Saturday, October 10, 2026
 

وزیراعظم شہباز شریف کا صدر آذربائیجان الہام علیوف سے ٹیلی فونک رابطہ

 



وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلی فون پر آج گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات اور دیرینہ دوستی کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی گہری، برادرانہ اور اسٹریٹجک شراکت داری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور اہم قومی مفادات کے معاملات پر ایک دوسرے کی بھرپور حمایت پر مبنی ہیں۔ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثالی سیاسی ہم آہنگی کو اب مضبوط اقتصادی، سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔  وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام صدر الہام علیوف اور آذربائیجان کے برادر عوام کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان غیر معمولی سیاسی خیرسگالی اور ہم آہنگی کو باہمی فائدے پر مبنی اقتصادی، سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری میں بدلا جائے گا۔ جاری دوطرفہ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد میں آسان خدمت مرکز کی مثبت پیشرفت پر خصوصی اطمینان کا اظہار کیا۔ آذربائیجان کے ’’آسان خدمت‘‘ نظام کی طرز پر قائم اس مرکز کو دونوں ممالک کی برادرانہ شراکت داری کے عوام کے لیے عملی فوائد کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا۔ وزیراعظم کی درخواست پر صدر الہام علیوف نے پاکستان بھر میں آسان خدمت مراکز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے آذربائیجان کی مکمل معاونت اور مہارت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے اس تعاون پر صدر علیوف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی دیرینہ دوستی اور یکجہتی کا ایک اور ثبوت قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر مسلسل مشاورت اور قریبی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے صدر الہام علیوف کو خطے میں امن کے فروغ، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں اور مثبت کردار سے آگاہ کیا۔ صدر علیوف نے مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی تعمیری سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کے لیے ان کی اہمیت کا اعتراف کیا۔ گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو دونوں ممالک کے عوام کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور باہمی مفاد پر مبنی دیرپا تعلقات میں تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل