش گوئی اب صرف ’’بارش ہوگی یا نہیں ہوگی‘‘ تک محدود نہیں رہی۔ جدید ماڈلز فضا، سمندر، برف، زمین، نمی اور متعدد دیگر عوامل کو باہم مربوط کرکے ممکنہ حالات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ مصنوعی سیارے سمندری سطح اور بادلوں کی نگرانی کرتے ہیں، سمندر میں نصب آلات گہرائی کے درجۂ حرارت اور نمکیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں، جب کہ کمپیوٹر ماڈلز ان مشاہدات کو مستقبل کے ممکنہ منظرناموں میں تبدیل کرتے ہیں۔
مگر جتنی طاقت ور یہ ٹیکنالوجی ہے، اتنی ہی اہم اس کی حدود کو سمجھنا بھی ہے۔ موسمیاتی نظام ایک پیچیدہ اور غیر خطی نظام ہے۔ ایک معمولی تبدیلی بعض حالات میں بڑے اثرات پیدا کرسکتی ہے، جب کہ کبھی بڑی تبدیلی کا مقامی اثر محدود بھی رہ سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین امکانات، اعتماد کی سطح اور غیر یقینی پن کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ عام قاری کے لیے یہ زبان کبھی کبھی محتاط یا مبہم محسوس ہوسکتی ہے، لیکن یہی سائنسی دیانت ہے۔ فطرت کے بارے میں ’’یقینی‘‘ دعویٰ وہاں نہیں کیا جاسکتا جہاں اعدادوشمار صرف امکان کی اجازت دیتے ہوں۔
ایل نینو کے حوالے سے ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑے عالمی تناظر سے الگ ہے؟ یہاں بھی جواب سادہ نہیں۔ ایل نینو ایک قدرتی سمندری و فضائی مظہر ہے، جب کہ عالمی درجۂ حرارت میں طویل مدتی اضافہ ایک الگ موسمیاتی عمل ہے۔ تاہم دونوں ایک ہی سیاروی نظام میں وقوع پذیر ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے اثرات کے مشاہدے کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ کسی ایک ایل نینو کو عالمی حدت کا واحد نتیجہ قرار دینا درست نہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گرم تر دنیا میں شدید گرم موسمی واقعات کے مجموعی اثرات زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 2026-27 کا واقعہ صرف ایک موسمی خبر نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام کی پیچیدگی کو سمجھنے کا ایک موقع بھی ہے۔ سائنس دان اس واقعے کو نہ صرف موجودہ موسم کی پیش گوئی کے لیے دیکھ رہے ہیں بلکہ اس لیے بھی دیکھ رہے ہیں کہ سمندر اور فضا کے درمیان توانائی کا تبادلہ کس طرح ہوتا ہے، عالمی گردش کس طرح ردعمل دیتی ہے اور مختلف خطوں میں اس کے اثرات کس طرح پھیلتے ہیں۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ ایل نینو ہمیں زمین کے بارے میں ایک بنیادی حقیقت بھی یاد دلاتا ہے: کرۂ ارض ایک دوسرے سے جدا خطوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مربوط نظام ہے۔ بحرالکاہل میں ہونے والی تبدیلی بحرِہند، فضا کی گردش، بادلوں کے راستوں اور دوردراز علاقوں کے موسمی حالات سے جڑ سکتی ہے۔ زمین کی فضا کسی سرحد کو پاسپورٹ نہیں دکھاتی، سمندری دھارائیں سیاسی نقشے نہیں دیکھتیں اور حرارت کسی ملک کی حدود میں قید نہیں رہتی۔
یہی عالمی باہمی انحصار جدید موسمیاتی سائنس کی اصل معنویت ہے۔ ایک صدی پہلے موسم کی خبر زیادہ تر مقامی مشاہدے، بادلوں، ہوا اور تجربے سے حاصل کی جاتی تھی۔ آج انسان زمین کے گرد گردش کرتے مصنوعی سیاروں سے لے کر سمندر کی گہرائی میں تیرتے آلات تک، ایک وسیع مشاہداتی نظام قائم کرچکا ہے۔ مگر اس تمام ترقی کے باوجود فطرت ہمیں مسلسل یہ احساس دلاتی ہے کہ معلومات میں اضافہ پیش گوئی کی صلاحیت بڑھا سکتا ہے، مگر غیر یقینی پن کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر موجودہ ایل نینو واقعی تاریخی شدت تک پہنچتا ہے تو دنیا کو اس سے کیا سیکھنا چاہیے؟ شاید سب سے بڑا سبق یہ ہوگا کہ موسمیاتی خطرات کو واقعے کے بعد سمجھنے کے بجائے پہلے سے سمجھنا ضروری ہے۔ سیلاب آنے کے بعد بند باندھنے کے بجائے خطرے کی پیشگی نقشہ بندی، خشک سالی کے بعد پانی تلاش کرنے کے بجائے ذخائر کی منصوبہ بندی، فصلوں کے نقصان کے بعد امداد دینے کے بجائے پہلے سے زرعی حکمتِ عملی بنانا زیادہ مؤثر راستہ ہے۔
اسی طرح شہری منصوبہ بندی بھی موسمیاتی پیش گوئی سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ساحلی شہر، بڑے دریا کے کنارے آباد علاقے، پہاڑی وادیوں میں واقع بستیاں اور خشک سالی سے متاثر ہونے والے خطے ہر ایک کو اپنے مخصوص موسمی خطرات کے مطابق منصوبہ بندی درکار ہے۔ کراچی ہو یا لاہور، سندھ کا دریائی علاقہ ہو یا شمالی پہاڑی خطہ، موسمیاتی معلومات کو شہری اور معاشی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا آنے والے برسوں میں مزید اہم ہوسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سائنسی معلومات کو عملی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارہ بھی زور دیتا ہے کہ موسمیاتی پیش گوئی کا اصل مقصد محض مستقبل کے موسم کی خبر دینا نہیں بلکہ حکومتوں، انسانی امدادی اداروں، زراعت، صحت، پانی اور توانائی کے شعبوں کو پہلے سے تیاری کا موقع دینا ہے۔ اگر پیش گوئی میں کسی شدید موسمی خطرے کا امکان بڑھ رہا ہو تو اس اطلاع کو بروقت مقامی منصوبہ بندی تک پہنچانا ہی ابتدائی انتباہی نظام کی اصل کامیابی ہے۔
اس اعتبار سے 2026-27 کا ایل نینو ایک سائنسی امتحان کے ساتھ ساتھ انتظامی امتحان بھی ہے۔ کیا دنیا اپنے پاس موجود سائنسی معلومات کو بروقت فیصلوں میں تبدیل کرسکے گی؟ کیا پانی کے ذخائر، زرعی منصوبہ بندی، شہری نکاسیٔ آب، صحت عامہ اور توانائی کے نظام ممکنہ موسمی تغیرات کے لیے پہلے سے تیار کیے جاسکیں گے؟ یہ سوال صرف ماہرینِ موسمیات کے نہیں بلکہ ریاستی اداروں، معیشت دانوں، زرعی ماہرین، شہری منصوبہ سازوں اور عام معاشرے کے بھی ہیں۔
ماضی کے شدید ایل نینو واقعات نے یہ دکھایا ہے کہ سمندر کی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں کس طرح عالمی سطح پر نمایاں موسمیاتی اثرات پیدا کرسکتی ہیں۔ لیکن ہر نیا واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قدرت ایک ہی نقشہ دوبارہ نہیں بناتی۔ 1982-83، 1997-98 اور 2015-16 کے تجربات موجودہ واقعے کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، مگر 2026-27 کی اپنی مخصوص سمندری، فضائی اور جغرافیائی خصوصیات ہیں۔ اسی لیے ماضی کو آئینہ سمجھنا چاہیے، سانچا نہیں۔
یہاں انسانی علم کی ایک خوب صورت حد بھی سامنے آتی ہے۔ سائنس مستقبل کو ایک قطعی لکیر کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ امکانات کے دائرے میں دیکھتی ہے۔ آج ہمارے پاس مصنوعی سیاروں، سمندری پیمائش کے آلات، خودکار مشاہداتی نظام، کمپیوٹر ماڈلز اور عالمی ڈیٹا نیٹ ورکس کی ایسی قوت موجود ہے جو چند دہائیاں پہلے تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھی، مگر اس کے باوجود فطرت کا ہر راز مکمل طور پر ہمارے سامنے نہیں آتا۔
بحرالکاہل کی موجودہ صورتِ حال اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ سمندر کی سطح بظاہر خاموش ہوسکتی ہے، مگر اس کی تہوں میں موجود غیر معمولی حرارت، فضا میں بدلتی ہوئی ہوائیں اور بادلوں کی حرکت ایک ایسے موسمیاتی عمل کی تشکیل کررہی ہے جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں محسوس ہوسکتے ہیں۔ اگست میں نینو-3.4 کی ماہانہ قدر +1.8°C تھی، ستمبر کے وسط میں تازہ ہفتہ وار قدر +2.0°C تک پہنچ گئی، مشرقی استوائی بحرالکاہل کے بعض حصوں میں سطحی انحراف +3.0°C سے تجاوز کرچکا ہے اور زیرِسطح بعض مقامات پر معمول سے +10.0°C سے زیادہ انحراف موجود ہے۔
اب اگلا فیصلہ کن مرحلہ 2026 کے آخری مہینوں اور 2027 کے ابتدائی حصے میں سامنے آئے گا۔ این او اے اے کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2026 میں +2.5°C یا اس سے زیادہ آر او این آئی کی ’’تاریخی‘‘ سطح تک پہنچنے کا امکان 75 فی صد ہے، جب کہ شمالی نصف کرۂ ارض کی خزاں اور موسمِ سرما کے دوران بہت مضبوط ایل نینو کے امکانات 90 فی صد سے زیادہ ہیں۔
اگر یہ پیش گوئی عملی مشاہدات میں بھی برقرار رہتی ہے تو 2026-27 کا ایل نینو جدید موسمیاتی ریکارڈ کے اہم ترین واقعات میں شمار ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا اصل تاریخی مقام اس وقت طے ہوگا جب پورا واقعہ مکمل ہوجائے گا اور سائنس داں اس کے مشاہدہ شدہ اعداد و شمار کو سابقہ واقعات کے ساتھ حتمی طور پر موازنہ کرسکیں گے۔
اس لیے آج کی سب سے ذمہ دار سائنسی بات یہ نہیں کہ دنیا نے یقینی طور پر تاریخ کا سب سے طاقت ور ایل نینو دیکھ لیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ دنیا ایک ایسے ایل نینو کے درمیان کھڑی ہے جس کے بہت مضبوط ہونے کے امکانات غیر معمولی حد تک بلند ہیں اور جس کے تاریخی سطح تک پہنچنے کا امکان بھی نمایاں ہے۔ یہی فرق خبر اور سائنس کے درمیان بنیادی فرق ہے۔
فطرت اپنے فیصلے اعداد کے ذریعے سناتی ہے، مگر ان اعداد کو سمجھنے کے لیے صبر، احتیاط اور مسلسل مشاہدہ درکار ہوتا ہے۔ بحرالکاہل کی تہوں میں جمع ہونے والی یہ غیر معمولی حرارت شاید آنے والے موسموں کی ایک بڑی کہانی لکھ رہی ہے۔ اس کہانی کا اگلا باب 2026 کے اختتام اور 2027 کے آغاز میں کھلے گا؛ اور تب شاید دنیا کو زیادہ واضح طور پر معلوم ہوگا کہ سمندر کی تہوں میں جمع ہونے والی اس حرارت نے عالمی موسم کے نقشے پر کتنی گہری لکیر کھینچی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل