Thursday, October 01, 2026
 

اسرائیل جانے والی پرواز کے ہائی جیک کی کوشش؛ ٹرمپ نے ایران پر الزام دھر دیا

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلائی دبئی کے طیارے میں مبینہ حملہ کرنے والے عمانی معاون پائلٹ کے ایران سے ممکنہ تعلق کا عندیہ دیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق وائٹ ہاؤس سے روانگی کے موقع پر صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا فلائی دبئی کے معاون پائلٹ کا ایران سے تعلق ہے؟ جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ اس معاملے پر کام جاری ہے اور متعلقہ فریق (اسرائیل اور امارات) اس معاملے پر امریکا کے ساتھ معاونت اور مشاورت کے عمل میں شریک ہیں۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب تک جو معلومات مل رہی ہیں، ان کی بنیاد پر جواب ’ہاں‘ میں ہے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا معاون پائلٹ کو ایران نے منصوبہ بندی کے تحت بھیجا تھا یا ایرانی پاسداران انقلاب نے اسے تیار کیا تھا تو صدر ٹرمپ نے زیادہ محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس گفتگو میں یہ واضح نہیں کیا کہ فلائی دبئی واقعے کی جاری تحقیقات سے متعلق انھیں کوئی انٹیلی جنس معلومات یا باضابطہ بریفنگ دی گئی ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں بڑی حد تک اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملنے والی معلومات پر انحصار کر رہے ہیں اور انھیں خود بھی یقین نہیں کہ یہ معلومات درست ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو مرتبہ فاکس نیوز سے گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ فلائی دبئی واقعے میں ایران ملوث تھا یا نہیں تاہم یہ خارج از امکان بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ تاحال طیارے کو ہائی جیک یا تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے گرفتار معاون پائلٹ کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے سوائے اس کے وہ عمانی نژاد ہے اور دہری شہریت رکھتا ہے۔ واقعے کے محرک کا بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل