Thursday, October 01, 2026
 

ٹی وی شو سے سیکھ کر طیارے کو کیسے گرنے سے بچایا؛ اسرائیلی مسافر نے پوری کہانی سنادی

 



مسافر نے ’ایئر کریش انویسٹی گیشن‘ دیکھ کر طیارے کے کنٹرول سنبھالنے کا طریقہ سیکھا اور حملہ آور کو قابو کرنے میں بھی مدد لی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 کو ہائی جیک کرنے یا مبینہ حملے کے دوران ایک مسافر نے ایسا قدم اٹھایا جس نے طیارے کو ممکنہ بڑے حادثے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیلی مسافر یانیو حیون نے بتایا کہ جب وہ کاک پٹ میں داخل ہوا تو اس نے طیارے کے کنٹرول کے ہینڈلز پیچھے کھینچنا شروع کردیے اور نیچے گرتے جہاز کو دوبارہ فضا میں بلند کیا۔ یہ طریقہ کار انھوں نے ایک ٹی وی شو تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ طیارہ اڑانا جانتے تھے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ ایئر کریش انویسٹی گیشن نامی ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں۔ اسرائیلی مسافر نے مزید کہا کہ کنٹرول سنبھالنے کے بعد طیارہ کچھ حد تک دوبارہ ہموار ہونے لگا تاہم اسی دوران زخمی پائلٹ نے کنٹرول سنبھال لیا اور دیگر دو پائلٹس نے آکر طیارہ تبوک ایئر پورٹ پر اتارا۔ خیال رہے کہ ’ایئر کریش انویسٹی گیشن‘ پروگرام حقیقی فضائی حادثات، ہائی جیکنگ اور دیگر واقعات کو ماہرین اور عینی شاہدین کی مدد سے ڈرامائی انداز میں دوبارہ پیش کرتا ہے۔ امریکا میں یہ پروگرام ’ایئر ڈیزاسٹرز‘ کے نام سے نشر ہوتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مسافر کے اس انکشاف پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ خود یہ پروگرام اس لیے نہیں دیکھتے کہ اس میں برے واقعات دکھائے جاتے ہیں تاہم انھوں نے مسافر کے کردار کو حیران کن قرار دیا۔ واقعے کے دوران پرواز دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ کاک پٹ میں جھڑپ کے بعد اسے سعودی عرب کے شہر تبوک منتقل کیا گیا جہاں اسے بحفاظت اتار لیا گیا۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور بظاہر خودکشی پر مائل اور انتہاپسندانہ نظریات سے متاثر تھا۔ واقعے کے پس پردہ محرکات اور کسی تنظیم یا ملک سے تعلق کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔ بعض رپورٹس کے مطابق قابو کیے جانے کے بعد اس نے ’’مجھے مار دو‘‘ کے الفاظ بھی کہے تاہم اس کی مکمل پس منظر اور محرکات کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے پرواز کے بھارتی کپتان کی بہادری کو بھی سراہا جنھوں نے معاون پائلٹ عمانی نژاد کے چاقو حملے کا دلیری سے مقابلہ کیا اور مسافروں کی جان بچائی۔ نیتن یاہو کے بقول بھارتی نژاد پائلٹ نے شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی جس سے مسافروں اور عملے کو حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد ملی۔ خیال رہے کہ مذکورہ پرواز دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ 35 ہزار فٹ کی بلندی میں عمانی معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں پائلٹ پر چاقو سے حملہ کرکے طیارے کو قابو کرنے کی کوشش کی جس کے دوران جہاز 18 ہزار فٹ نیچے آگیا تھا۔ جس بعد طیارے میں موجود دو دیگر فلائی دبئی پائلٹس نے بعد ازاں طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحفاظت اتارا تھا جہاں مسافروں کے طبی معائنے کے بعد انھیں متبادل طیارے سے تل ابیب لے جایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے واقعے میں ملوث معاون پائلٹ کے عمانی شہری ہونے الزام میں عمان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ سعودیہ اور امارات نے بھی تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ اسرائیلی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا مشتبہ شخص جس کی باضابطہ شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی کیا عمان اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتا تھا کیوں کہ دونوں ممالک کے درمیان سفری پابندیاں نہایت سخت ہیں۔ عمان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور عمانی شہریوں کو اسرائیل میں داخلے کے لیے ویزا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس واقعے کی دہشت گردی سمیت تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ بلیک باکس اور مسافروں کی بنائی گئی ویڈیوز سے مزید شواہد حاصل کیے جارہے ہیں۔ تاحال معاون پائلٹ کے اس عمل کی کوئی ٹھوس وجہ اور عزائم سے متعلق کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب اہم بات یہ ہے کہ مبینہ ایرانی تعلق اور حملے کا حتمی محرک ابھی ثابت نہیں ہوا رائٹرز کے بقول ابتدائی جائزے میں حملہ آور معاون پائلٹ کے اکیلے کارروائی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل