Loading
وزیراعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کو مذاکر ات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مارچ ختم کر دیں تو مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی یہی کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات اور مارچ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس لیے اگر تحریک انصاف مذاکرات کا راستہ چاہتی ہے تو اسے اپنا مارچ ختم کرنا ہوگا۔ فی الحال حکومت کی یہی پوزیشن ہے۔ اس لیے مارچ ہو رہا ہے اور مذاکرات کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔
دوسری طرف تحریک انصاف کی یہ کوشش ہے کہ مذاکرات اور مارچ ساتھ ساتھ چلیں۔ جب مذاکرات کامیاب ہو جائیں تو مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا جا سکتا ہے لیکن صرف مذاکرات کے آغاز کے لیے مارچ کو ختم کرنے کا اعلان تحریک انصاف کے لیے ایک کڑوی گولی لگ رہا ہے کہ بغیر کچھ حاصل کیے مارچ ختم کر دیا جائے۔ اس لیے مجھے ڈیڈلاک نظر آرہا ہے۔
اس سے پہلے کہ آگے کوئی بات کی جائے میں ایک واقعہ لکھنا چاہتا ہوں۔ 1995 میں مجھے میرے اخبار کی جانب سے ملتا ن تبدیل کر کے وہاں بیورو چیف لگا دیا گیا۔ میرے لیے ملتا ن نیا شہر تھا۔ ملتان کو اولیا اللہ کا شہر کہا جاتا ہے۔ وہاں بہت بزرگ موجود ہیں۔ میں بھی بہاؤلدین زکریاؒ کے مزار پر گیا۔ میں نے دیکھا وہاں باہر ایک چھوٹی سے جھونپڑی ہے اور اس میں ایک بزرگ بیٹھا ہے۔
میرے ساتھ میرا ایک رپورٹر بھی تھا۔ میں نے اپنے رپورٹر سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔ اس نے کہا سر پتہ نہیں، پر لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ا ٹھارہ بیس سال سے یہ بزرگ باہر اس جھونپڑی میں ہی بیٹھا ہے۔ میں اس بزرگ کے پاس چلا گیا اور بیٹھ گیا۔ پہلے تو اس بزرگ نے میری طرف کوئی توجہ نہیں دی جیسے وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا۔کافی دیر بعد جب میں نے کافی سوال کیے تو اس نے گفتگو شروع کر دی۔ میں نے کہا کب سے بیٹھے ہیں تو اس نے کہا کافی سال ہو گئے ہیں، یاد نہیں۔ میں نے کہا آئیں اندر چلتے ہیں۔ اس نے کہا میں نے اندر نہیں جانا۔ میں نے کہا اندر کیوں نہیں جانا۔ سب اندر جاتے ہیں، دعا کرتے ہیں، آپ باہر بیٹھے ہیں۔
اس نے کہا میری اندر والے بابے سے لڑائی ہے۔ میں نے کہا کیا لڑائی ہے؟ کہنے لگا میں نے بابا جی کو کام کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں گھر جاؤ، کام ہو جائے گا۔ میں کہتا ہوں پہلے کام کرو، پھر گھر جاؤں گا۔ میں نے کہا پھر؟ اس نے کہا لڑائی چل رہی ہے۔ میں نے کہا کتنے سال ہو گئے؟ کہنے لگا جب جوان تھا تو آیا تھا۔ میں بیٹھا ہوں۔ بابا جی روز کہتے ہیں گھر جاؤ، کام ہو جائے گا۔ میں روز کہتا ہوں پہلے کام کریں پھر گھر جاؤں گا۔ زندگی گزر گئی۔ بس سیاسی طور پر مجھے یہی صورتحال نظر آرہی ہے۔ پہلے مذاکرات کریں پھر مارچ ختم کریں گے۔ وہ کہتے ہیں، پہلے مارچ ختم کریں، پھر مذاکرات کریں۔ شائد ایسے ہی عمر گزر جائے اور کچھ حاصل نہ ہو۔
باقی جہاں تک گورنر راج اور ایمرجنسی کا معاملہ ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہم محسوس نہیں کر رہے۔ عملی طور پر کے پی میں سہیل آفریدی کی حکومت ختم ہو چکی ہے۔ وہ لانگ مارچ کر رہے ہیں اور انتظامیہ دفعہ 144لگا رہی ہے۔ ان کی اپنی حکومت ان کے اپنے لانگ مارچ کے خلاف ہی دفعہ 144لگا رہی ہے۔ سڑکیں بند کر رہی ہے۔ سڑکوں پر کنٹینر لگائے جا رہے ہیں اور سہیل آفریدی بے بس نظر آرہے ہیں۔ ان کی پولیس کے چھوٹے چھوٹے تھانیداروں سے الجھنے کی ویڈیو سامنے آئی ہیں۔
اس لیے صاف نظر آرہا ہے کہ حکومت سہیل آفریدی کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ حکومت کا براہ راست تعلق حکم سے ہے۔ آپ کا حکم مانا جا رہا ہے توآپ کی حکومت ہے۔ اگر آپ کا حکم نہیں مانا جا رہا تو آپ کی حکومت نہیں ہے۔ اس وقت کے پی سہیل آفریدی کا کوئی حکم نہیں مانا جا رہا۔ اس لیے ان کی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ اعلان نہیں ہوا۔ کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا لیکن حکومت ختم ہو گئی۔
اسی لیے کے پی میں امن وامان کی صو رتحال پر گورنر کے پی نے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ یہ خبر سارے میڈیا میں آئی ہے۔ اس اجلاس میں آئی جی اور چیف سیکریٹری سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے سربراہان موجود تھے۔ ابھی وہاں گورنر راج نہیں لگا لیکن ساری انتظامیہ نے گورنر کو رپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ویسے تو ہمارے ملک میں گورنر وفاق کا نمایندہ ہوتا ہے اور اس کے پاس صوبائی حکومت میں کوئی انتظامی اختیارات نہیں ہوتے لیکن کے پی کے گورنر اس وقت وہاں امن وامان کے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ اس لیے کہیں نہ کہیں یہ پیغام چل گیا ہے کہ بات گورنر کی چلنی ہے۔ وزیر اعلیٰ فارغ ہے۔
ویسے تو دوستوں نے اس کی قانونی اور آئینی توجیح پیش کی ہے۔ دوستوں کے مطابق کے پی کے رولز آف بزنس جو آئین کے آرٹیکل 139کے تحت بنائے گئے ہیں۔ واضح کرتے ہیں کہ صوبہ کی صورتحال کے بارے میں باخبر رہنا گورنر کا حق ہے۔ اس لیے وہ افسران سے امن امان پر بریفنگ لے سکتے ہیں تا کہ وہ امن ومان کی صورتحال پر باخبر رہ سکیں۔
اس لیے گورنر کا امن ومان کے اجلاس کی صدارت کرنا کوئی غیرآئینی عمل نہیں ہے۔ شیڈول 4آئٹم 4 واضح کرتا ہے کہ گورنر کسی بھی معاملہ پر کوئی معلومات مانگ سکتا ہے۔ بریفنگ مانگ سکتا ہے۔ اس لیے دوستوں کے مطابق آئین اور رولز آف بزنس گورنر کو یہ اختیار دیتے ہیں جس کا انھوں نے استعمال کیا ہے تا ہم یہ بھی حقیقت باقی صوبوں میں جہاں وزیر اعلیٰ کا اختیار موجود ہے۔ وہاں گورنر یہ اختیار استعمال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ کے پی کی صورتحال فرق ہے۔
لانگ مارچ کی اب تک جو خبریں سامنے آئی ہیں۔ ان میں یہ بات واضح ہے کہ لاکھوں لوگ نہیں ہیں۔ عوام کی کوئی غیرمعمولی تعداد موجود نہیں ہے۔ تعداد پر اختلاف ہو سکتا ہے لیکن تعداد توقع سے کم ہے۔ اسی لیے اس لانگ مارچ نے ابھی اٹک کا منہ نہیں کیا، پشاور سے خیبر کا چکر لگانے چلا گیا ہے۔ ابھی اٹک یا اسلام آباد جانے کا کوئی پلان سامنے نہیں ہے۔ ابھی تک کا جو پلان سامنے آیا ہے، اس کے مطابق ابھی 11 اکتوبر تک اس نے کے پی کے اندر ہی چکر لگانا ہے۔ وہیں ایک ضلع سے دوسرے ضلع جانا ہے۔
لانگ مارچ کا منہ اگر اسلام آباد کی طرف نہیں ہے تو وہ قبول نہیں ہوتا۔ اسے کامیاب تو کہا ہی نہیں جاسکتا ۔ آپ کے پی کے اندر جتنے مرضی چکر لگائیں۔ اگر منہ اٹک کی طرف نہیں تو یہ لانگ مارچ نہیں۔ آپ سیاسی طور پر وقت ضایع کر رہے ہیں۔ اس کی کوئی سیاسی وقعت نہیں۔ آپ کے مخالف آپ کا مذاق ہی اڑائیں گے۔ اور آپ کے لانگ مارچ کو کوئی سنجیدہ نہیں لے گا۔
ایسا لگ رہا کہ سہیل آفریدی بھی ڈر گئے ہیں ۔ انھیں اندازہ ہے جونہی انھوں نے اسلام آباد یا اٹک کا پلان دیا، ان کے خلاف بھی پلان پر عمل درآمد شرو ع ہو جائے گا۔ اس لیے وہ ابھی کے پی میں ہی چکر لگانا چاہتے ہیں۔ ابھی 11اکتوبر تک کا پلان تو کے پی کے اندر ہی ہے۔ حکومت بھی تماشہ دیکھ رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل