Tuesday, October 06, 2026
 

ٹرمپ کا ایران کو امریکی شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دعوت دینے کا عجیب وغریب بیان

 



وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع بیان کی وضاحت کرتے ہوئے تردید کی ہے جس میں انھوں نے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کو ریاست نیبراسکا میں وسط مدتی انتخابات کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران جنگ کے باعث بلند تیل قیمتوں کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ دنیا اور امریکا کو محفوظ رکھنے کی قیمت ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ یہ قیمت تھوڑی زیادہ ہے لیکن دنیا کو اور اپنے ملک کے جان و مال کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بہت معمولی قیمت ہے۔ انھوں نے اپنے مؤقف کے دفاع میں یہاں تک بھی کہا کہ وہ (ایران) ایک شہر کو ختم کرسکتے ہیں۔ انھیں لاس اینجلس کو ختم کرنے دیں، انھیں سان ڈیاگو کو ختم کرنے دیں۔ یہ بہت معمولی قیمت ہے اور یہ (جنگ کا سلسلہ) بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔ صدر ٹرمپ کی تقریر کے ان الفاظ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی جسے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ہاتھوں امریکی شہروں کو تباہ کیے جانے کی بات کررہے ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا کہ صدر ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ غیر ملکی دشمن لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ختم کردیں جبکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ کسی امریکی شہر کی جوہری تباہی مذاق کا موضوع نہیں۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹس کی اس تشریح کو مسترد کردیا۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چیونگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح طور پر یہ بتارہے تھے کہ اگر ایران کو جوہری طاقت بننے سے نہ روکا جاتا تو امریکی شہر خطرے میں پڑسکتے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے بھی لاس اینجلس ٹائمز کی اس سرخی پر اعتراض کیا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ختم کرنے کی اجازت دینے کی بات کی۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ کا مطلب یہ تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جنگ کررہا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایران ان شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتا تھا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل