Wednesday, October 07, 2026
 

پاکستان کا بڑھتا عالمی کردار

 



کبھی کبھی ایک اعزاز محض کسی شخصیت کے سینے پر سجایا جانے والا تمغہ نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک ملک کے اجتماعی شعور، اس کی سفارتی ترجیحات اور عالمی سیاست میں اس کے کردار کی علامت بن جاتا ہے۔ ایوان صدر میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز سے نوازنے کی تقریب بھی اسی معنوی وسعت کی حامل ہے۔ یہ اعزاز ایک فرد کی خدمات کا اعتراف ضرور ہے، مگر اس کے پس منظر میں پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان ایک طویل تعلق، عالمی امن کے لیے پاکستانی قربانیوں اور موجودہ عالمی بحرانوں میں اسلام آباد کے سفارتی کردار کی ایک پوری داستان پوشیدہ ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا جنگوں، طاقت کے تصادم، معاشی پابندیوں، علاقائی کشیدگی اور سفارتی بے اعتمادی کے گھنے بادلوں میں گھری ہوئی ہے، امن کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی قدر و منزلت محض رسمی معاملہ نہیں رہتی۔ انتونیو گوتریس پاکستان کی جانب سے نشان امتیاز حاصل کرنے والے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ اس اعزاز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اقوام متحدہ کا موجودہ عالمی منظرنامہ خود ایک کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔پاکستان نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ اس عالمی ذمے داری کی ایک نمایاں مثال ہے۔ صدر مملکت کے مطابق دو لاکھ ستر ہزار سے زائد پاکستانی امن دستے 48 اقوام متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ اعداد محض ایک شماریاتی حوالہ نہیں بلکہ پاکستان کے اس عملی عزم کا ثبوت ہیں کہ عالمی امن کی ذمے داری صرف بڑی طاقتوں کی میراث نہیں ہونی چاہیے۔ جن ممالک کے اپنے وسائل محدود ہیں، وہ بھی انسانی تحفظ، امن اور استحکام کے لیے قابل قدر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے فوجی جوانوں نے دنیا کے مختلف بحران زدہ خطوں میں امن کے قیام کے لیے اپنی جانیں پیش کی ہیں، اس لیے اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کا تعلق محض سفارتی سطح کا نہیں بلکہ انسانی قربانیوں سے عبارت ہے۔ گوتریس کی اسلام آباد آمد کا ایک اور اہم پہلو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا اعتراف ہے۔ قطر کی جانب سے مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ اور تصادم کے باوجود سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم موقع بھی موجود ہے اور ایک مشکل امتحان بھی۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی صرف دو ملکوں کا باہمی اختلاف نہیں۔ اس کے اثرات آبنائے ہرمز، خلیج عمان، عالمی توانائی کی منڈی، سمندری تجارت، مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔ کسی بھی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں تیل کی قیمتوں سے لے کر خوراک، نقل و حمل اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں تک سب متاثر ہوں گے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے یہ کہنا کہ امریکا فوجی لڑائی ہار چکا ہے اور معاشی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، جب کہ ایرانی وزارت دفاع کی طرف سے کسی نئے حملے کا سخت جواب دینے کا انتباہ، ظاہر کرتا ہے کہ تہران دباؤ کے باوجود پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری طرف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی حکمت عملی بھی خطے میں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں رکھنے کی کوشش پر مبنی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک معمولی غلط اندازہ بھی وسیع تر جنگ کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے مذاکراتی عمل کی حمایت محض سفارتی شائستگی نہیں بلکہ براہِ راست قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے اس بحران سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، خلیجی ممالک پاکستان کے دیرینہ دوست اور معاشی شراکت دار ہیں، جب کہ عالمی توانائی اور تجارت کا بڑا حصہ اسی خطے سے گزرتا ہے۔ چنانچہ اسلام آباد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی فریق کی محض جذباتی حمایت کے بجائے مذاکرات، خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کے اصولوں کو بنیاد بنائے۔ پاکستان کی اصل سفارتی طاقت یہی ہو سکتی ہے کہ وہ متحارب قوتوں کے درمیان رابطے کا پل بنے، نہ کہ کسی کشمکش کا فریق۔ انتونیو گوتریس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تحسین اسی تناظر میں اہم ہے۔ پاکستان کو اس اعتراف کو ایک عارضی سفارتی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کی مستقل سمت بنانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کو آج ایسے ممالک کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے مکالمے کو ترجیح دیں اور ایسے سفارتی راستے تلاش کریں جن سے جنگ کے امکانات کم کیے جا سکیں۔ پاکستان اگر اپنی علاقائی اہمیت، مسلم دنیا میں روابط اور مختلف عالمی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو دانش مندانہ انداز میں بروئے کار لائے تو وہ بحرانوں کے حل میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔مگر خطے کی صورت حال صرف ایران امریکا کشیدگی تک محدود نہیں۔ یمن میں جاری خونریز جھڑپیں، حوثیوں اور یمنی فورسز کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی، سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے، میزائلوں اور ڈرونز کی کارروائیاں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران کئی تہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ ایک محاذ پر فریقین مذاکرات کی زبان استعمال کرتے ہیں تو دوسرے محاذ پر میزائل اور ڈرونز بول رہے ہیں۔ یہی تضاد خطے کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں اور میزائلوں کی روک تھام کے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاسی حل کی تلاش کو بھی ترجیح دیں۔ ضروری ہے کہ ریاستوں کے درمیان موجود اختلافات کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔اسی پس منظر میں شام کی نئی قیادت اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطح روابط بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندیوں کا عمل جاری ہے اور کئی ریاستیں یہ محسوس کر رہی ہیں کہ پرانے تنازعات کو نئی حقیقتوں کے مطابق سیاسی راستہ دینا ہوگا۔ پاکستان کے لیے یہ تبدیلیاں بھی اہم ہیں، کیونکہ مسلم دنیا کے داخلی استحکام، اقتصادی روابط اور علاقائی تعاون کا اثر براہِ راست پاکستان کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر پڑتا ہے۔ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی مستقل پوزیشن بھی اسی اصول سے جڑی ہوئی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو محض طاقتور ریاستوں کی سہولت کے مطابق نہیں دیکھا جا سکتا۔ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت ہو یا کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سفارتی دلیل کو اصولی، قانونی اور مسلسل انداز میں دنیا کے سامنے رکھے۔ عالمی نظام کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب قانون کا اطلاق طاقت کے تفاوت سے آزاد ہو۔ سندھ طاس معاہدے کے بارے میں صدر مملکت کا یہ موقف بھی اسی وسیع اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا خطے کے لیے خطرناک رجحان ہوگا۔ جنوبی ایشیا میں پانی پہلے ہی مستقبل کی سلامتی کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے، اگر دریائی وسائل کو سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت متاثر ہوگی۔ اس لیے آبی تنازعات کو جذباتی نعروں کے بجائے معاہدوں، بین الاقوامی قانون اور تکنیکی مکالمے کے ذریعے حل کرنا ناگزیر ہے۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا مسئلہ بھی اسی عالمی ذمے داری کے دائرے میں آتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کی ہے۔ اب عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت کو محض تعزیتی بیانات تک محدود نہ رکھے بلکہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچوں، مالی معاونت، سرحد پار نقل و حرکت اور محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے مؤثر تعاون کرے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ بھی پاکستان کی سفارت کاری کا مستقل محور ہونا چاہیے۔ سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت اور ماحولیاتی تباہی نے ثابت کر دیا ہے کہ موسمیاتی بحران کسی مستقبل کی کہانی نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک نے عالمی اخراج میں نسبتاً معمولی حصہ ڈالا ہے، مگر اس کے نقصانات غیر معمولی ہیں۔ عالمی برادری کو موسمیاتی مالی معاونت، موافقت اور ماحولیاتی تحفظ کے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز دینا اسی لیے ایک علامتی تقریب سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ اعزاز پاکستان کے اس تصور کی توثیق بھی ہے کہ عالمی تنازعات کا انجام میدانِ جنگ نہیں، مذاکرات کی میز ہونی چاہیے، مگر اعزاز کی اصل معنویت تب ثابت ہوگی جب پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت کو مزید منظم، فعال اور نتیجہ خیز بنائے۔ دنیا اس وقت طاقت کے نئے توازن کی تشکیل کے مرحلے میں ہے۔ ایسے میں پاکستان کو شور میں اپنی آواز بلند کرنے کے بجائے ایسی آواز بننا ہوگا جسے بحران زدہ دنیا سننے پر مجبور ہو۔ امن کی سفارت کاری اگر مستقل قومی ترجیح بن جائے تو پاکستان کی عالمی شناخت پر ثبت ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل