Tuesday, October 06, 2026
 

ٹام کروز کی ’ڈیگر‘ بڑے بجٹ کے باوجود باکس آفس پر ناکام

 



ہالی ووڈ کے سپر اسٹار ٹام کروز کی نئی فلم ’ڈیگر‘ سے وابستہ کامیابی کی توقعات پہلے ہی ہفتے میں پوری نہ ہوسکیں اور فلم نے باکس آفس پر انتہائی کم بزنس کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی امریکا کے 3 ہزار 321 سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ’ڈیگر‘ نے ابتدائی ہفتے میں تقریباً 80 لاکھ ڈالر کمائے۔ حتمی اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد اس رقم میں معمولی تبدیلی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ فلمی تجزیہ کاروں نے اس فلم سے تقریباً 75 لاکھ ڈالر کے ابتدائی بزنس کی توقع کی تھی، لیکن ٹام کروز جیسے عالمی شہرت یافتہ اداکار اور معروف ہدایت کار الیخاندرو گونزالیز ایناریٹو کی موجودگی کے باوجود فلم کی کارکردگی حیران کن طور پر کم رہی۔ ’ڈیگر‘ کا تخمینی بجٹ 16 کروڑ سے 18 کروڑ ڈالر کے درمیان بتایا جاتا ہے۔ باکس آفس ماہرین کے مطابق اتنے بڑے بجٹ کی فلم کے لیے قابل قبول آغاز کے طور پر کم از کم 4 کروڑ ڈالر کی آمدنی درکار تھی، تاہم ریلیز سے پہلے بننے والے منفی تاثر اور کمزور تشہیری مہم کے باعث فلم سے وابستہ توقعات مسلسل کم ہوتی گئیں۔ فلم میں ٹام کروز نے ایک طاقتور آئل ٹائیکون کا کردار ادا کیا ہے جو ایک بڑے ماحولیاتی بحران سے دوچار ہوجاتا ہے۔ فلم کی ہدایت کاری الیخاندرو گونزالیز ایناریٹو نے کی ہے، جو ’برڈمین‘ اور ’دی ریویننٹ‘ جیسی تنقیدی اور تجارتی کامیاب فلمیں دے چکے ہیں۔ وارنر برادرز کو امید تھی کہ ٹام کروز اور ایناریٹو کی جوڑی فلم کو پہلے ہفتے میں تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ سے 2 کروڑ ڈالر تک کا بزنس دلوا سکتی ہے، تاہم ’ڈیگر‘ اس ہدف سے بھی خاصی دور رہی۔ یوں بڑے اسٹار، معروف ہدایت کار اور کروڑوں ڈالر کے بجٹ کے باوجود فلم کی ابتدائی کارکردگی نے ہالی ووڈ میں اسٹار پاور اور بڑے بجٹ پر انحصار کرنے والی فلموں کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فلم کی ریلیز سے قبل ٹام کروز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی اپنے جوش کا اظہار کیا تھا۔ اداکار نے کہا تھا کہ انہیں ’ڈیگر‘ کا حصہ بننے پر بے حد فخر ہے اور یہ فلم باضابطہ طور پر سنیما گھروں میں پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے فلم کی پوری کاسٹ اور عملے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اتنے باصلاحیت فنکاروں کے ساتھ مل کر فلم تخلیق کرنا ان کے لیے خوشی اور اعزاز کی بات ہے۔ کروز کے مطابق فلم کی تیاری میں شامل تمام افراد نے بھرپور لگن، محنت اور خوشی کے ساتھ کام کیا اور یہ تجربہ ان کے لیے ناقابل فراموش رہا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل