Loading
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہاؤسنگ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ریاض حسین پیرزادہ، عطا اللہ تارڑ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں قرضوں کے حوالے سے نیشنل بینک آف پاکستان اور فرسٹ ویمن بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل بینک آف پاکستان کی ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کی منظوری کی شرح 76 فیصد ہونا قابلِ تحسین ہے، نیشنل بینک کی کارکردگی بڑھانے کیلئے بہترین پروفیشنلز کی خدمات لی جائیں اور مطلوبہ نتائج نہ دینے والے عملے کے خلاف سے بلا خوف محکمانہ کاروائی کی جائے، بینکوں کے لیے ہاؤسنگ فنانس کی فراہمی آسان بنانے کے لیے دیگر صوبے پنجاب کی طرز پر اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن تیز کریں، اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے بینکوں کے لیے ہاؤسنگ قرضوں کی فراہمی میں آسانی اور شفافیت آئے گی۔
اجلاس میں ہاؤسنگ، زرعی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی کے اعداد وشمار پیش کیے گئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت اب تک 426 ارب روپے مالیت کے 71 ہزار 690 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، اب تک 13,214 افراد کو 76 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، رواں سال 125,000 رہائشی یونٹس کے لیے 700 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے، زرعی شعبے کے لیے قرضوں کا مجموعی حجم 1,352 ارب روپے ہے، جس سے 34 لاکھ 55 ہزار افراد مستفید ہوئے، جون 2027 تک زرعی قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور مستفید ہونے والوں کی تعداد 45 لاکھ کا ہدف مقرر ہے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی شعبے کی مالی وسائل تک رسائی بڑھا کر کسانوں کی پیداواری صلاحیت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا، ایس ایم ای شعبے کے 3 لاکھ 50 ہزار کاروباری افراد کو 1,137 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جون 2027 تک ایس ایم ای شعبے کے قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے اور قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد 5 لاکھ 65 ہزار کا ہدف مقرر ہے، ایس ایم ایز کو مالی وسائل تک آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، ایس ایم ایز کے لیے نظرثانی شدہ ضوابط اور ہاؤسنگ فنانس کے طریقہ کار کو مزید آسان اور مؤثر بنانے کےلئے اقدامات لئے جارہے ہیں۔
اجلاس میں قرضوں کی فراہمی میں مشترکہ رسک شیئرنگ، سپلائی چین فنانسنگ کے فروغ ، مستند ڈیٹا شیئرنگ اور دیگر جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی اور کہا گیا کہ چھوٹے قرضوں کے حصول کے لیے صارفین کو بینک برانچوں کے چکر لگانے سے نجات دلانے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جارہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ، زراعت اور ایس ایم ای شعبوں کو مالی وسائل کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرکے قرضوں کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت کے لیے ایس ایم ای پورٹل نومبر کے اختتام تک فعال کیا جائے، ایس ایم ای پورٹل کے ذریعے بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی اور لیٹرز آف کریڈٹ (ایل سیز) سمیت کاروباری سہولیات کی تازہ ترین صورتحال کی براہِ راست نگرانی ممکن ہوگی، ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور عالمی ویلیو چین سے منسلک کرنے کے لیے سمیڈا مؤثر اقدامات کرے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل