Saturday, October 10, 2026
 

ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف سعودی کارروائی میں شمولیت پر غور

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں میں امریکہ کی شمولیت کے معاملے پر جلد فیصلہ کریں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے پر غور کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں حالیہ حملے کے بارے میں ابھی معلوم ہوا ہے ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے اور اس حوالے سے فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ امریکہ بہت تیزی سے فیصلے کرتا ہے۔ یمن میں سرگرم حوثی گروپ کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی خطے میں سلامتی کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد امریکی صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوگئے جنھیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل