Wednesday, September 30, 2026
 

پشاور؛ نرسنگ امتحانی بورڈ میں مبینہ بے ضابطگیاں، انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہوسکا

 



خیبر پختونخوا نرسنگ امتحانی بورڈ کے امور میں مبینہ بے ضابطگیوں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور بورڈ کے اختیارات کے غلط استعمال سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ انکوائری میں کنٹرولر نرسنگ ایگزامینیشن بورڈ خیبرپختونخوا، ڈائریکٹر نرسنگ اور چارج نرس اور ڈپٹی کنٹرولر کے تبادلوں سمیت مختلف سفارشات سامنے آگئی ہیں جبکہ انکوائری رپورٹ پر ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایکسپریس نیوز کو دستیاب فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور محکمہ صحت کو ارسال کردہ مراسلے کے مطابق نرسنگ امتحانی بورڈ کے معاملات کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے بورڈ کی تشکیل، اجلاس کے انعقاد، امتحانی عمل، الحاق شدہ نرسنگ اداروں، طلبہ کی رجسٹریشن اور امتحانی مراکز سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا اور بعض معاملات میں قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کنٹرولر نرسنگ امتحانی بورڈ اور ڈائریکٹر نرسنگ اور وائس چیئرمین بورڈ کے حوالے سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نرسنگ ریگولیشنز 2022 کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے بورڈ کے بعض اجلاس منعقد کیے گئے اور ایسے امور میں مداخلت کی گئی جو قواعد کے تحت طے شدہ طریقہ کار کے مطابق انجام دیے جانے چاہئیں تھے۔ کمیٹی نے متعلقہ افسران کے خلاف قواعد و قانون کے مطابق کارروائی اور انہیں موجودہ عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کے نتیجے میں کنٹرولر نرسنگ ایگزامینیشن بورڈ سمیت ڈائریکٹر نرسنگ خیبرپختونخوا، اور چارج نرس، ڈپٹی کنٹرولر کے تبادلوں کی بھی سفارش کی گئی ہے، انکوائری افسر نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ 27 اگست 2026ء کو جمع کرائی تھی تاہم متعلقہ حکام کو بھیجے گئے مراسلے کے مطابق رپورٹ جمع ہونے کے باوجود ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور سفارشات پر تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ رپورٹ میں نرسنگ امتحانی بورڈ کی تشکیل کو متعلقہ ریگولیشنز کے مطابق مکمل کرنے، بورڈ کے اجلاس کا سالانہ شیڈول مرتب کرکے چیئرمین سے منظوری لینے اور اجلاسوں کے انعقاد میں باقاعدگی یقینی بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ پلان اور رپورٹس سہ ماہی بنیاد پر چیئرمین یا ان کی جانب سے نامزد افسر کے ساتھ شیئر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کمیٹی نے امتحانی پرچوں کی ترسیل کے عمل کو محفوظ بنانے کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی ہے تاکہ امتحانی مراکز کو سوالیہ پرچوں کی ترسیل کے دوران پرچوں کے لیک یا افشا ہونے کے امکانات کو کم کیا جاسکے۔ اسی طرح نرسنگ اداروں کے الحاق کے معاملات کا جائزہ لینے اور اس بات کی تصدیق کرنے کی سفارش کی گئی ہے کہ تمام اداروں کو قواعد و ضوابط اور بورڈ کی منظوری کے مطابق الحاق دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں نرسنگ اداروں میں طلبہ کی رجسٹریشن، منظور شدہ نشستوں کی تعداد اور امتحانات میں شریک امیدواروں کی تعداد کی بھی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی سفارش کی گئی ہے، خصوصاً موجودہ کنٹرولر کی تعیناتی کے عرصے کے دوران ان معاملات کا ریکارڈ چیک کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈی جی پی ایچ ایس اے یا پی ایچ ایس اے کے کسی افسر کو نرسنگ امتحانی بورڈ کا رکن مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ امتحانات کے شیڈول سے قبل متعلقہ حکام کو ضروری معلومات فراہم ہوسکیں اور پشاور، سوات، ڈی آئی خان، کوہاٹ سمیت مختلف علاقوں میں امتحانی ہالز اور دیگر انتظامات بروقت مکمل کیے جاسکیں۔ محکمہ صحت کو بھیجے گئے مراسلے میں متعلقہ مجاز اتھارٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ 27 اگست کو جمع کرائی گئی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری رپورٹ اور اس میں دی گئی سفارشات کا جائزہ لے کر قواعد و ضوابط کے مطابق مناسب کارروائی کی جائے تاکہ نرسنگ امتحانی بورڈ سے متعلق معاملہ شفاف انداز میں اور مزید تاخیر کے بغیر پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل