Loading
ذرائعآئی ایم ایف پٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر رضامند ہوگیا جب کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے پٹرول سبسڈی اسکیم میں مزید صارفین نہ بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہوگئے جب کہ رواں ہفتے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام نے ایم ای ایف پی کی تیاری پر کام شروع کردیا، آئی ایم ایف مشن نے وزارت خزانہ، ایف بی آر اور وزارت پٹرولیم کے حکام سے ملاقاتیں کیں، آئی ایم ایف نے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق سندھ نے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دے دیا، ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ سندھ کے اختلاف کے باعث شوگر پالیسی پر اتفاق نہ ہوسکا، آئی ایم ایف نے آٹو پالیسی میں ای وی گاڑیوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایف بی آر نے رواں سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرادی، آئی ایم ایف نے جولائی تا ستمبر محصولات میں پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آئی ایم ایف نے گردشی قرضے میں کمی اور ڈسکوز کے نقصانات پر قابو پانے پر زور دیا اور ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اقدامات تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
اقتصادی ٹیم نے دسمبر 2026 تک نئے این ایف سی کی یقین دہانی کرائی، رواں مالی سال پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو چار فیصد رہنے کا امکان ہے، علاقائی کشیدگی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مذاکرات کامیاب ہوئے تو آئی ایم ایف مجموعی جائزے کا اعلامیہ جاری کرے گا، پاکستان کو قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل