Friday, October 09, 2026
 

احتجاج، ہڑتالوں و لانگ مارچ کی جمہوریت

 



پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے اس بنیاد پر کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کا وفاقی حکومت کا فیصلہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہوگا ہم کسی پر چڑھائی نہیں کر رہے کوشش یہ ہے کہ لانگ مارچ کا یہ تصور ہمیشہ کے لیے ختم ہو۔ حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرے اور مذاکرات کے دروازے کھولے جائیں اور حکومت ہمارے مطالبات تسلیم کرے تو ہی لانگ مارچ ختم کیا جاسکتا ہے اور لانگ مارچ سیاسی اور اٹل فیصلہ ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ 5 اگست کو ہمارے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد 27 ستمبر تک وفاقی حکومت اور نظام کے پاس اچھا موقعہ تھا وہ ہمارے مطالبات تسلیم کر لیتے تو ہمیں لانگ مارچ پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنما قادر خان مندوخیل نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی ناپسندیدہ عمل ضرور ہے مگر مجبوری میں ہم اسے غیر جمہوری اور غیر آئینی بھی نہیں کہہ سکتے۔ 1973 کے متفقہ آئین میں احتجاج کا آئینی حق ضرور دیا گیا تھا اور آئین بناتے وقت مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کا وجود نہیں تھا اور پیپلز پارٹی حکومت میں اور ملک کی بڑی پارٹی تھی مگر 1970 کے انتخابات میں مشرقی پاکستان کے عوام کا فیصلہ نہ ماننے پر ہی ملک دولخت ہوا تھا اور مشرقی پاکستان کے بنگلا دیش بن جانے پر ہی باقی پاکستان میں پیپلز پارٹی بڑی پارٹی بنی تھی اور اقتدار ہی میں بھٹو صاحب نے اسی آئین کے تحت صوبہ سرحد اور بلوچستان میں گورنر راج لگا کر وہاں جے یو آئی اور نیپ کی حکومتیں ختم کرا کر بعد میں وہاں بھی پی پی کی حکومتیں بنوا لی تھیں مگر دونوں ہی متاثرہ پارٹیوں نے لانگ مارچ نہیں کیا تھا اور مجبوری میں اپنی حکومتوں کا پی پی کا فیصلہ قبول کیا تھا۔ 1973 کے آئین کے تحت وزیر اعظم بھٹو نے 1977 میں قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا تھا جبکہ آئین کے تحت نگراں حکومت بنوا کر نئے آئین کے تحت نئے الیکشن کرا دیے جاتے تو ملک میں بھٹو حکومت کی دھاندلیوں کے خلاف آئی جے آئی بنتی نہ 1977 جیسے ملک میں ہڑتالیں اور احتجاج ہوتا اور نہ ہی جنرل ضیا الحق حکومت میں بھٹو کو پھانسی ہوتی نہ ملک و قوم کو طویل آمریت بھگتنا پڑتی نہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوتا۔ 1973 کے آئین میں احتجاج کا حق جمہوری حدود میں رہ کر کرنے کا حق دیا گیا تھا اور ملک میں طویل دھرنوں، لانگ مارچوں اور وفاقی حکومت کے خلاف چڑھائی بلکہ ایک صوبائی حکومت کی وفاقی حکومت پر چڑھائی کا تصور بھی نہیں تھا، ملک میں احتجاج اور ہڑتال کی کالز ضرور دی جاتی تھیں۔ صوبائی حکومت کی اپنی مخالف وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے ساتھ چڑھائی کے لیے لانگ مارچ بھی تحریک انصاف نے شروع کیا تھا جبکہ صوبوں میں گورنر راج کا نفاذ، ایمرجنسی اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں ختم بھی ہوئی تھیں اور بلوچستان میں حالات خراب ہونے پر صدر نے گورنر راج لگا دیا تھا اور وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی دوسری حکومت میں سندھ کے خراب حالات کے باعث ایمرجنسی لگا کر اپنے ہی وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کو ہٹایا تھا۔ کے پی میں بے نظیر بھٹو نے (ن) لیگ کے وزیر اعلیٰ صابر شاہ کو ہٹوا کر آفتاب شیرپاؤ کے ذریعے پی پی کی حکومت بنوائی تھی اور پنجاب میں بھی صدر غلام اسحاق نے (ن) لیگ کے وزیر اعلیٰ غلام حیدر کو اقتدار سے ہٹوایا تھا اور صدر آصف زرداری نے اپنے گورنر سلمان تاثیر کے ذریعے شہباز شریف کو ہٹانے کے لیے گورنر راج لگایا تھا اور بعض گورنر راج ہائی کورٹوں نے غیر قانونی بھی قرار دیے تھے اور ماضی میں پی پی اور (ن) لیگ کی حکومتوں میں صوبوں میں تبدیلی کے لیے آئین میں دیے گئے طریقے خود بھی استعمال کیے مگر کبھی پی ٹی آئی کی کے پی جیسی حکومتوں جیسی صورتحال کہیں اور پیش نہیں آئی تھی۔ اور یہ سب کچھ آئین اور جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے۔ ہڑتالوں، احتجاجوں اور لانگ مارچوں کی آئین میں ضرور اجازت دی ہے جس کے دوران جانی و مالی نقصانات بھی ہوتے رہے جو حکومتوں اور حکمرانوں نے نہیں عوام نے بھگتے اور اپنے حامیوں کو سیاسی جماعتوں اور حکومتوں نے استعمال کرکے قومی خزانے کو نقصان بھی پہنچایا مگر تحریک انصاف جیسے پرتشدد احتجاج، دھرنے اور لانگ مارچ پی پی اور (ن) لیگی حکومتوں میں ہوئے اور نہ ہی کسی صوبائی حکومت نے وفاق پر چڑھائی کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی جیسی پھانسی چڑھانے جیسی دھمکیاں کبھی بے نظیر بھٹو، نواز شریف، مولانا فضل الرحمن کسی نے دیں، نہ پی ٹی آئی اور آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے احتجاج، دھرنوں میں سرکاری فورسز کا جانی نقصان کبھی اور کسی پارٹی نے کرایا۔ 2014 میں اسلام آباد میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے طویل دھرنوں میں جو نقصانات ہوئے تھے اس کے بعد ہر سیاسی پارٹی کو اپنے سیاسی مفاد کی بجائے ملک و قوم کے وسیع مفاد میں جانی و مالی نقصان سے ملک کو نقصان سے بچانے کے لیے پرتشدد احتجاج و دھرنے اور لانگ مارچ کے لیے مل کر حدود طے کرنی چاہئیں تھیں تاکہ ان کے نتیجے میں کبھی کسی وفاقی حکومت میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی نوبت نہ آتی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پرامن احتجاج، ہڑتال، دھرنے اور لانگ مارچ کا حکومتوں پر اس وقت تک اثر نہیں ہوتا جب تک وہ پرتشدد نہ ہو جائیں اور نہ کبھی کسی لانگ مارچ سے کبھی کوئی حکومت ختم ہوئی اور نہ ہی ہو سکتی ہے مگر ملک و قوم کا ضرور نقصان ہوتا ہے جو حکمرانوں کا نہیں سرکاری ہوتا ہے اور سزا عوام کو ملتی ہے۔ آئین کے نام پر یہی ہوتا آ رہا ہے اب تو سڑکیں خندق بنا دی جاتیں موٹرویز بند کر دی اور کنٹینروں کی آہنی دیواریں سرکاری فنڈز سے کھڑی کر دی جاتی ہیں اور اب بھی یہی ہوا۔ پی ٹی آئی میڈیا میں سرفہرست رہی، حکومت ان کے مطالبے نہ ماننے پر بضد رہی اور عوام دونوں طرف سے ہونے والے آئینی و قانونی فیصلے دیکھ رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل