Loading
اسلام آباد میں اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس کرنے والی طالبہ کی سڑک کنارے پھندا لگی لاش ملنے کے معاملے کی دردناک کہانی سامنے آگئی ہے۔
طالبہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس کیا تھا اور مزید پڑھائی کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی اور ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کے لیے 70 لاکھ روپے مانگے۔
اہل خانہ نے بتایا کہ بچی کے والد موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کو پڑھا رہا تھا، خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش فراڈیے کو دیے۔
مزید بتایا کہ باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے بچی کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا لیکن جب بچی نے یونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔
طالبہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ بچی نے اپنے ماموں کو آخری مسیج میں بتایا کہ میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کا میرے والد کو نہیں بتائیں ورنہ وہ مرجائیں گے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد میں تھانہ رمنا کے قریب ایک درخت میں لٹکی لاش ملی تھی، جس کی شناخت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی تھی، جن کی عمر 22 سال اور غیرشادی شدہ تھیں۔
پولیس نے بتایا تھا کہ معاملہ ابتدائی تفتیش میں خودکشی معلوم ہوتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل