Loading
پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے شعبہ گائنی سے نومولود کے مبینہ طور پر غائب ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے اور اس کی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے جبکہ متاثرہ خاندان نے اسپتال کے عملے پر الزام عائد کیا جبکہ انتظامیہ نے نومولود کو لے جانے والی خاتون کو متاثرہ خاندان کی جان پہچان کی خاتون قرار دیا۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور کے شعبہ گائنہ سے نومولود کے مبینہ غائب ہونے کے واقعے سے متعلق متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بچے کی پیدائش کے بعد اسپتال کے لیبر روم سے خواتین کو باہر نکال دیا گیا، تاہم کچھ دیر بعد جب وہ دوبارہ اندر داخل ہوئے تو نومولود وہاں موجود نہیں تھا۔
متاثرہ والد حشمت علی نے بچے کی بازیابی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز ان کی اہلیہ نے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں بچے کو جنم دیا، بچے کی پیدائش کے وقت اسپتال عملے نے گائنی روم سے ان کے گھر کی خواتین کو باہر نکال دیا، بعدازاں خواتین جب دوبارہ گائنی روم میں گئیں تو نومولود وہاں موجود نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کا روزنامچہ اسپتال میں قائم پولیس چوکی میں درج کرایا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
متاثرہ والد کا کہنا تھا کہ گائنی وارڈ کی نرس نے الٹا اہل خانہ پر ہی بچے کو غائب کرنے کا الزام عائد کیا، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ والدین اپنا ہی نومولود بچہ کیوں غائب کریں گے۔
حشمت علی نے مطالبہ کیا کہ بچے کو فوری بازیاب کرکے خاندان کے حوالے کیا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
دوسری جانب واقعے میں اہم پیش رفت بھی سامنے آئی ہے اور پولیس نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مختلف کیمروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ہے۔
پولیس کے مطابق فوٹیج میں مبینہ طور پر ایک برقع پوش خاتون نومولود کو لے کر اسپتال سے فرار ہوتی دکھائی دے رہی ہے، مبینہ خاتون اغوا کار رات تقریباً 11 بجے بچے کو لیبر روم سے لے کر نکلی اور بولٹن بلاک گیٹ کے راستے اسپتال سے فرار ہوئی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کی خواتین نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد مبینہ خاتون کی نشان دہی بھی کردی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق مبینہ اغوا کار خاتون کی گرفتاری اور نومولود کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مزید شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ معاملے کی انکوائری کی جا رہی ہے اور پولیس بھی واقعے کو دیکھ رہی ہے۔
ترجمان کے مطابق اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو فراہم کردی گئی ہے، جس کی مدد سے مبینہ طور پر بچے کو لے جانے والی خاتون کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
محمد عاصم کا کہنا تھا کہ واقعے کی متاثرہ خاندان نے تاحال ایف آئی آر درج نہیں کرائی، مذکورہ خاتون متاثرہ والدین کی رضامندی سے لیبر روم میں آتی جاتی رہی تھی جبکہ والدین کی جانب سے عملے کو بھی بتایا گیا تھا کہ خاتون ان کے ساتھ ہے اور اسے آنے جانے دیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل