Thursday, October 08, 2026
 

قابلیت بمقابلہ وفاداری

 



ایک وقت تھا کہ جب دنیا میں اس بات کو اہمیت دی جاتی تھی کہ کیا کہا جارہا ہے؟ بدقسمتی سے اب ایسا نہیں ہے۔ اب ’’کیا کہا جارہا ہے؟‘‘ کو آہستہ آہستہ ’’کون کہہ رہا ہے؟‘‘ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ شاید اس لیے کہ دنیا اب زیادہ سمجھدار ہوگئی ہے اور اسے اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ بات درست ہے یا غلط، اہم یہ ہے کہ بات کہنے والا کون ہے۔ کیونکہ یہ ’’کون‘‘ وہ دروازہ ہے جہاں سے ذاتی مفاد کی راہیں کھلتی ہیں، بلکہ صاحب! راہیں کیا، شاہراہیں کھلتی ہیں۔آخر پہلے لوگ اس بات کو کیوں اہمیت دیتے تھے کہ کیا کہا جارہا ہے؟ شاید اس لیے کہ اس وقت تک لوگوں کے ضمیر کا ’’کچھ‘‘ حصہ زندہ تھا۔ لوگ مفادات، وابستگیوں اور پسند ناپسند سے اوپر اٹھ کر بات سنتے بھی تھے اور پرکھتے بھی تھے۔ اسی لیے کہنے والے بھی کچھ کہنے سے پہلے ہزار بار سوچتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کی بات کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور اس کے تعمیری اور تنقیدی دونوں پہلوؤں پر رائے دی جائے گی، اگر اچھی بات مخالف نے بھی کہی ہے تو اس کی تعریف کی جائے گی اور اگر احمقانہ اور عامیانہ بات اپنے نے بھی کی ہے تو اس کی گوشمالی کی جائے گی، مگر اب زمانہ بدل گیا ہے۔ آج کل اپنوں کی گوشمالی کرنے والے کو جنوب کی طرف بھیج دیا جاتا ہے، یعنی راندہ درگاہ کردیا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں میں شاید اسے افسر بکار خاص بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں وفاداری کب قابلیت بن گئی؟ یہ تبدیلی کب، کیسے اور کہاں سے نمودار ہوئی اور اب کہاں تک پہنچ چکی ہے؟ ہمارے ملک میں سماجی رویوں پر تحقیق کا کوئی باقاعدہ اور قابل ذکر انتظام تو ہے نہیں، لیکن یہ بات قریب قریب وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ سرکاری اداروں میں یہ علت شاید ابتدا ہی سے موجود تھی۔ ممکن ہے اس کی کچھ وجوہات ہمارے غلامی کے دور میں پروان چڑھی ہوں، جہاں قابلیت سے زیادہ حکم بجا لانا اہم سمجھا جاتا تھا۔ وقت گزرتا گیا، نظام بدلا، مگر رویہ ختم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا اور آج یہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ سرکاری اداروں سے شروع ہونے والی یہ عادت بد اب تو نجی اداروں تک پہنچ گئی ہے اور تو اور اب اس روگ سے واٹس ایپ کے گروپ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ وہاں بھی بعض اوقات یہ دیکھا جاتا ہے کہ بات کی صحت سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ بات کس نے کی ہے۔ اگر اپنے گروپ کے کسی صاحب نے کوئی بات کہی ہے تو وہ خواہ کتنی ہی کمزور ہو، داد و تحسین کے پھول برسنے لگتے ہیں اور اگر یہی بات کسی ’’غیر‘‘ نے کہہ دی ہو تو اس میں کیڑے نکالنے کے لیے پوری فیکٹری حرکت میں آجاتی ہے۔ ہم اسے کیا کہے اپنوں کا ساتھ یا نااہلی کا تحفظ؟ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آخر اس عادت میں خرابی کیا ہے؟ اگر ہم اپنوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟ بظاہر یہ بہت معصوم سا سوال ہے اور اس میں منطق بھی نظر آتی ہے، مگر اصل دھوکا بھی یہی ہے۔ اپنوں کا ساتھ دینا اور اپنوں کی نااہلی کا تحفظ کرنا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ کسی ساتھی، دوست یا اپنے ادارے کے فرد کی مشکل وقت میں مدد کرنا یقیناً اچھی بات ہے، لیکن اگر ’’اپنا‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کی غلطی کو درست، نااہلی کو قابلیت اور ناکامی کو کامیابی ثابت کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر ہم کسی فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے نظام کا نقصان کررہے ہوتے ہیں۔ یہی رویہ قابلیت اور شفافیت کو پیچھے دھکیل کر نااہلی، اقرباء پروری اور خوشامد کو آگے لاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے جب ادارے میں یہ سوال نہیں پوچھا جاتا کہ آپ کیا کرسکتے ہیں؟ بلکہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یا آپ کس کے ہیں؟ اور یہی وہ مقام ہے جہاں زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ نجی اداروں میں کارکردگی ہی کامیابی کا واحد پیمانہ ہوتا ہے۔ یقین مانیے کہ شاید کبھی ایسا ہوتا ہوگا، لیکن اب بہت سے اداروں میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ میں نے اپنی چھتیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی میں متعدد بار اہداف کو نیچے جاتے دیکھا ہے تاکہ کسی حامی یا حلیف کو ترقی دی جاسکے۔ معیار تبدیل ہوتے دیکھے، پیمانے بدلتے دیکھے اور کبھی کبھی تو ایسا بھی دیکھا کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کرنے والے کے لیے نتیجہ ہی تبدیل کردیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہت سی جگہوں پر جانچنے کا معیار کارکردگی کے بجائے وفاداری بنتا جارہا ہے۔ وفاداری یقیناً ایک اہم وصف ہے، کسی ادارے، مقصد یا ٹیم کے ساتھ وفاداری کے بغیر اجتماعی کام مشکل ہوجاتا ہے، لیکن جب وفاداری کو قابلیت، دیانت اور کارکردگی پر ترجیح دے دی جائے تو یہ خوبی نہیں رہتی، بلکہ ادارے کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ قابلیت کے مقابلے میں وفاداری کو چننا یہ صرف کسی ایک ملک کی کہانی نہیں۔ دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں حکمرانوں نے اپنے گرد ایسے لوگوں کا حصار قائم کرلیا جو انھیں وہی بتاتے تھے جو وہ سننا چاہتے تھے۔ نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا نکلا: حقیقت اندر آنے سے روک دی گئی اور خوشامد باہر جانے سے۔ حکمران کو سب سے زیادہ خطرہ مخالف سے نہیں بلکہ اس شخص سے ہوتا ہے جو اس کا خیرخواہ بن کر اسے غلطی سے آگاہ کردے، کیونکہ مخالف کی تنقید کو رد کرنا آسان ہے، اپنے کی تنقید برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ شاید اسی لیے بڑے اداروں میں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی ادارہ جاتی صحت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ جس جگہ صرف ’’جی سر‘‘ سنائی دے وہاں بظاہر سب کچھ پُر سکون ہوتا ہے، مگر اندر ہی اندر مسائل جڑ پکڑ رہے ہوتے ہیں اور ابھی ہم نے ان لوگوں پر تو بات ہی نہیں کی جنھوں نے وفاداری کی آڑ میں شمولیت حاصل کی اور بعد میں اپنے ہی ممدوح یا محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک اس حوالے سے ایک تابناک ماضی رکھتے ہیں اور ہمارا ملک بھی اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔ اس سے ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہر وفاداری حقیقی وفاداری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وفاداری صرف مفاد کا دوسرا نام ہوتی ہے۔ جب تک مفاد قائم رہتا ہے، وفاداری بھی قائم رہتی ہے اور جونہی مفاد کا رخ بدلتا ہے، وفاداری بھی اپنا قبلہ تبدیل کرلیتی ہے۔اسی لیے اداروں اور معاشروں کو افراد کی اندھی وفاداری نہیں بلکہ اصولوں سے وفاداری درکار ہوتی ہے۔ ایک اچھا افسر اپنے باس کا وفادار اس وقت نہیں ہوتا جب وہ ہر بات پر ’’جی سر‘‘ کہے، بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب ضرورت پڑنے پر احترام کے ساتھ یہ کہنے کی جرات بھی رکھتا ہو کہ سر! یہ فیصلہ درست نہیں۔ ایک اچھا ملازم وہ نہیں جو اپنے سربراہ کی ہر غلطی کو درست ثابت کردے، بلکہ وہ ہے جو ادارے کے مفاد میں صحیح بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اصل سوال پھر وہیں آکر کھڑا ہوجاتا ہے کہ کارکردگی یا وفاداری؟ میرا جواب شاید دونوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا نہیں، بلکہ ترجیحات درست کرنا ہے۔ وفاداری ہونی چاہیے، مگر اصولوں سے۔ وابستگی ہونی چاہیے، مگر ادارے سے۔ محبت ہونی چاہیے، مگر سچ کے ساتھ۔ اور سب سے بڑھ کر قابلیت ہونی چاہیے، کیونکہ وفاداری قابلیت کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ اداروں کی تباہی ہمیشہ کسی ایک بڑے فیصلے سے نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے سمجھوتے ہوتے ہیں، کسی نااہل کو ترقی، کسی اہل کو نظرانداز، کسی خوشامدی کی تعریف، کسی سچ بولنے والے کی گوشمالی اور کسی ’’اپنے ‘‘ کی غلطی پر خاموشی۔ یہ چھوٹے سمجھوتے جمع ہوتے رہتے ہیں اور ایک دن ادارہ اچانک کمزور نہیں ہوتا، بلکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت پہلے اندر سے کھوکھلا ہوچکا تھا، کیونکہ آخرکار کسی ادارے کی اصل طاقت اس کے وفادار لوگوں کی تعداد نہیں، بلکہ اس کے قابل، دیانت دار اور بے خوف لوگوں کی موجودگی ہوتی ہے اور جس دن کسی ادارے میں یہ سوال کہ ’’آپ کس کے ہیں؟‘‘ اس سوال پر غالب آجائے کہ ’’آپ کیا کرسکتے ہیں؟‘‘ تو سمجھ لیجیے کہ وہاں کارکردگی شکست نہیں کھا رہی، بلکہ ادارہ خود شکست کھا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل