Loading
بھارتی ریاست آسام کے ضلع جورہاٹ میں مبینہ ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ کے ذریعے ایک نجی بینک منیجر سے لاکھوں روپے ہتھیانے والے گروہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 3 مردوں اور 2 خواتین کو گرفتار کرلیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق تنسکیا کے رہائشی بینک منیجر کی جولائی میں انسٹاگرام کے ذریعے جورہاٹ کی ایک خاتون سے دوستی ہوئی جو بعد میں خاص تعلق میں بدل گئی۔
14 اگست کو خاتون نے اسے جورہاٹ بلایا جہاں وہ رات تقریباً ایک بجے پہنچا جہاں سے خاتون اسے ایک کرائے کے مکان میں لے گئی۔
بینک منیجر نے پولیس کو بتایا کہ جب ہم دونوں گھر کے اندر موجود تھے تو کچھ نامعلوم افراد نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ خاتون کے دروازہ کھولنے پر وہ اندر داخل ہوگئے۔
ان افراد نے بینک منیجر کی نامناسب حالت میں ویڈیو بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے اور اُس کے اہل خانہ کو فارورڈ کرنے کی دھمکی دی۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے ابتدا میں بینک منیجر سے 2 لاکھ روپے مانگے جس پر اپنی بدنامی سے خوف زدہ بینک منیجر نے رقم دے دی۔
بعد ازاں مزید ایک لاکھ روپے بھی لیے گئے اور پھر مزید 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جس پر متاثرہ شخص نے پولیس سے رجوع کرلیا۔
پولیس نے پہلے سنجیب داس اور انکت پال کو گرفتار کیا جبکہ تحقیقات کے دوران مبینہ سرغنہ مورومی داس نیوگ کی شناخت ہوئی اور اسے بھی گرفتار کرلیا گیا۔
بیبی بورا اور اس کے شوہر انکت بورا کو بھی مبینہ کردار پر حراست میں لیا گیا۔ یہ گروہ مالی طور پر خوش حال افراد، خصوصاً تاجروں اور کاروباری شخصیات کو نشانہ بناتا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل