Saturday, October 10, 2026
 

نیہا بورا کا عزم

 



ہمارے ملک میں غیر مستحکم سیاسی نظام اور آئینی حقوق کی پامالی نے اچھے بھلے سیاسی کارکن یا رہنما کو ایک گومگو کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، ملک میںسیاسی کہلائے جانے والے دوست اور سیاسی کارکن کنفیوزڈ یا الجھی ہوئی سیاسی صورتحال میں عوام کی بے چینی اور ان کو مشکلات سے نکالنے کے لیے حل طلب سیاسی سرے کی تلاش میں ہے جو عوام کو سیاسی آزادیاں حاصل کرنے کے لیے جوڑنے کا سبب بنے جب کہ یہ سیاسی دوست ملک کی نوجوان،جین زی یا الفا نسل تک اپنا سیاسی ایجنڈا پہنچانے یا اس نسل سے براہ راست رابطہ کرنے میں اب تک تو کامیاب دکھائی نہیں دیتے۔ گو کہ سیاسی و نظریاتی کہلوانیوالے سیاسی گروہ کے سامنے ماضی قریب میں خطے کے تین ممالک سری لنکا،بنگلہ دیش اور نیپال میں نوجوان نسل کی مضبوط سیاسی ہلچل دیکھنے کو ملی کہ جس کی پذیرائی بھی عوامی حلقوں کی جانب سے کی گئی مگر مذکورہ تینوں ممالک میں نوجوان نسل یا جین زی نسل وہ سیاسی ہدف یا تبدیلی نہیں لا سکی جو عوام کی امنگوں کی آئینہ دار کہلا سکے۔ خطے کے درج بالا تینوں ممالک میں جین زی کے مطلوبہ ہدف حاصل نہ ہونے میں جہاں جین زی کا خطے میں تحرک مدہم پڑا، وہیں سیاسی تجزیہ کاروں کے تجزیوں میں بھی مذکورہ تین ممالک میں جین زی کے متعلق تحریک کے لاحاصل نتائج میں ’’سیاسی دانش‘‘کی کمی نمایاں رہی جب کہ ہمارے ہاں کے سیاسی و نظریاتی پنڈتوں کے لیے مذکورہ ناکامی ایک اور بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی حالانکہ بنگلہ دیش میں جین زی کی تحریک سے یہاں کے مذہبی سیاسی گرو اسے ایک مذہبی انقلاب کی نوید کے طور پر دیکھ رہے تھے جب کہ دیگر ترقی پسند و جمہوریت پسند سیاسی دوست بنگلہ دیش اور نیپال کی جین زی کی ہلچل کو اپنے ملک میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی شکل میں ملک کے غیر مستحکم سیاسی نظام کو پلٹنے کی امید کے طور پر نئی نسل کو منظم کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ سو نہ بنگلہ دیش کی جین زی اسلامی انقلاب برپا کر پائی اور نہ ہی نیپال اور سری لنکا کی جین زی اپنے ملک میں کوئی موثر انقلابی تبدیلی لاپائی۔خطے میں جین زی کی تین ناکامیوں پر پڑوسی ملک بھارت کے سیاسی پنڈت ،کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیاں مسلسل نظر رکھے ہوئے تھیں،ان تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ہندوستان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلسل حکومت اور اس کے نتیجے میں تنگ نظر آر ایس ایس کی سماج میں بڑھتی ہوئی تنگ نظر سوچ، دیگر دھرموں کے خلاف نفرت اور تشدد پسندی کی کارروائیوں کا خاتمہ اور ہندوستان کے سیکیولر جمہوریت کا مسخ شدہ وقار بحال کرنا سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔ ہندوستان کی بی جے پی مخالف تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے ’’سیکیولر انڈیا‘‘کو تنگ نظر ’’ہندوتوا‘‘میں تبدیل کرنے کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کوششوں کو روکنا سب سے پہلا ہدف ٹہرا، جس کے لیے کانگریس نے 2023 کے انتخابی عمل کے دوران راہول گاندھی اور پریانیکا گاندھی کی سربراہی میں ہندوستان کے ہر حصے میں پیدل مارچ کے ذریعے انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیا جس کے نتائج کے طور پر نریندرا مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابات میں وہ مطلوبہ اکثریت نہ مل سکی۔ جس جیت کا دعویٰ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ہندوستانی ریاست کا میڈیا مل کر کررہے تھے،انھی انتخابات کے دوران گجرات ٹولے کی حکومت پر گرفت اور ملک کے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مودی،امیت شا اورگجرات کے سرمایہ دار امبانی کے گٹھ جوڑ کو کانگریس نے بھرپور پروپیگنڈے کے تحت ’’گودی میڈیا‘‘کے نام سے جانبدار رپورٹنگ کرنے کو عوام میں متعارف کروایااور عوام کے تمام طبقات تک یہ بات پہنچائی کہ مودی سرکار نے ڈاکٹر کشوبلی رام کی 1925 میں بننے والی ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریاسیویم سیوک سنگھ،،RSSسے گٹھ بندھن سے انتہا پسند’’ ہندوتوا‘‘کے فلسفے کو ہندوستان میںبسنے والے مسلمان اور دیگر دھرم کے خلاف ہندو انتہا پسندانہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ کانگریس کی جانب سے منظم انداز میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور گجرات ٹولے کے خلاف پروپیگنڈہ کیا کہ ’’مودی،امیت اور امبانی ٹولہ‘‘ ہندوستان میں بسنے والی نچلی ذات کو بھی ہندو نفرت کا نشانہ بنانے کی باقاعدہ حکمت عملی طے کر رہاہے ،جس کے لیے ہندوستان کے اداروں سمیت ہندوتوا کے دیگر جتھوں کو آر ایس ایس کی مدد سے ہندوستان کے مختلف دھرم اور ذاتوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ کانگریسی میڈیا کے افراد نے مودی اور آر ایس ایس کے ہندوستان کی جمہوریت اور سیکیولر ازم کے خلاف منصوبوں کو جب عام عوام تک پہنچانا شروع کیا تو کانگریس کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ ہندوستان کی ’’ جین زی‘‘ کو کس طرح اپنا سیاسی ہمنوا بنائے،اس اشنا کانگریس ہندوستان کے راجیہ سبھا میں تو ایک اچھی پوزیشن میں پہنچ چکی تھی مگر ہندوستان کی نوجوان نسل کو متحرک کرنا کانگریس کے لیے پھر بھی ایک مشکل عمل ثابت ہو رہا تھا،اسی اثنا نوجوانوں کے دہلی میں پیپر لیک کی انکوائری کروانے کے مطالبے پر مودی سرکار نے نوجوانوں کے احتجاج اور مانگ کو سپریم کورٹ کے ذریعے رکوانے کی کوشش کی جس میں ہندوستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک مقدمے میں نوجوان قیادت کو لال بیگ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دینا مہنگا پڑ گیا۔ ہندوستان کے نوجوانوں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے جسٹس سوریا کانت کے نوجوانوں کو کہے گئے نام ’’کاکروچ‘‘ پر نوجوانوں پر مشتمل ’’کاکروچ جنتا پارٹی ‘‘ جس نے ملک کے تعلیمی نظام کی ابتر صورتحال کو بہتر کرنے کا بیڑہ اپنے سر لیا اور پیپر لیک پر بھرپور تحریک کے لیے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا،مگر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ میں بیرون ملک سے تعلیم یافتہ نوجوان قیادت تو ضرور تھی مگر اس قیادت کے پاس سیاسی حکمت عملی اور احتجاج کرنے کا وہ تجربہ نہیں تھا جو ’’کاکروچ جنتا پارٹی ‘‘کی تعلیم بہتر کرنے کے مطالبے کو سیاسی طور سے منظم کر سکے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ہندوستان کی نظریاتی کمیونسٹ پارٹیوں نے یونائٹیڈ لیفٹ اور کامریڈز کے نام سے سب کو ایک پلیٹ فارم دیا اور تمام کمیونسٹ پارٹیوں نے اپنے طلبہ ونگ اور نوجوان ونگز کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتہا پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ازسر نو نئی حکمت عملی سے کمیونسٹوں کے تمام محاذوں کو متحرک کیا مگر نوجوان نسل یا جین زی نسل کی رہنمائی کا سہرا طلبہ سیاست پر رکھا جس میں کمیونسٹ پارٹیوں کے تمام طلبہ دھڑوں نے مشترکہ حکمت عملی اپنائی اور آئی ایس آئی کی متحرک صدر نیہا بورا کو جین زی کو متحرک کرنے کی کمان دی۔ کمیونسٹ پارٹیوں نے نہایت حکمت عملی اور چابکدستی سے کمیونسٹ طلبہ قیادت کو آگے کیا اور تمام سینئر قیادت نے مرکزی سیاسی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں کو منظم کرنے کا کام سنبھالا۔جین زی اور نوجوان طلبہ کو جوڑنے کے لیے جہاں نیہا بورا ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کی پیپر لیک میں بھوک ہڑتال کرنیوالوں میں پیش پیش رہی بلکہ اس نے کمیونسٹ تربیت کے تحت وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد نوجوان طلبہ اور جین زی کو متحرک کرنے کے لیے پورے ہندوستان کے طوفانی دورے کرکے پورے دیش کی نوجوان اور جین زی کے ساتھ پرانی نسل کو بھی اپنا ہم نوا بنایااور ہندوستان میں طلبہ سیاست کے افق پر نیہا بورا کی شہرت اب سرحد پار عالمی طور سے ایک نڈر،حوصلہ مند اور بات کو سیاسی انداز سے رکھنے والی وہ رہنما بن چکی ہے جس کی ایک آواز پرآج پورا ہندوستان نیہا بورا کو ہندوستان کا بھگت سنگھ پکار رہا ہے۔ بلکہ یہ تک کہا جا رہا ہے کہ ضروری تو نہیں کہ بھگت سنگھ کوئی مرد ہو بلکہ آج کے ہندوستان کی بھگت سنگھ نیہا بورا ہی ہے جو نوجوان،جین زی اور تمام پرانی نسل کی امید اور ایک تحرک بن کر ابھری ہے، کمیونسٹ تربیت کی یہ عجیب نیہا بورا ہے جو نہ پولیس سے ڈرتی ہے،نہ گودی میڈیا اس کا کچھ بگاڑ پایا ہے اور نہ ہی مودی حکومت کی قید اور سختیاں نیہا بورا کے ارادوں کو شکست دے پائے ہیں۔ وہ آج بھی آیندہ کی لڑائی کے لیے کہہ رہی ہے کہ ’’1942 میں آزادی کی تحریک میں نہ گرفتاریاں،نہ جیل،نہ صعوبتیں ہندوستان کی آزادی کو روک سکیں‘‘وہ کہہ رہی ہے کہ’’ آج انگریز راج کی بربریت دوبارہ سے ہم پر مسلط ہے،ہم گرفتار ہو بھی گئے توہمارے بعد آپ کو مودی بربریت سے آزادی کی، اس تحریک کو اپنے ہاتھ میں لے کر آگے اورصرف آگے بڑھتے رہنا ہے۔‘‘

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل