Monday, October 05, 2026
 

قرونِ وسطیٰ کے بلغاریائی حکمران کی باقیات 60 سال بعد وطن واپس پہنچ گئیں

 



بلغاریہ کے قرونِ وسطیٰ کے مشہور حکمران زار سیموئیل کی وہ باقیات، جو تقریباً 60 سال قبل یونان میں دریافت ہوئی تھیں، طویل سفارتی مذاکرات کے بعد بلغاریہ واپس پہنچا دی گئی ہیں۔ زار سیموئیل نے 997 سے 1014 تک پہلی بلغاریائی سلطنت پر حکومت کی اور بازنطینی سلطنت کے خلاف کئی جنگیں لڑیں۔ 1014 میں بازنطینی فوج نے اس کی فوج کو شکست دی، جس کے کچھ عرصے بعد سیموئیل کا انتقال ہوگیا۔ وہ آج بھی بلغاریہ میں قومی شناخت کی ایک اہم علامت سمجھے جاتے ہیں۔ باقیات 1969 میں یونانی ماہرِ آثارِ قدیمہ نکولاؤس موتسوپولوس نے جھیل پریسپا کے جزیرے سینٹ اچیلیوس پر ایک قدیم کلیسا کی کھدائی کے دوران دریافت کی تھیں۔ آثارِ قدیمہ اور بشریاتی شواہد کی بنیاد پر انہیں زار سیموئیل سے منسوب کیا گیا، تاہم بعض ماہرین اب بھی اس شناخت کو قطعی طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھتے۔ یونان اور بلغاریہ کے حالیہ معاہدے کے تحت یونان نے باقیات بلغاریہ کے حوالے کیں، جبکہ بلغاریہ نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران یونان سے لے جائی گئی 48 مذہبی نوادرات واپس کرنے پر اتفاق کیا۔ باقیات کو فوجی طیارے کے ذریعے صوفیہ پہنچایا گیا، جہاں انہیں 21 توپوں کی سلامی اور مکمل سرکاری اعزازات کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا اور بعد ازاں چرچ آف سینٹ صوفیہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل