Loading
پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے ہیں۔ یمن پر پاک فضائیہ کی کارروائی یا کسی اسٹرائیک کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے، پاکستان کے اپنے رولز آف بزنس ہیں، ہم نے سب چیزیں مشاورت سے طے کی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ یمن کی حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے خلاف حملے قابل مذمت ہیں ۔ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بظاہر بند ہے لیکن جنگ جاری بھی ہے۔ آبنائے ہرمز میں گاہے بگاہے جہازوں پر حملوں کی اطلاعات آتی جاتی رہتی ہیں جب کہ بحیرۂ احمر کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔
گزشتہ دنوں حوثی ملیشیا نے سعودی عریبیہ کے دارالحکومت پر حملے کیے ہیں۔ حوثی ملیشیا کے ریاض ایئرپورٹ پر دو حملوں میں پائلٹ سمیت 3افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ ابھا میں حملے کیے گئے۔ حملوں کے بعد ریاض کے لیے 300سے زیادہ پروازیں منسوخ کردی گئیں۔
دنیا کے تمام مالک نے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور پاکستان نے بھی ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ اس دوران سعودی عریبیہ کی مسلح افواج نے یمن میں کارروائیاں کی ہیں۔ فضائی کارروائیوں میں کچھ حلقوں میں یہ افواہیں پھیلائی گئیں کہ پاکستان نے فضائی حملوں میں کوئی حصہ لیا ہے اس حوالے سے پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کا اس حوالے سے کوئی تعلق نہیں ہے البتہ پاکستان سعودیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
اگلے روز ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ ہے پاکستانی فورسز سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔
کمیٹی نے دفاع کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونا پوری حکومت کا فیصلہ تھا، یہ کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے مزید کہا ہے کہ پاکستانی فورسز سعودی عرب میں صرف دفاعی مقاصد کے لیے موجود ہیں۔
سعودی عرب اسٹریٹجک پارٹنر ہے ۔ ترکیہ کی جانب سے گراؤنڈ فورسز کو سعودی عرب نہ بھیجنے کا فیصلہ کرنا ان کا اپنا معاملہ ہے ۔ ترکیہ مکہ معاہدے کا حصہ ہے اور دفاع کی ذمے داری تمام رکن ممالک پر ہے۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان نے دو ستمبر کو مدینہ منورہ پر ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی تھی اور سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے مملکت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی رکھتا ہے۔
یمن کے حوثی خاصے عرصے سے سعودی عرب پر حملے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یمن کے ایک حصے پر اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت موجود ہے جب کہ دوسرے حصے پر حوثیوں کا کنٹرول ہے۔ حوثیوں کو ایرانی رجیم مدد فراہم کرتی چلی آئی ہے۔ امریکا ایران جنگ کے دوران یمن کے حوثی باغیوں نے بھی ایران کا ساتھ دیا۔
اب حوثی تواتر کے ساتھ سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔ یمن کی حکومت حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ حوثیوں نے گزشتہ دنوں جن علاقوں پر کنٹرول حاصل کیا تھا، یمنی حکومت نے کئی علاقے واپس لے لیے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں منسلک ہے جب کہ ترکیہ بھی اس معاہدے کا حصہ ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اسی حوالے سے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے فوجی کئی دہائیوں سے مختلف دفاعی اور تربیتی ذمے داریوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں اور مستقبل میں کسی بھی اضافی تعیناتی کا فیصلہ اتحاد کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے مملکت کی سکیورٹی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا تاہم سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے۔ حرمین شریفین کے تقدس کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایاجانا چاہیے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے دوطرفہ تعلقات موجود ہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کاروبار کر رہے ہیں اور مختلف قسم کی ملازمتیں کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے لیے سعودی عرب ہمیشہ ایک اہم ملک رہا ہے جب کہ سعودی عرب نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
بھارت کے ساتھ جنگ کے معاملات ہوں یا تنازع کشمیر ہو، سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے بھی جب کہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی بریفنگ میں ماسکو فارمیٹ اجلاس کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔
انھوں نے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے اجلاس میں دہشت گردی سے متعلق اپنا مؤقف واضح طور پر پیش کیا۔ طالبان نے اسی معاملے پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے سے انکار کیا۔
یاد رہے کہ ماسکو میں ہونے والے اجلاس میں بھی طالبان کا رویہ دہشت گردی کے حوالے سے دیگر ملکوں سے مختلف رہا ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کا مؤقف بھی پاکستان کے ساتھ یکجہتی پر مبنی ہے۔ ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی اور سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ’’ ایکس ‘‘ پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے مزید کہا سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔
ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ ریاض ائیرپورٹ پر دو حملوں میں 3 سعودی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ سعودی عرب کی مقامی ائیر لائن سعودیہ نے بتایا کہ ایک پائلٹ کیپٹن حمود علی الکلثمی بھی شہید ہوگئے۔ ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے تاہم ریاض ائیرپورٹ پر آپریشن بحال ہو چکا اور فضائی آمدورفت معمول پر آگئی ہے۔
اس دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ تیل کا کاروبار کرنے والے اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکلز کی نقل و حمل سے منسلک 27 کمپنیوں، پانچ بھارتیوں سمیت چھ افراد اور 22 بحری جہازوں (بشمول 17 مخصوص تیل کے ٹینکروں) پر پابندیاں عائد کر دی۔
امریکی اخبارنیویارک ٹائمز نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج ایران پر بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ان میں تین روز تک شدید حملے کرنے کے آپشن شامل ہیں، جن میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، توانائی تنصیبات اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔تاہم صدر ٹرمپ تاحال ایران پر نئے حملوں سے متعلق ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
امریکا کے صدر ٹرمپ ایران پر حملوں کے حوالے سے کئی بار بات کر چکے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ امریکا میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر حملے ہوں گے اور کبھی وہ فوری حملوں کا اشارہ دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں صورت حال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ امریکا کسی بھی وقت ایران پر حملے شروع کر سکتا ہے کیونکہ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران جنگ میں حصہ لینے والا امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ میں 322روز ہ تعیناتی کے بعد امریکا واپس پہنچ گیا ہے۔
دوسری جانب پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 65 فیصد امریکی ایران جنگ سے متعلق ٹرمپ کی حکمتِ عملی سے ناخوش ہیں جب کہ 33فیصد مطمئن ہیں۔ ادھر ایران نے کہا ہے کہ دشمن کے خلاف طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے اس کے پاس اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے۔
ایرانی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ ایران نے یورینیئم افزودہ کرنے کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔یوں دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی صورت حال مسلسل غیریقینی شکار چلی آ رہی ہے۔ پورا خطہ اس سے متاثر ہو رہا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کہہ مکرنیوں کی وجہ سے بھی صورت حال غیریقینی کا شکار ہے۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اچانک کیا ہو جائے۔ حوثی مسلسل سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں جب کہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کارروائیوں سے باز نہیں آ رہے۔
ایران کے بعض عہدیدار بھی گاہے بگاہے ایسے بیانات جاری کر دیتے ہیں جس سے معاملات بگڑنے کی طرف چلے جاتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی صورت حال جب تک واضح نہیں ہوتی، عالمی تجارت مسلسل ہچکولے کھاتی رہے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل