Loading
ٹیکنالوجی کے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بھارت میں اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبے اسٹار لنک کے آغاز میں تاخیر پر مکیش امبانی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کا طنزیہ تبصرہ بھارت میں بڑے کاروباری گروپس کے اثر و رسوخ اور ٹیلی کام مارکیٹ میں مسابقت کے حوالے سے نئی بحث کا سبب بنا ہے۔
ایلون مسک نے اپنی پوسٹ میں مکیش امبانی کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں لکھا، ’’پیارے وزیراعظم امبانی، براہِ کرم میری عاجزانہ معذرت قبول کریں کہ میں یہ نہ سمجھ سکا کہ بھارت کے اصل باس آپ ہیں۔‘‘ اس تبصرے میں انہوں نے امبانی کو بھارت کا ’’اصل باس‘‘ قرار دیا، جسے حکومتی پالیسیوں اور بڑے کاروباری مفادات کے تعلق پر تنقید کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
Dear Prime Minister Ambani,
Please accept my humble apologies for not realizing that you are the real boss of India.
Naturally, you would prefer to maintain your monopolistic exploitation of the great people of India, but would you nonetheless consider allowing Starlink to…
— Elon Musk (@elonmusk) October 9, 2026
مسک نے مزید طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا امبانی بھارت میں اپنی اجارہ دارانہ بالادستی برقرار رکھنے کو ترجیح دیں گے یا اسٹار لنک کو بھی مقامی مارکیٹ میں مقابلے کا موقع دینے پر غور کریں گے۔ ان کے بیانات میں یہ مؤقف بھی شامل تھا کہ بھارت کے دور دراز علاقوں میں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کی کمی تعلیم اور معاشی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
مسک کے مطابق ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولت سے بچوں کو تعلیمی وسائل تک رسائی مل سکتی ہے اور چھوٹے کاروبار عالمی منڈیوں سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسٹار لنک جیسی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ان ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، بھارت میں اس سروس کے آغاز میں تاخیر کو صرف کاروباری اجارہ داری کا نتیجہ قرار دینے کے لیے آزادانہ شواہد درکار ہیں۔
ان بیانات کے بعد بھارتی اپوزیشن کو بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے اعتراضات دہرانے کا موقع ملا ہے۔ اپوزیشن کے بعض رہنما پہلے بھی الزام لگاتے رہے ہیں کہ مودی حکومت کی پالیسیوں سے چند بڑے کاروباری گھرانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکومت نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لائسنس اور منظوری کے عمل کے حوالے سے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
بھارتی وزارتِ مواصلات کے مطابق سیٹلائٹ سروسز کے لیے شفاف اور غیر جانب دار نظام موجود ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تین کمپنیوں کو لائسنس جاری کیے جاچکے ہیں، تاہم متعلقہ کمپنیاں لازمی سیکیورٹی جانچ اور ڈیٹا کی مقامی سطح پر دستیابی سے متعلق تقاضوں کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ حتمی سیکیورٹی منظوری کے بعد ہی اسپیکٹرم الاٹ کیا جائے گا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس معاملے میں دو اہم پہلو زیرِ بحث ہیں۔ ایک جانب غیر ملکی سیٹلائٹ کمپنیوں کے حوالے سے ڈیجیٹل سیکیورٹی اور ڈیٹا کے تحفظ کے سوالات ہیں، جبکہ دوسری جانب مقامی ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے نئی بین الاقوامی سروسز سے پیدا ہونے والا مسابقتی دباؤ اہم ہے۔
ایلون مسک کے تبصرے نے ان دونوں پہلوؤں کو نمایاں کردیا ہے، تاہم اسٹار لنک کے آغاز میں تاخیر کی حتمی وجوہات کا تعین لائسنسنگ، سیکیورٹی منظوری اور اسپیکٹرم کی الاٹمنٹ سے متعلق سرکاری فیصلوں کی تفصیلات سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل