Friday, October 09, 2026
 

اور اب مصنوعی ذہانت بھی

 



آج کل مصنوعی ذہانت کے بڑے چرچے ہیں ،کچھ لوگ تو اسے انسانیت کی معراج سمجھ رہے ہیں لیکن کچھ لوگ اسے انسانیت کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ رہے ہیں ، یہاں تک کہ بل گیٹس اوراس سطح کے لوگ بھی اب اسے ایک تباہ کن خطرہ بتا رہے ہیں اورہمارے ہاں کے سقراط ،بقراط اوربزرگ جمہر بھی اس پر اپنی دانش بگھا رہے ہیں۔ ہمیں پوری طرح تو معلوم نہیں کہ مصنوعی ذہانت عرف اے آئی کیا ہے کیوں کہ ہم ذہین ہیں ہی نہیں بلکہ ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ ذہانت یا’’خرد‘‘عرف عقل کے درد سہے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ اگر دنیا میں خرد عقل یا ذہانت نہ ہوتی تو انسان ابھی تک جنت میں ہوتا، یہ جو دنیا میں ہروقت ہر دور اورہرجگہ ہاہا کار مچی ہے جنگیں ہورہی ہیں، خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں اور درد لاحق ہیں، اسی ذہانت اورخرد کی پیداوار ہیں ،ورنہ انسان نے تو اپنی زندگی کی ابتداء اس جنت سے کی تھی کہ ساری دنیا کی نعمتوں سے بھرپور باغ تھے اورانسان جہاں سے جی چاہتا خوراک حاصل کرلیتا، اسے کھا کر قریب بہنے والے چشموں اورنہروں کا صاف وشفاف، دودھ اور شہد جیسا پانی پی لیتا اورکسی آرام دہ جگہ پر سوجاتا دوبارہ بھوک لگنے تک۔  بہشت آں جاکہ ازارے نہ باشد  کسے راباکسے کارے نہ باشد لیکن پھر اس جنت میں برتری کا اورقبضے کا ابلیس گھس گیا ، اس زہریلے ’’شجر‘‘ کے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے لیکن ہمارے خیال میں وہ یہی برتری اورذہانت ہی کا شجرتھا ۔عربی لغات میں شجر صرف درخت کو نہیں کہتے بلکہ ہر اس چیز کوکہتے ہیں جس کی جڑ یا تنا ایک ہو لیکن پھر اس میں الگ ٹہنیاں اورشاخیں الگ الگ ہوجاتیں یعنی اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں۔ خیر ہم مذہبی نقطہ نظر کی بات نہیںکررہے ہیں، وہ مذہبی علماء اورماہرین کاکام ہے لیکن حالات اورنتائج کے اعتبار سے ہم اس شجر کو ذہانت بھی کہہ سکتے ہیں جس کا مظاہرہ ابلیس نے کرتے ہوئے برتری کا دعویٰ کیا اوریہ برتری کادعویٰ ہے جس کا نتیجہ جنگیں، قتل وقتال ،خونریزی، تباہی اورہتھیارسازی ہے ، پتھر کے زمانے کے ہتھیاروں سے لے کر لوہے، پھر بارود ، ڈائنامائیٹ اورایٹم کے بعد اب اے آئی ۔ سب کے سب اسی خرد ،ذہن اورعقل کے مظاہرے ہیں۔ جہل خرد نے دن یہ دکھائے  گھٹ گئے انسان بڑھ گئے سائے  وہ انسانی ذہانت یا اصلی ذہانت بھی کچھ کم تباہ کن نہ تھی کہ اوپر سے یہ مصنوعی ذہانت؟گویا کریلا کیا کم کریلا تھا اب نیم چڑھا بھی ہوگیا، بڑے میاں تو بڑے میاں…اوراب یہ…چھوٹے میاں۔ جو بڑے کا بھی باپ ہے ،پہلے کہا کرتے تھے کہ  اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے سر پر دنیا  وہ تو اچھا ہے کہ انگور کا بیٹا نہ ہوا  لیکن اب تو بیٹا بھی ہوگیا شاید اس گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگنے والی ہے بلکہ لگ چکی ہے ،بھلے ہی باتدبیر ۔ باتدبیری کریں ، کچھ بھی ہونے والا نہیں کیوں کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایسی برائی یا بدعت کو روکا جاسکا ہو بلکہ تاریخ کی روایت رہی ہے کہ ایک برائی کی کوکھ سے کئی کئی برائیاں اورجنم لیا کرتی ہیں ۔چل پھر بات اس کنوئیں پر آجائے گی جس میں ذہانت کاکتا پڑا ہوا ہے یعنی انسان کی ذہانت خیز کھوپڑی جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ؎  عقل عیارہے سو بھیس بنالیتی ہے  عشق بے چارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم  مرض کا… بلکہ ’’ام الامراض‘‘ کا پتہ تو چل گیا، انسان کی کھوپڑی۔ اس کھوپڑی میں بڑے دماغ اوراس دماغ کے اندر شیطان کا ہیڈکوارٹر اوراس ہیڈ کوارٹر میں مقیم ذہانت ہے، دوسرے معنی میں انسان خود ہی سارے فسادات کی جڑ ہے لیکن اس ام الامراض کا علاج کیا ہے ؟تو تشویش کی کوئی بات نہیں۔ مرض خود ہی اپنے علاج کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ سیدھی سی بات ہے، اصلی ذہانت نے دنیا کو بارود کا ڈھیر بنا رکھا ہے ۔ تباہ کن ہتھیار روزبروز بڑھتے جا رہے ہیں اورخاص خاص مقامات پر اس کے ڈھیر لگتے جا رہے ہیں جن جن ممالک کے باشندے دووقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں ،ملک سے بھاگ رہے ہیں، خودکشی کر رہے ہیں ،وہ بھی ایٹمی بنتے جارہے ہیں ،پھر کسی روزاصلی ذہانت اور مصنوعی ذہانت ۔ماچس اورتیلی کی طرح یکجا ہوجائیں گے ، ایک بھک کی آواز آئے گی اور پھر نہ رہے گا بانس نہ بانسری نہ بانسری بجانے والا اورنہ سننے والا۔ ہر طرف امن ہی امن اورچین ہی چین ہو جائے گا ۔مرض خود ہی اپناعلاج کرائے گا ۔ یہاں پر شاید کچھ لوگ ۔ انسانی شرف کے علم بردار ۔ مجھ سے اختلاف کریں ناراض بھی ہوسکتے ہیں کہ میں اس کائنات کی سب سے بہترین مخلوق ۔۔اشرف المخلوقات ۔ حیوان اعلٰی پر الزام تراشی کررہا ہوں ۔ انسان توخلیفۃ الارض ہے ، یہ ہے وہ ہے ۔ رب کائنات نے فرمایا ہے کہ  میں نے تو اسے احسن تقویم پر بنایا…لیکن اس نے خود کو اسفلہ سافلین میں گرا دیا ہے (سورہ والتین) اورجو خود کوخود ہی اسفلہ سافلین میں گرا دیتا ہے تو اس کاعلاج کیا؟  اوریہ سب کچھ اسی ذہن کا شاخسانہ ہے کہ ساری مخلوقات میں صرف انسان ہی کو فیصلے کااختیار دیا گیا ہے لیکن اختیار پا کر وہ یہ بھول گیا کہ اختیار کے ساتھ ذمے داری بھی ہوتی ہے ، اختیار کے گھوڑے کے ساتھ لگام بھی ہوتا ہے ۔بہرحال وہی بات ہوئی کہ وہ تمہارا باپ ،کیا کم تھا کہ تم نے کتا بھی پال لیا یا ہرن دوڑ میں کیا تیز تھا کہ اس کے پیروں میں گھنگرو بھی باندھ دیے گئے، وہ اصلی ذہانت دنیا کی تباہی کے لیے کیا کم تھی کہ اب مصنوعی بھی ساتھ ہوگئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل