Saturday, October 10, 2026
 

کرائے کے مکان میں رہنے والے جلد بوڑھے ہوجاتے ہیں، تحقیق میں انکشاف

 



کرائے کے مکان میں رہائش، مالی ادائیگیوں میں تاخیر اور گھر کے خراب ماحولیاتی حالات صرف روزمرہ زندگی کو متاثر نہیں کرتے بلکہ صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ برطانیہ میں کی گئی ایک تحقیق میں ان عوامل کا تعلق تیزی سے بڑھتی حیاتیاتی عمر سے جوڑا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایسیکس اور یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ کے محققین نے رہائشی حالات اور انسانی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں کرائے پر رہنے کی مدت، عمارت کی نوعیت، رہائشی اخراجات اور کرایے کے بقایا جات سمیت مختلف عوامل کو شامل کیا گیا۔ اس کے بعد شرکا کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے کے لیے ڈی این اے میتھیلیشن سے متعلق پیمائشوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق نتائج میں کرائے کے مکان میں رہائش اور حیاتیاتی عمر کے تیزی سے بڑھنے کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس تعلق کی شدت بعض تجزیوں میں بے روزگاری یا سگریٹ نوشی سے وابستہ اثرات سے زیادہ تھی۔ مطالعے میں رہائش کی سابقہ صورت حال کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ اس دوران بار بار کرایے کے بقایا جات جمع ہونے اور رہائشی ماحول میں آلودگی یا دیگر مسائل کا سامنا کرنے کو بھی تیز حیاتیاتی بڑھاپے سے منسلک پایا گیا۔ ماہرین کے مطابق حیاتیاتی عمر اور کیلنڈر کے حساب سے عمر ایک جیسی چیزیں نہیں۔ حیاتیاتی عمر سے مراد جسم میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں ہیں جن سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ جسمانی نظام کس رفتار سے عمر رسیدگی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ تاہم تحقیق میں سامنے آنے والا تعلق بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ کرائے پر رہنا براہِ راست ہر شخص کی عمر بڑھنے کی رفتار تیز کردیتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ رہائشی حالات بہتر بنانے کے لیے پالیسی اقدامات صحت کے تحفظ میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ ان میں کرایوں میں اضافے کو محدود کرنے اور لوگوں کو زیادہ مستحکم رہائش فراہم کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تحقیق اس بات کی جانب توجہ دلاتی ہے کہ رہائش کا تحفظ محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل