Loading
پاکستان کے خوبصورت سیاحتی علاقوں میں شمار ہونے والے ہنزہ سے سامنے آنے والی ایک پارٹی کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف مناظر پر مشتمل ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد صارفین کی ایک بڑی تعداد نے تقریب کے انعقاد اور اس میں شریک افراد پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک ریزورٹ میں پارٹی کے دوران رقص اور تفریح کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ تقریب میں منشیات بھی استعمال کی گئیں، تاہم دستیاب معلومات میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ویڈیوز میں معروف انفلوئنسر زینب راجا کی شرکت کا بھی ذکر کیا جارہا ہے۔ پارٹی کی تصاویر اور ویڈیوز مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلنے کے بعد معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔
View this post on Instagram
رپورٹس کے مطابق متعلقہ حکام نے اس ریزورٹ کو سیل کردیا ہے، تاہم اس کارروائی کے باوجود سوشل میڈیا پر لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا۔ متعدد صارفین نے ہنزہ کے ماحول اور سیاحتی شناخت کے حوالے سے اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کم از کم ہنزہ کو تو چھوڑ دیں‘‘، جبکہ ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسی سرگرمیاں اپنے شہر تک محدود رکھی جائیں۔ ایک اور ردعمل میں ہنزہ جیسے علاقے میں اس نوعیت کی سرگرمی سامنے آنے پر مایوسی کا اظہار کیا گیا۔
ہنزہ اپنی قدرتی خوبصورتی، پہاڑی مناظر اور پُرسکون ماحول کے باعث ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ اسی وجہ سے وائرل ہونے والی مذکورہ ویڈیوز نے تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیاحتی علاقوں میں ہونے والی تقریبات اور ان کے ضابطہ اخلاق سے متعلق بحث بھی دوبارہ چھیڑ دی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل