Loading
مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ اب پوری دنیا میں بدنام ہو چکا ہے۔ مودی کی انتہا پسندی نے بھارت کے مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے جب کہ نیتن یاہو نے غزہ اور دوسرے قابض فلسطینی علاقوں میں آباد مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کر دی ہے ۔ مودی نے بھارت کے مسلمانوں پر ہندوتوا کا عذاب ڈھا رکھا ہے۔ مودی اور نیتن یاہو دونوں کے ہی خطرناک عزائم ہیں۔
مودی برصغیر کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے جس میں پاکستان، بنگلا دیش، سری لنکا، افغانستان اور نیپال شامل ہوں گے۔ نیتن یاہو خیالی ماضی کے خیالی اسرائیل کو عملی شکل دے کر اسے زندہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ دونوں اشخاص اپنے جارحانہ عزائم کی تکمیل کے لیے سرگرداں ہیں۔
مودی پاکستان اور بنگلا دیش کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کے علاوہ باقاعدہ دہشت گردی کو پروان چڑھا رہا ہے، وہ پاکستان میں اکثر فالس فلیگ آپریشن کو بروئے کار لاتا رہتا ہے مگر یہ دہشت گردی بھارت میں ہونے والے الیکشنز سے پہلے کرائی جاتی ہے۔
اس سے پاکستان کو ڈرانے میں اسے بھلے کامیابی حاصل نہ ہوتی ہو ،مگر اتنا ضرور ہے کہ ہندوتوائی عوام مودی کی اس دہشت گردی سے خوش ہو جاتے ہیں اور مودی کی پارٹی کو خواہ ریاستی ہو یا وفاقی الیکشن کامیابی مل جاتی ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں مودی کی جیت کو الیکٹرک ووٹنگ مشین کے چمتکار سے جوڑ رہی ہیں کہ وہ ان مشینوں میں دھاندلی کرکے مسلسل جیت رہا ہے۔
حزب اختلاف کی پارٹیاں اس سلسلے میں مسلسل احتجاج کر رہی ہیں مگر الیکشن کمشنر نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔ حال ہی میں مودی نے بنگال میں بھاری اکثریت سے الیکشن جیتا ہے مگر وہ اس الیکشن میں زبردست دھاندلی کرنے کی وجہ سے بری طرح پھنس گیا ہے۔
ان الیکشن میں ایک تو کئی لاکھ ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے، پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے کھل کر بے ایمانی کی گئی۔ ممتا بینرجی جسے زبردستی ہرایا گیا، اب مودی کے لیے مصیبت بن گئی ہے۔
لگتا ہے وہ مودی کی حکومت کو ڈھیلا کرکے رہے گی۔ وہ ایک آزمودہ سیاست داں ہے اور اپنا حق لینا جانتی ہے۔ بنگال کے الیکشن میں دھاندلی کرکے مودی نے بڑی غلطی کی ہے اور اب وہ اپنی دھاندلی کے بے نقاب ہونے کے بعد انتہائی مشکل میں ہے مگر اپنی کرسی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے البتہ الیکشن کمشنر کے خلاف ہونے والا احتجاج ضرور اسے لے ڈوبے گا۔ یہ احتجاج اب بنگال سے دوسرے صوبوں تک پہنچ چکا ہے۔ چنانچہ مودی کے لیے یہ ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی ہے۔
ادھر کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج نے مودی سرکار کی چولیں ہلا دی ہیں۔ کاکروچ پارٹی کا مودی حکومت پر الزام تھا کہ امتحانی پرچے آؤٹ ہونے پر اس کا وفاقی وزیر ذمے دار تھا، چنانچہ اسے استعفیٰ دینا چاہیے۔ کئی دن کے مظاہرے کے بعد دھرمیندرا پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
اب ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرپشن، تعصب کے بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب کاکروچ پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ وزیر داخلہ امیت شا سے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر راہول گاندھی اور اکلیش یادیو نے بھی مودی سرکار کے خلاف سخت مہم چلا رکھی ہے ،وہ بھی مودی اور امیت شا سے استعفیٰ طلب کر رہے ہیں۔
پھر مہنگائی روز بہ روز بڑھتی ہی جا رہی ہے جب کہ نوکری پیشہ لوگوں کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ ملک میں کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں اور اب اکثر سامان درآمد کیا جا رہاہے روپے کی قدر میں بھی گراوٹ آئی ہے۔ اس طرح بھارت کی معاشی حالات روز بہ روز خستہ ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت میں 25 کروڑ مسلمان بستے ہیں، وہ مسلمانوں کے حقوق کا دشمن ہے بھارت میں اس کے دور میں کئی مسجدوں کو مسمار کیا جا چکا ہے ،بھارت میں نئے دینی مدرسے کھولنے پر پابندی ہے ۔کئی اسلامی شرعی قوانین کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ طلاق کے قوانین میں رد و بدل کیا گیا ہے۔
سڑکوں پر پابندی کے بعد اب کھلے میدانوں میں بھی مسلمانوں کو نماز ادا کرنے پر تنگ کیا جاتا ہے ۔ حزب اختلاف کی پارٹیوں کے بڑھتے ہوئے احتجاج نے مودی اور اس کے ساتھی امیت شا کے لیے اب مزید حکومت کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت بھارتی عوام کو مودی کی نیتن یاہو سے دوستی بہت کھٹک رہی ہے کیونکہ وہ ہزاروں فلسطینی مسلمانوں کا قاتل ہے۔
اسرائیل کے صرف بھارت اور امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ یورپی ممالک اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، امریکا سے اس کے تعلقات اس لیے اچھے ہیں کہ امریکا ہی اسرائیل کو پال رہا ہے اور اس کی سیکیورٹی امریکا کے لیے ریڈ لائن بنی ہوئی ہے۔
امریکا کی ایران سے دشمنی محض اسرائیل کی وجہ سے ہے جب سے ایران نے ایٹم بم بنانے کی بات کی ہے امریکا ایران کے خلاف ہو گیا ہے کیونکہ اسے ڈر ہے کہ ایران اپنا ایٹم بم اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا ہے، جب کہ ایران متعدد دفعہ امریکا کو یقین دلا چکا ہے کہ وہ ایٹمی صلاحیت حملہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
امریکا نے گزشتہ دنوں ایران پر جو حملے کیے تھے وہ محض اسرائیل کی ایما پر ہوئے تھے ،ورنہ امریکا کی ایران سے براہ راست کوئی دشمنی نہیں ہے۔ پھر امریکی حملوں کو ایران نے جس طرح ناکام بنایا اور خلیجی ممالک میں اس کے اڈوں کو برباد کیا، اس سے پوری دنیا میں ایران کو فاتح قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح بھارت اپنی بڑی فوج اور بھاری و جدید فوجی ہتھیاروں کی وجہ سے پاکستان کو خاطر میں نہیں لاتا مگر بھارت کے سندور آپریشن کے جواب میں پاکستان نے جو کرارا وار کیا ہے، اس سے اب اس کی شیخیاں ختم ہو گئی ہیں۔
اس سے پاکستان کا پوری دنیا میں نام روشن ہوا ہے اور اس کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت نیتن یاہو اور مودی انتخابی امتحانات سے گزر رہے ہیں۔ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے والے ہیں جب کہ بھارت میں یوپی کے اہم الیکشن چند ماہ بعد ہونے والے ہیں۔ چنانچہ مودی اور نیتن یاہو ان الیکشنز کو جیتنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل