Loading
ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ امریکا-اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جارحیت کے خاتمے کے لیے دی گئیں تجاویز پر امریکا کے جواب کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بیان میں کہا کہ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر نیویارک میں چند تجاویز پیش کی تھیں، جس کے حوالے سے ثالثوں نے امریکا کا جواب پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بھی اپنا نکتہ نظر پیش کرچکے ہیں اور ان کے نکتہ نظر کو ملک کے اندر متعلہ پہلو اور حلقوں کے ذریعے جائزہ لیا جارہا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ہماری تجاویز پر امریکی جواب کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران مناسب کارروائی کرے گا تاہم ایران نئی جارحیت سمیت کسی بھی غیرمتوقع صورت حال کے حوالے سے بھی مناسب تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے امریکا کو تجویز دی تھی کہ امریکا نے ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے اور منجمد فنڈز جاری کرے تو 7 روز کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔
ایران اور امریکا کے درمیان یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں تعطل پیدا ہوگیا تھا جبکہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر جارحیت کا آغاز رواں برس فروری کے آخر میں شروع کیا تھا اور سفارتی کوششوں کے باعث اپریل کے وسط میں جنگ بندی ہوئی تھی۔
امریکا کے حملوں کے بعد ایران نے دنیا کے تیل کی اہم گزرگارہ آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔
دوسری جانب امریکا اور ایران نے پاکستان کی میزبانی میں جون میں مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت طے پایا تھا کہ امریکا ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے گا اور اس کے جواب میں ایرن آبنائے ہرمز کھول دے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل