Loading
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن جمعرات کو مشرق وسطیٰ میں طویل اور اہم فوجی تعیناتی مکمل کرنے کے بعد کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں اپنے اڈے پر واپس پہنچ گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحری جہاز کی تعیناتی تاریخی نوعیت کی تھی جس کے دوران 5 ہزار سے زائد امریکی بحری اہلکاروں اور میرینز نے ہزاروں جنگی پروازوں میں معاونت کی اور بحری جہاز نے 90 ہزار میل سے زیادہ کا سفر کیا۔
مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں ’’ابراہم لنکن‘‘ مجموعی طور پر 321 دن تعینات رہا اس دوران 265 دن تک مسلسل سمندر میں رہنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ یہ تعیناتی ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں انتہائی اہم رہی۔
امریکی بحریہ کے مطابق طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر رسد کی کمی اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق بھی تشویش سامنے آئیں۔ اس عرصے میں 8 اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش بھی کی جس کے بعد عملے کی سہولیات بہتر بنانے کے اقدامات کیے گئے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابراہم لنکن کی قیادت میں بحری گروپ نے تقریباً 3 ہزار 693 جنگی مشنز مکمل کیے، 450 ٹام ہاک کروز میزائل داغے اور ایرانی اہداف کے خلاف تقریباً 13 لاکھ 70 ہزار پاؤنڈ گولہ بارود استعمال کیا۔
اس بحری بیڑے نے مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کے دوران 77 ڈرونز اور 21 بحری شکن میزائل بھی مار گرائے جبکہ امریکی حکام کے مطابق 64 ایرانی جنگی جہازوں کو غرق کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے واپسی سے ایک روز قبل جہاز پر موجود اہلکاروں سے ملاقات کی اور بحری گروپ کو صدارتی یونٹ تعریفی اعزاز سے نوازا جو جنگ میں نمایاں کارکردگی پر دیا جانے والا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل