Loading
امریکا میں خام تیل کی قیمت میں جمعہ کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جب دنیا کے بڑے صنعتی ممالک کے گروپ نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ہنگامی مشاورت شروع کردی۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں ایک موقع پر 5 فیصد تک کمی ہوئی بعد ازاں قیمت 4 فیصد کمی کے ساتھ 89.15 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 2.6 فیصد کم ہوکر 99.63 ڈالر فی بیرل ہوگئی جو گزشتہ کئی روز سے 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے اوپر رہی تھی۔
یورپی یونین نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ عالمی توانائی ایجنسی کے ساتھ مل کر ہنگامی ذخائر میں موجود مزید خام تیل اور ایندھن عالمی منڈی میں لانے پر کام کرے گی۔
جس کا مقصد عالمی منڈی میں رسد بڑھا کر قیمتوں میں کمی لانا ہے تاہم امریکی صدر کے ڈیزل کے ہنگامی ذخائر سے مزید ایندھن مارکیٹ میں لانے کی دھمکی کو مسترد کردیا تھا۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے صنعتی ممالک کے گروپ کے رہنماؤں کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں خام تیل اور صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی کی صورتحال اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے پر مارچ سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جس سے عالمی سطح پر پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ دنیا کو مہنگائی کے سیلاب کا سامنا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل