Loading
صومالیہ کے ساحلی علاقے میں کئی ماہ سے بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود 8 مصری شہریوں کو بالآخر رہائی مل گئی۔
مصری وزارت خارجہ کے مطابق رہا کیے گئے افراد ایک تجارتی جہاز کے عملے کا حصہ تھے اور انہیں رواں سال مئی میں یرغمال بنایا گیا تھا۔
مصری حکام کے مطابق بحری قزاقوں نے 2 مئی کو صومالیہ کے پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز کو روک کر اس میں سوار عملے کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
یرغمالیوں کی رہائی کے لیے صومالی اور یمنی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے کیے گئے۔ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں آٹھوں مصری شہریوں کو بحفاظت قزاقوں کی قید سے نکال لیا گیا۔
رہائی کے بعد مصری شہری اپنے وطن واپس پہنچ گئے جہاں ان کی واپسی پر اہل خانہ اور حکام نے اطمینان کا اظہار کیا۔ قاہرہ پہنچنے والے افراد کئی ماہ کی قید کے بعد خوش دکھائی دے رہے ہیں۔
صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بحری قزاقی ایک عرصے سے عالمی جہازرانی کے لیے بڑا مسئلہ رہی ہے اگرچہ گزشتہ برسوں میں بین الاقوامی بحری کارروائیوں کے باعث ایسے واقعات میں کمی آئی تاہم خطے کی صورتحال اور تجارتی بحری راستوں پر بڑھتے خطرات کے باعث قزاقی کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔
مصری حکام نے رہائی کے عمل میں تعاون کرنے والے صومالی اور یمنی فریقوں سے رابطوں کو اہم قرار دیا ہے۔ آٹھوں شہریوں کی واپسی سے ان کے خاندانوں کو کئی ماہ بعد اپنے پیاروں کے محفوظ ہونے کی خبر ملی ہے۔
واضح رہے کہ 21 اپریل کو ایم ٹی آنر 25 نامی ایندھن بردار جہاز کو بھی یرغمال بنایا گیا تھا جن میں زیادہ تر پاکستانی شامل ہیں۔ گزشتہ روز صومالی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران عملے کے پانچ ارکان کو قزاقوں نے قتل کردیا تھا جن میں 3 پاکستانی، ایک بھارتی اور aik میانماری شامل ہے جب کہ 3 دیگر پاکستانی اور ایک بھارتی زخمی ہوگئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل