Thursday, October 01, 2026
 

بارانِ رحمت کو محفوظ کیجئے

 



پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیشِ نظر بارش کے پانی کو جمع کرکے محفوظ کرنا اور اسے مناسب مقاصد کے لیے استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بارش قدرت کی عطا کردہ ایک نعمت ہے جو خوش گوار موسمی تبدیلی کے ساتھ ایک اہم آبی وسیلہ بھی ہے۔ لیکن اگر بارش کے پانی کے لیے مناسب انتظامات نہ کیے جائیں تو یہی پانی زحمت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ حالیہ مون سون میں جڑواں شہروں میں ہونے والی شدید بارشوں کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں طغیانی دیکھنے میں آئی اور شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ دوسری طرف ہمارے شہروں میں پانی کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کی سطح میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایسے میں ہمارے ذہنوں میں ایک سوال آتا ہے کہ کیا ہم بارش کے پانی کو محفوظ کرکے پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کو کسی حد تک پورا کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم ہے۔ رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم میں بارش کے پانی کو چھتوں، زمین یا دیگر مناسب جگہوں سے جمع کرکے بعد میں استعمال کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے، یا اسے زمین میں جذب کرکے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مدد لی جاتی ہے۔ یہ کوئی نئی ایجاد نہیں۔ دنیا کی قدیم تہذیبیں صدیوں سے بارش کے پانی کو جمع اور محفوظ کرتی رہی ہیں۔ تاہم آج اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں دستیاب آبی وسائل پر دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ بارش کا پانی ہماری تمام آبی ضروریات کا مکمل حل تو فراہم نہیں کرتا، لیکن یہ موجودہ آبی نظام پر دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسے ایک ہائبرڈ نظام کے طور پر بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال شمسی توانائی کی طرح ہے۔ آج بہت سے گھرانے شمسی توانائی اور گرڈ کی بجلی، دونوں استعمال کرتے ہیں۔ دن کے وقت بجلی کی ضرورت کا ایک حصہ سولر سے پورا ہوتا ہے، جبکہ ضرورت کے مطابق رات یا دیگر اوقات میں گرڈ سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ مختلف ذرائع کو ملا کر استعمال کرنے کے اس طریقے کو ہائبرڈ نظام کہا جاتا ہے۔ بارش کے پانی کے معاملے میں بھی ایسا ہی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ بارش سے حاصل ہونے والے پانی کو باغبانی، صفائی، واش رومز اور دیگر مناسب کاموں کے لیے استعمال کیا جائے تو صاف یا زیرِ زمین پانی پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی مقدار کئی عوامل پر منحصر ہوتی ہے، جن میں بارش کی مقدار اور دورانیہ، پانی کی طلب، چھت یا زمین کا دستیاب رقبہ، ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور مقامی زمینی حالات شامل ہیں۔ بالائی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شہری علاقے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے خاص طور پر موزوں ہو سکتے ہیں۔ ایک شہر میں ہزاروں یا لاکھوں عمارتیں موجود ہوتی ہیں اور ہر عمارت کی چھت بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے ایک کیچمنٹ ایریا بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہزار مربع میٹر کی چھت پر اگر 100 ملی میٹر بارش ہو تو تقریباً ایک لاکھ لیٹر پانی حاصل ہو سکتا ہے، اگر مناسب نظام کے ذریعے اسے جمع کیا جائے۔ اگر یہی تصور بڑے پیمانے پر اپنایا جائے تو گھروں کے علاوہ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، اسپتال، دفاتر، فیکٹریاں، مارکیٹیں اور دیگر بڑی عمارتیں بھی مقامی سطح پر پانی کے چھوٹے ذخیرے بن سکتی ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر تیزی سے پھیلتے ہوئے شہری مراکز میں یہ تصور خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں پانی کی طلب بڑھ رہی ہے اور زیرِ زمین پانی کی سطح میں کمی کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے شہری علاقوں میں بارش کے فوراً بعد پیدا ہونے والے سیلابی دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہروں میں اکثر سیلابی صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کم وقت میں بڑی مقدار میں پانی نکاسی? آب کے نظام میں داخل ہو جاتا ہے۔ اگر ایک شہر میں ہزاروں عمارتیں اپنی چھتوں سے بارش کا پانی جمع کریں، پارکس اور کھلے مقامات بارش کے پانی کو عارضی طور پر روکیں اور مناسب جگہوں پر زیرِ زمین پانی کی ریچارجنگ کی جائے تو نکاسی? آب کے نظام میں اچانک داخل ہونے والے پانی کی مقدار کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم بڑے سیلابوں سے نمٹنے کے لیے مناسب ڈرینج سسٹم، نالوں کی صفائی، سیلابی منصوبہ بندی اور دیگر بنیادی ڈھانچے بھی ضروری رہیں گے۔ بارش کے پانی کو جمع کرنا ان نظاموں کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون ذریعہ ہے۔ مستقبل کی آبی ضروریات صرف بڑے منصوبوں سے پوری نہیں ہوں گی، بلکہ بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایسے چھوٹے اور مقامی اقدامات کے مجموعے سے بھی پانی کے بحران کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر بارش کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے ایک قیمتی آبی وسیلے کے طور پر دیکھا جائے تو ہمارے شہر پانی کے تحفظ اور شہری سیلاب، دونوں مسائل سے نمٹنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا سکتے ہیں۔ بارانِ رحمت کو محفوظ کرنا صرف پانی کو بچانا نہیں، بلکہ مستقبل کے لیے ایک قیمتی وسیلہ محفوظ کرنا ہے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل