Loading
امارات سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں کاک پٹ کے اندر مبینہ حملے کے واقعے میں ملوث معاون پائلٹ سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 دبئی سے تل ابیب جارہی تھی کہ دورانِ پرواز معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں جہاز اُڑانے والے پائلٹ پر حملہ کرکے طیارے کو قابو میں کرنے کی کوشش کی تھی۔
پائلٹ نے بھی بھرپور مزاحمت دکھائی اور شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوگیا جس کے بعد مسافر اور عملے نے اندر داخل ہوکر حملہ آور کو قابو کیا جو معاون پائلٹ تھا۔
حملہ آور معاون پائلٹ کے ایک ساتھی پائلٹ نے اسرائیلی چینل کو بتایا کہ اس کا تعلق عمان سے تجا اور وہ تقریباً آٹھ ماہ قبل ہی فلائی دبئی میں بطور معاون پائلٹ شامل ہوا تھا۔ وہ بنیاد پرست لگتا تھا۔
ساتھی پائلٹ نے مزید بتایا کہ عمان سے تعلق رکھنے والا معاون پائلٹ دن بھر غیر معمولی طور پر زیادہ نماز پڑھتا تھا اور خواتین سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا کرتا تھا وہ زیادہ گفتگو بھی نہیں کرتا تھا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور معاون پائلٹ تھا اور اس کا تعلق عمان سے تھا تاہم اس کے پاس دہری شہریت بھی تھی اور وہ سخت گیر اسلامی نظریات کا حامل ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہنا تھا کہ تاحال عمانی معاون پائلٹ کے ایران کے ساتھ تعلقات کے ثبوت نہیں ملے لیکن ابھی تفتیش جاری ہے اور ایسا ممکن ہے کہ وہ ایران سے رابطے میں ہو۔
پرواز کے پائلٹ کی حالت اب خطے سے باہر ہے جس کا تعلق بھارت سے ہے اور انھیں ہیرو قرار دیا جا رہا ہے جب کہ حملہ معاون پائلٹ عمانی نژاد کو حراست میں لے لیا گیا جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز دبئی سے اتل ابیب جانے والی پرواز میں کاک پٹ میں پائلٹ پر معاون پائلٹ نے حملہ کردیا تھا جس کے بعد پرواز کو ہنگامہ طور پر تبوک ایئرپورٹ پر اتارا اور بعد ازاں اسرائیل روانہ کیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل