Thursday, October 08, 2026
 

بلڈ پریشر روز بروز بڑھ رہا ہے

 



دو روز تک (2اور3اکتوبر2026)حکومت اور اپوزیشن ( بالخصوص پی ٹی آئی )کے مابین دو بڑی مذاکراتی بیٹھکیں بروئے کار آئیں ۔ مبینہ طور پر ایجنڈا یہ تھا کہ پی ٹی آئی کو4اکتوبر کے لانگ مارچ سے باز رکھا جائے اور اگر وہ اپنے مارچی اعلان سے دستکش ہو جائے تو پی ٹی آئی کو کچھ مراعات اور سہولیات دی جا سکتی ہیں ۔ اِن ’’مراعات‘‘ اور ’’سہولیات‘‘ کے معنی اور مفہوم خاصے متنوع ہیں ۔ مبینہ طور پر اِن میں زندانی بانی پی ٹی آئی سے وکلا اور کچھ قریبی رشتہ داروں کی مجوزہ ملاقات کے ذکر اذکار کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی ۔ دونوں بیٹھکیں مجموعی طور پر 12گھنٹوں سے زائد وقت پر محیط رہیں ۔ اور بعض روایات کے مطابق ’’صلح نامہ‘‘ یا ’’ڈرافٹ‘‘ تیار بھی ہو گیا تھا ، مگر پھر اِس میں طرفین کی جانب سے کچھ بے جا ترمیمات نے معاملہ بگاڑ دیا ۔ مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو کر ناکام ہو گئے ۔ قوم( جس نے اسلام آباد کی محصور حالت کے پیشِ نظر مذاکرات سے بلند توقعات وابستہ کر لی تھیں) پھر مایوسی کے گڑھے میں گر گئی ۔ ابھی تک گری ہُوئی ہے ۔ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اسیر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروائی گئی تو لانگ مارچ بھی ختم نہیں ہو گا۔ دو روز بعد منظر ذرا کھلا اور یہ مباحث ہونے لگے کہ ڈیڈ لاک کیوں پیدا ہُوا ؟ تو پی ٹی آئی کے بعض ذمے داران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا:’’مذاکرات کے دوران (بعض) حکومتی نمائندگان نے ہمیں بتایا کہ پچھلے دنوں جیل میں بانی پی ٹی آئی کا بلڈ پریشر پریشان کن حد تک بڑھ گیا تھا ۔ اور جب یہ بات ملکی ڈاکٹروں کے بس سے باہر ہو گئی تو( حکومت نے) لندن سے ایک خاص ڈاکٹر کو بلایا اور اُن کی دوائی اور علاج سے بانی کا بلڈ پریشر نارمل ہُوا ۔افسوس مگر یہ ہے کہ حکومت نے یہ پریشان کن بات بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کو بتائی نہ پارٹی کے بڑوں کو ۔‘‘ہمارے نہائت باخبر وفاقی وزیر اطلاعات نے استفسار پر اِس ’’خبر‘‘ پر گرہ لگاتے ہُوئے کہا:’’ نہیں ، یہ خبر غلط ہے ۔ یہ خبر نہیں ، محض Rumor (افواہ) ہے ۔ بانی کا بلڈ پریشر صحتمند نوجوان کی طرح ہے ۔‘‘ مگر اِسے کیا کہا جائے کہ وزیر موصوف کے مذکورہ بیان کے ایک گھنٹے بعد وزیر اعظم کے سیاسی مشیر، رانا ثناء اللہ، نے کہا: ’’ہاں یہ درست ہے، لندنی ڈاکٹر کا تعاون حاصل کیا گیا۔‘‘ ایک صاحب ( جو حکومت کے مقربین میں شمار کیے جاتے ہیں) نے بھی بڑے وثوق سے کہا:’’ خبر تو درست ہے ، مگر ڈاکٹر صاحب کو بطورِ خاص لندن سے پاکستان نہیں بلایا گیا تھا ۔ وہ پہلے ہی سے پاکستان میں موجود تھے ۔‘‘ اِس خبر نے پی ٹی آئی میں ایک نئی ہلچل پیدا کررکھی ہے ۔ پی ٹی آئی نے حکومتی دباؤ یا توقع پر اپنا لانگ مارچ تو منسوخ نہیں کیا ، البتہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اقدامات سے وفاقی حکومت کا بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے ۔وزیر اعظم صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ’’ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرے تو اُس سے دوبارہ مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔‘‘ پی ٹی آئی مگر مان نہیں رہی ۔ سہیل آفریدی صاحب لکی مروت سے اپنا لانگ مارچ شروع کرکے KPKکے بارہ ، چودہ اضلاع سے اپنا احتجاجی قافلہ باخیریت گزار چکے ہیں ۔ 8اکتوبر کی صبح جب یہ سطور رقم کی جارہی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اُن کا مبینہ’’ بھرپور‘‘ قافلہ پشاور سے آگے بڑھ چکا ہے ۔ مگر سہیل آفریدی کی منزل کہاں ہے؟کوئی نہیں جانتا۔ یہ جو پشاور کے گورنر ہاؤس میں اگلے روز ، گورنر خیبر پختونخوا کے زیر صدارت ، چیف سیکرٹری اور آئی جی سمیت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہُوا ہے ، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اِس پر بلڈ پریشر بڑھا ہے ۔ اور اُنھوں نے 7اکتوبر کو اپنے ہنگامی کابینہ اجلاس میں اِس پر خاصی ناراضی کا اظہار بھی کیا ہے ۔ تو کیا واقعی معاملات ایمرجنسی اور گورنر راج کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ بلڈ پریشر کا گھٹنا، بڑھناآج کا عمومی اور معروف مرض ہے ۔ اِسے ’’ خاموش قاتل‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ اگر بد قسمتی سے انسان کو لاحق ہو جائے تو رفتہ رفتہ انسان کی جان لے جاتا ہے اور اگر یہ مرض اقوام اور ممالک کو لگ جائے تو قوموں اور ملکوں کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے ۔ اور جب قوموں اور ملکوں کے ذہنی توازن بگڑتے ہیں تو جنگیں جنم لیتی ہیں ۔ اور جنگیں جنم لینے سے انسانوں ، تہذیبوں اور معیشتوں کی بربادی جنم لیتی ہے ۔انسانوں کے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے نِت نئی ادویات استعمال کی جاتی ہیں ۔ کبھی یہ ادویات اپنا اثر دکھا جاتی ہیں اور کبھی ناکام ہو جاتی ہیں ۔ قوموں اور ملکوں کے بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے کے لیے مگر سفارتی دانشمند ی اور سفارتکاری بروئے کار آتی ہے ۔ اور یوں بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے کی سبیل نکالی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ نائن الیون کے سانحہ کے بعد جب مُلّا عمر نے اپنے زیر قبضہ افغانستان میں ملزم اُسامہ بن لادن کو اپنا ’’مہمان‘‘ بنا رکھا تھا اور اِس ضدی اقدام نے امریکہ کا بلڈ پریشر خراب کررکھا تھا، ایک معروف عرب ملک کے اعلیٰ ترین سفارتکارنے مُلّا عمر سے قندھار میں ملاقات کی اور موصوف سے درخواست کی کہ ’’ عالمی ملزم کو افغانستان سے نکال دیا جائے ‘‘۔ یہ مطالبہ سُن کر مبینہ طور پر مُلّا عمر کا بلڈ پریشر بڑھ گیا اور اُنھوں نے محترم عرب سفارتکار کو اپنی زیرزمین پناہ گاہ سے نکلنے کا حکم صادر کر دیا تھا ۔ بلڈ پریشر کے بڑھنے سے ، بعد ازاں، مُلّا عمر اور اُن کے زیر قبضہ افغانستان کا جو حال ہُوا ، ساری دُنیا کے سامنے ہے ۔ اِسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ ہائی یا لو بلڈ پریشر اگر انسان کو لاحق ہو جائے تو یہ انسان کی جان لے جاتا ہے اور اگر یہ اقوام ، عالمی لیڈروں اور ممالک کو لاحق ہو جائے تو ان سب کی خیر نہیں ہوتی ۔ آج کی پاکستان دشمن طالبان رجیم اور ان کے زیر سایہ پنپنے والی ٹی ٹی پی کے دہشت گرد پاکستان کے خلاف جو خونی اور خونریز وارداتیں کررہے ہیں ، اِن کے کارن پاکستان کا بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے اور پاکستانیوں کا بھی ۔ پاکستان نے اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کئی سفارتی سطحوں اور ڈپلومیٹک فورمز پر مقتدر طالبان سے متعدد بار ملاقاتیں اور مذاکرات کیے ہیں ، مگر پاکستان کی مغربی سرحد کے پار پاکستان کو لگا کوڑھ( افغان طالبان) کسی ڈَھب پر نہیں آ رہا ۔ یہ طالبان کی پاکستان دشمنی کا نتیجہ ہے کہ ابھی 5اکتوبر2026ء کو رُوسی دارالحکومت میں ’’ماسکو فارمیٹ‘‘کے تحت پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات ناکام ہُوئے ہیں۔ طالبان رجیم کے عبوری وزیر خارجہ ( امیر خان متقی) کے رویئے اور طرزِ تکلّم نے مذکورہ فورم کی ساری فضا ہی مکدر کر دی ؛ چنانچہ پاکستانی نمائندے ( صادق خان) کو ’’ماسکو فورمیٹ‘‘ کے عالمی شرکت کنندگان کو بغیر کسی لگی لپٹی کے بتانا پڑا کہ افغان قابض طالبان اپنی سر زمین سے دہشت گردوں کو ششکار کر کس طرح پاکستان اور پاکستانیوں کو بار بار جانی و مالی گزند پہنچا رہے ہیں ۔ افغان طالبان کی غیر انسانی حرکات کے خلاف عالمی برادری کا بلڈپریشر بھی بڑھ رہا ہے ۔ اِس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ 5اکتوبر2026 کو عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے افغان سپریم لیڈر سمیت چار افغان وزرا کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں ۔ حوثی( جو کسی کی ایک بڑی پراکسی ہیں) امن پسند سعودی عرب کا بلڈ پریشر بڑھا رہے ہیں ۔ یمنی حوثیوں نے باب المندب کی ناکہ بندی کرکے ، مکہ و مدینہ کی پاک سر زمین پر میزائل حملے کی ناپاک جسارتیں کرکے، سعودیہ کی ایسٹ ویسٹ کروڈآئل پائپ لائن کو اُڑا کر اور کئی سعودی شہروں پر مہلک حملے کرکے سعودی عرب کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے ؛ چنانچہ بے لگام حوثیوں کو لگام ڈالنے کے لیے ’’مکہ معاہدہ‘‘ بھی ، مبینہ طور پر ، بروئے کار آیا ہے ۔ شنید ہے سعودی فورسز کو خاصی بڑی کامیابیاں بھی ملی ہیں ۔ سیکڑوں جارح حوثی بھی مارے گئے ہیں ۔ اور بحیرئہ احمر کی عالمی وسعت اور باب المندب کے تنگ اہم تجارتی دہانے کو حوثیوں کی خونی گرفت سے نجات بھی مل گئی ہے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل