Loading
اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے ایک سینئر عہدیدار بین ڈیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں اور انسانی صورتحال پر تنقید کے باعث 26 سال بعد ان کا ملازمت کا معاہدہ ختم کردیا گیا۔
ڈیوس کے مطابق انہیں جولائی میں بتایا گیا کہ ان کے معاہدے کی تجدید نہیں کی جائے گی اور اس کی وجہ ادارے کے غیر جانب داری کے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی بتائی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان پر روم میں ایف اے او کے بعض ملازمین کی جانب سے غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال کے خلاف ہفتہ وار خاموش احتجاج منظم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
بین ڈیوس نے بتایا کہ وہ غزہ میں خوراک کی دستیابی اور انسانی قانون سے متعلق ایک رپورٹ پر بھی کام کر رہے تھے، جو مئی میں شائع ہوئی۔ ان کے بقول بعد میں انہیں رپورٹ ہٹانے اور اس میں انسانی قانون کے حوالے شامل نہ کرنے کے لیے کہا گیا۔
دوسری جانب ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگ یو نے ایک ریکارڈ شدہ اجلاس کے دوران عملے کو انسانی حقوق کے معاملے پر ادارے کی حدود میں رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق اہم ہیں، تاہم اس معاملے کے لیے جنیوا میں متعلقہ اقوام متحدہ کا ادارہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو ملازمین ادارے کے آئین یا ضوابط کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔
بین ڈیوس کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کے یہ ریمارکس براہِ راست ان کے بارے میں تھے۔ ان کے مطابق انہیں ماضی میں بھی زیادہ سیاسی ہونے پر سرزنش کی جا چکی ہے۔ ایف اے او نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
ڈیوس کے مطابق غزہ کی صورتحال پر ہونے والے خاموش احتجاج میں ایک موقع پر سیکڑوں افراد شریک ہوئے تھے، تاہم اب ہر ہفتے تقریباً 30 سے 40 افراد اس میں شرکت کرتے ہیں۔ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے دوران خوراک کی قلت اور زرعی پیداوار کے مسائل پر ایف اے او سمیت اقوام متحدہ کے ادارے مسلسل تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل