Loading
اداکارہ ماہرہ خان سے منسوب ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے نئی دہلی میں بھارتی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج کی حمایت کی ہے، تاہم اداکارہ نے اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے اس کی تردید کردی ہے۔
فیکٹ چیک کے مطابق اس دعوے کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت بھی سامنے نہیں آیا۔
یہ دعویٰ 8 اکتوبر کو اس وقت گردش کرنے لگا جب ایک صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نو سیکنڈ کی ویڈیو شیئر کی۔ پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ ماہرہ خان نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف 10 اکتوبر کو نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج کی حمایت کی ہے۔
Pakistani actress Mahira Khan supports the October 10 protest.????
She just posted an Insta Story saying: “—
I can’t come because the BJP has banned Pakistani actors from entering India. Hopefully, after this protest, relations between India and Pakistan improve again.”???????????????? pic.twitter.com/wf48e3xCvs
— Saif ???? (@_Saifthetic__) October 8, 2026
وائرل پوسٹ میں ماہرہ خان سے منسوب ایک مبینہ انسٹاگرام اسٹوری کا متن بھی شامل تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ احتجاج میں شرکت نہیں کرسکتیں کیونکہ بھارتی حکومت نے پاکستانی اداکاروں کے بھارت میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسی مبینہ بیان میں امید ظاہر کی گئی تھی کہ احتجاج کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس پوسٹ کو ڈھائی ہزار سے زائد مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ یہی دعویٰ انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کیا گیا۔ تاہم ماہرہ خان نے اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
فیکٹ چیک کے مطابق پاکستانی اور بھارتی ذرائع ابلاغ میں بھی ایسی کوئی مستند خبر نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہو کہ ماہرہ خان نے مذکورہ احتجاج کی عوامی سطح پر حمایت کی ہو۔
View this post on Instagram
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت میں اپوزیشن جماعتیں اور نوجوان ووٹر انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے اور ان مظاہروں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
نتیجتاً ماہرہ خان سے منسوب احتجاجی حمایت کا بیان غیر مصدقہ نہیں بلکہ اداکارہ کی واضح تردید کے بعد غلط قرار دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹ کو ان کا حقیقی بیان سمجھنے کی کوئی قابلِ اعتماد بنیاد سامنے نہیں آئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل