Saturday, October 10, 2026
 

لانگ مارچ اور دھرنے کا کلچر کیوں؟

 



پاکستان کی سیاست مجموعی طور پر محاذآرائی، اجتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کے ہی گرد کیوں گھومتی ہے۔کیا وجہ ہے کہ کوئی سیاسی پارٹی یا پارٹیاںہر بار اپنے مطالبات اور تحفظات کے لیے سڑکوں پر باہر نکلنا ضروری سمجھتی ہیں۔ ادھر حکومت ان کی مزاحمت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی ۔ اپوزیشن ہو یا حکومت، اس کے عمل میں طاقت کی حکمت عملی بالادست ہوتی ہے اور وہ اسی کو ہتھیار بنا کر مدمقابل فریق کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ محسوس کرتی ہیں کہ جب تک ہم سڑکوں پر باہر نہیں نکلیں گے اور ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کو باہر نہیں نکالا جائے گا، ہمارے مطالبات کو ئی تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ ہی حکومت جو آج دھرنوں اور لانگ مارچ کی مخالفت کرتی ہے اور اسے سکیورٹی رسک یا ملک دشمنی سے عملاً جوڑتی ہے، جب وہ خود حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ ہوتی ہے تو اس کا چال چلن بھی وہی ہوتا ہے جو آج کی حزب اختلاف کا ہوتا ہے۔ قومی سیاست میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی پرانی تاریخ ہے اور اس کی بنیاد پر حکومتوں کو گرانے اور نئی حکومتیں بنانے کا کھیل بھی کھیلا جاتا رہا ہے۔ اس پورے کھیل میں سیاسی جماعتیں غیرسیاسی ایجنڈے کا حصہ بھی بنتی رہی ہیں لیکن اس مجموعی کھیل میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا عمل متاثر ہوا ہے ۔ مسئلہ صرف سیاسی مارچ، دھرنوں یا اجتجاج تک محدود نہیں ہے بلکہ سیاست سے ہٹ کر بہت سے افراد یا گروپس اپنے مسائل کی بنیاد پر سڑکوں پر آکر حکومت کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور ان کے بقول ہمارے بنیادی نوعیت کے وہ حقوق جس کی ضمانت ہمیں آئین دیتا ہے، ان کی پامالی کی جارہی ہے۔ یہ طبقہ بھی سمجھتا ہے کہ ہمیں اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے خود ہی باہر نکلنا ہوگا اور اپنی آواز خود اٹھانی ہوگی۔ عمومی طور پر ریاست اور حکمرانی یا حکومت کا نظام لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کے مخالف ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کی ملکی سطح پر مزاحمت کا عمل ریاست اور حکومت کے نظام میں نہ صرف مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ مجموعی طور سکیورٹی سمیت تشدد کی سیاست کو بھی جنم دیتا ہے اس لیے ریاست اور حکومت کی سیاسی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اس طرز کے لانگ مارچ اور دھرنوں کی نہ صرف مخالف کرے۔ بلکہ یہ بیانیہ بھی بنائے جو لوگ یا جماعتیں یہ کام کررہی ہیں وہ ملکی ترقی کے مخالف ہیں لیکن یہاں حکومتی یا ریاستی نظام کی سطح پر یہ بات بھی سوچنی ہوگی کہ کیا سیاسی مخالفین سیاسی ڈرامہ بازی یا سیاسی شغل کے لیے بڑے سرمائے کی بنیاد پر لانگ مارچ اور دھرنوں کو ترتیب دیتے ہیں یا ان کے قومی سیاست سے جڑے جائز مطالبات بھی ہوتے ہیں۔ پاکستان کی قومی سیاست کا بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ایک طرف ہم جمہوری طرزعمل پر مبنی سیاسی جمہوری نظام سے محروم رہے ہیں اور دوسری طرف حکمران اور حزب اختلاف کا طبقہ ایک دوسرے کے سیاست میں وجود کو ہی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی کشیدگی کا پیدا ہونا یا اس کی بنیاد پر ٹکراؤ اور الجھاؤ کی سیاست فطری امر ہوگا۔ ہمارا المیہ تو یہ بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے پر سیاسی تنقید بھی سننے کے لیے تیار نہیں اور یہ سیاسی تنقید اب سیاسی دشمنی میں بدل گئی ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اپنی مخالف جماعتوں کو یا افراد کو ریاست یا ملک مخالف یا دشمن ملکوں سے تعلق کی بنیاد پر جوڑیں گے تو پھر سیاست میں امن، روداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا کلچر کیسے پیدا ہوگا۔ ایک جواز یہ دیا جاتا ہے کہ پارلیمان یا پارلیمنٹ اور دیگر سیاسی اور قانونی فورم سمیت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مدد سے سیاسی مخالفین بات چیت کا راستہ نکالیں اور ان فورمز کی موجودگی میں سڑکوں پر لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ حکومتوں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کل ان کو حزب اختلاف کی سیاست کا حصہ بننا ہے۔ یہ درست ہے کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست سے ملک سیاسی، سکیورٹی اور معاشی مفاد میں نہیں ہوتا۔ جب وزیر خزانہ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں دھرنوں کی صورت میں روزانہ 120ارب کا معاشی نقصان ہوتا ہے لیکن حکمران طبقہ سے ریاست کے نظام سے پوچھا جائے کہ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ لوگوں کو کیونکر دھرنا اور لانگ مارچ کی ضرورت پڑتی ہے اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات سیاسی مسائل کا حل پرامن سیاسی طریقوں اور باہمی بات چیت یا کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر نہیں کر پاتے۔ کیوں ہمارا حکمران طبقہ اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہو جاتا ہے اور سب کچھ اپنے لیے سمیٹنا چاہتا ہے۔ اس لیے مسئلہ نظام بھی ہوتا ہے جو سیاسی راستوں اور ان کے دروازوں کو بند کرنے کا سبب بنتا ہے۔اس وقت بھی ہماری قومی سیاست اسی الجھاؤ کا شکار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہمارا سیاسی راستہ بند گلی میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف ایک دوسرے پر الزامات اور ذاتی حملوں میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں جو تشویش کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف مفاہمت اور بات چیت کا کھیل اور دوسری طرف دہشت گردی کی سرپرستی کے سیاسی طعنے کیسے ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت ہو یا حزب اختلاف، دونوں کو اپنے طرزعمل سے یہ سیکھنا ہے کہ ان سے غلطیاں کہاں ہورہی ہیں اور کیوں ملک سیاسی استحکام کی پٹری پر نہیں چل رہا۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک درست سمت میں چل رہا ہے یا سب اچھا ہے، وہ خود کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمیں آنکھیں کھول کر اور زیادہ گہرائی کے ساتھ مسائل کو سمجھنا بھی ہوگا اور یہ تجزیہ بھی کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات سے باہر نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے بطور ریاست اور حکومت خود کو بدلے بغیر اسی گہرائی میں رکھنا ہے تو نہ سیاسی، سماجی، معاشی سطح کا استحکام ہوگا اور نہ ہی ہم سکیورٹی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کا مقابلہ کرسکیں گے۔ ہم پہلے داخلی کشمکش اور ٹکراؤ میں اپنا کافی وقت برباد کرچکے ہیں اور اب ہمیں اپنی قومی ترجیحات کے دائرہ کار کو ایک نئی ترتیب کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ یہ ترتیب لوگوں کو عملی طور جوڑنے کا سبب بنے اور ہم مزید تقسیم سے بچ سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل