Tuesday, October 06, 2026
 

جامعہ کراچی : سبکدوش قائم مقام وی سی کے صرف دو ماہ کی عرصہ تعیناتی میں امتحانی نتائج میں ردوبدل کا انکشاف

 



جامعہ کراچی کے حال ہی میں سبک دوش ہونے والے قائم مقام وائس چانسلر کے دو ماہ کے مختصر عرصے میں امتحانی نتائج میں رد و بدل کا ہوش ربا معاملہ سامنے آگیا۔ شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی جانب سے اسکروٹنی کی تحریری سفارش اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری لے کر لاء کالجوں کے ڈیڑھ سو کے قریب فیل طلبہ کو کم از کم دو مضامین میں پاس کردیا ہے ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ لاء کالج کے متعلقہ ڈیڑھ سو سے زائد طلبہ امتحانی کاپیوں اور جاری کردہ نتائج میں فیل تھے۔ بڑی تعداد میں ان فیل طلبہ کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی بناکر بی اے ایل ایل بی میں پاس  کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سابق مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اپنے دور میں اس معاملے کو روک دیا تھا۔ "ایکسپریس " سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ " طلبہ کی جانب سے ایک اجتماعی درخواست آئی تھی جبکہ یونیورسٹی اسکروٹنی کے لیے انفرادی درخواست پر کارروائی کرتی ہے جبکہ اسکروٹنی رولز میں اینوول سسٹم میں صرف ری کائونٹنگ ہوتی ہے کاپیوں کی ری چیکنگ نہیں کی جاتی اس لیے مذکورہ درخواست روک دی تھی " ادھر ایکسپریس نے پاس کیے گئے فیل طلبہ کی امتحانی کاپیوں کا عکس، فیل/پاس مارکس شیٹس اور ایوارڈ شیٹ حاصل کرلی۔ علاوہ ازیں فرضی اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس کی روداد اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری کی شیٹس بھی ایکسپریس کو موصول ہوئی ہیں۔ فیل کو پاس کرنے کی اس  نئی داستان نے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کے لیے بھی چیلنجز کھڑے کردیے۔ نئے وائس چانسلر اگر موجودہ ناظم امتحانات کو برقرار رکھتے ہیں تو مزید اسی طرح کے نئے کیسز سامنے آسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ نئے وائس چانسلر چار روز قبل وزیر اعلی سندھ کی جانب سے مقرر کئے گئے ہیں۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ ایل ایل بی میں بڑی تعداد میں طلبہ ایسے ہیں جو اوبلیگیشن obligations اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم مارکس کے ساتھ فیل تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ فرضی اسکروٹنی کراکے انھیں 50 سے 65 کے درمیان مارکس دے کر پاس کیا گیا۔ ایل ایل بی کے نتائج کے اجراء کے بعد شعبہ امتحانات نے طلبہ کو پہلے فیل جبکہ اسکروٹنی کے بعد پاس کی مارک شیٹس جاری کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو،  متعلقہ دونوں لاء کالجوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل ایک اسکروٹنی کمیٹی از خود ہی قائم ہوگئی اس اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو  کے پیپر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا  جبکہ یونیورسٹی قانون میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی بظاہر گنجائش نہیں۔ مزید براں 6 اگست کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری ناظم امتحانات نے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے لی گئی۔ وائس چانسلر سے منظوری میں other related cases   کی اصطلاح شامل کرکے مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں بھی فیل طلبہ کو پاس کیا گیا۔ وائس چانسلر سے منظوری ملتے ہی 6 اگست کو ہی ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل کی جانب سے طلبہ کو اسکروٹنی اپلائی کرنے کو کہا گیا۔ ادھر "ایکسپریس " نے اس معاملے پر جب اسلامیہ لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر ندیم ایڈوکیٹ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ " میں کچھ نہیں جانتاجو پوچھنا ہے ڈین لاء سے دریافت کریں"۔ جب ناظم امتحانات ڈاکٹر یاسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے معاملے کی صحت سے ہی انکار کردیا ان کا کہنا تھا کہ "غلط اطلاع ہے کسی فیل کو پاس نہیں کیا مزید کچھ نہیں کہوں گا" جبکہ اس برعکس جب رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نتائج تبدیل کرنے کی تصدیق کی تاہم اسے قانونی قرار دیا   ان کا کہنا تھا کہ" ہم نے وائس چانسلر سے منظوری لے کر اسکروٹنی کمیٹی بنائی تھی طلبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی 89 فیصد طلبہ کو ایک ہی ٹیچر نے فیل کیا دونوں پرنسپلز اور ناظم امتحانات کی موجودگی میں دوبارہ کاپیوں کی جانچ کی کسی صفر مارکس کے حامل طالب علم کو پاس نہیں کیا جو طلبہ چند مارکس سے فیل تھے صرف وہ پاس ہوئے ہیں، سارا کام قانونی کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ یونیورسٹی قانون میں کاپیوں کو دوبارہ جانچ کرانے کی گنجائش ہے۔ علاوہ ازیں جب ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید ڈایو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 180 طلبہ کو اسلامیہ کالج کے ٹیچر نے فیل کیا ہم نے اسکروٹنی کمیٹی میں لے جا کر ان طلبہ کو پاس کیا جن کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔  واضح رہے کہ متعلقہ پرچوں میں پاس کے نتائج حاصل کرکے اب طلبہ نئے امتحانات میں جانے کی تیاری کررہے ہیں ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل