Saturday, October 10, 2026
 

قومی سلامتی کا نیا محاذ

 



دنیا بھر میں قومی سلامتی کا تصور طویل عرصے تک سرحدوں، عسکری قوت، دفاعی تنصیبات اور جنگی تیاریوں کے گرد گھومتا رہا، مگر اکیسویں صدی نے سلامتی کے مفہوم کو اتنا وسیع کر دیا ہے کہ اب کسی ریاست کی مضبوطی کا اندازہ صرف اس کے ہتھیاروں، فوجی استعداد یا سرحدی چوکیوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔ آج ریاست کو درپیش خطرات بیک وقت میدان جنگ، معیشت، ابلاغ، نظریات، سائبر دنیا، سماجی ساخت اور سیاسی اعتماد میں نمودار ہوسکتے ہیں۔ دہشت گردی اس نئے سلامتی منظرنامے کی شاید سب سے پیچیدہ مثال ہے، کیونکہ اس کا مقابلہ صرف اسلحے سے نہیں بلکہ ریاستی بصیرت، ادارہ جاتی ربط، معاشرتی استحکام اور فکری استقامت سے بھی کرنا پڑتا ہے۔ دہشت گردی کو محض بم دھماکوں، فائرنگ، خودکش حملوں یا ہلاکتوں کے اعدادوشمار میں مقید کردینا دراصل اس بحران کی ظاہری سطح کو دیکھنا ہے۔ دہشت گردی کا اصل مقصد صرف انسانی جان لینا نہیں ہوتا، وہ خوف کو اجتماعی نفسیات میں منتقل کرتی، ریاستی اداروں پر اعتماد کو مجروح کرتی، معاشی سرگرمی کو متاثر کرتی، سماجی تقسیم کو گہرا کرتی اور قانون کی بالادستی کے بارے میں شکوک پیدا کرتی ہے۔ ایک ایسا حملہ جو چند افراد کو نشانہ بناتا ہے، اس کے اثرات بسا اوقات ہزاروں اور لاکھوں شہریوں کے احساس تحفظ تک پھیل جاتے ہیں۔ چنانچہ دہشت گردی ایک سیکیورٹی واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی استحکام اور قومی نفسیات کا مسئلہ بھی ہے۔ ستمبر 2026 کے دوران خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں سامنے آنے والے واقعات نے اسی کثیرالجہتی خطرے کی مختلف صورتیں نمایاں کیں۔ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات نے خیبر پختونخوا کی حساس سلامتی صورت حال کو پھر اجاگر کیا، جب کہ بلوچستان میں مسلح عناصر کے خلاف کارروائیوں اور مغوی افراد کی بازیابی نے اس امر کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ تشدد پسند نیٹ ورک محض فائرنگ اور حملوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اغوا، بھتہ خوری، خوف اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو بھی اپنے عملیاتی ڈھانچے کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ پنجاب میں انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں اس امر کی اہمیت واضح کرتی ہیں کہ جدید انسدادِ دہشت گردی کا سب سے مؤثر مرحلہ حملے کے بعد کارروائی نہیں بلکہ حملے سے پہلے خطرے کی شناخت ہے۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ قابلِ غور ہے کامیاب انسدادِ دہشت گردی کی بہت سی کارروائیاں دراصل وہ ہوتی ہیں جن کی خبر کبھی بڑی سرخی نہیں بنتی۔ ایک مشتبہ نیٹ ورک کی بروقت نشاندہی، ایک سہولت کار کی گرفتاری، ایک مالیاتی راستے کی بندش یا ایک ممکنہ حملے کی پیشگی روک تھام شاید اخبارات کے صفحات پر کسی بڑے سانحے جتنی جگہ نہ پائے، مگر قومی سلامتی کے اعتبار سے اس کی قدر کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ ریاستی کارکردگی کا حقیقی پیمانہ صرف رونما ہونے والے واقعات کی تعداد نہیں بلکہ ان واقعات کی تعداد بھی ہے جنھیں بروقت تدبیر سے رونما ہونے سے روک دیا گیا۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور مہنگی جنگ لڑی ہے۔ اس تجربے نے یہ واضح کردیا ہے کہ عسکری کارروائی ناگزیر ہونے کے باوجود تنہا کافی نہیں۔ 2014کے قومی ایکشن پلان نے بھی اسی وسیع تر قومی فہم کی ضرورت اجاگر کی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ان کے مالی وسائل، سہولت کاری، نفرت انگیز بیانیے، انتہاپسندانہ ڈھانچوں اور معاون نیٹ ورک کو بھی نشانہ بنانا ہوگا۔ بعد کے برسوں میں دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، فوجداری نظامِ انصاف کی بہتری، انسدادِ انتہاپسندی اور حساس علاقوں میں ریاستی اداروں کی استعداد بڑھانے جیسے اقدامات اسی جامع حکمت عملی کا حصہ بنے۔ اس پورے تجربے کا حاصل یہی ہے کہ بندوق دہشت گردی کے ایک مرحلے کو ختم کرسکتی ہے، مگر اس کی پیداواری زنجیر کو توڑنے کے لیے ریاستی نظم و نسق، تعلیم، معیشت، قانون اور فکری مزاحمت کو بھی ایک ہی قومی حکمت عملی میں مربوط کرنا ہوگا۔اسی مقام پر قومی احتساب کا سوال بھی ناگزیر ہوجاتا ہے۔ ہر دہشت گرد حملے کے بعد صرف حملہ آوروں کی شناخت کافی نہیں ،ریاست کو اپنے نظامِ تحفظ کا بھی احتساب کرنا چاہیے۔افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتِ حال، طویل اور دشوار گزار سرحد، سرحد پار مسلح گروہوں کی سرگرمیاں اور علاقائی جغرافیائی سیاست نے پاکستان کے داخلی سلامتی کے مسئلے کو خارجی عوامل سے الگ کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی کو سفارت کاری سے، انٹیلی جنس کو علاقائی تعاون سے اور سرحدی سلامتی کو مقامی ترقی سے جدا کرکے دیکھنا غلط تصور ہوگا۔ سرحد کے قریب رہنے والی آبادی اگر معاشی مواقع، بنیادی سہولتوں، تعلیم اور موثر ریاستی خدمات سے محروم ہو تو وہاں غیر قانونی معیشت اور مسلح گروہوں کے لیے جگہ پیدا ہوسکتی ہے، چنانچہ سرحدی علاقوں کی ترقی محض فلاحی منصوبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کی سرمایہ کاری بھی ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تجربات ہمیں یہ سبق بھی دیتے ہیں کہ ریاست کو مسلح تشدد، اغوا، بھتہ خوری اور قانون شکنی کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کرنی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ شہریوں کو یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ ریاست ان کی جان و مال، عزت، روزگار، تعلیم اور بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک محاذ مدرسہ، اسکول، جامعات، میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں بھی قائم ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کو محض یہ بتانا کافی نہیں کہ تشدد غلط ہے اسے دلیل، اختلاف رائے، مذہبی اعتدال، آئینی شعور اور تنقیدی فکر کی تربیت بھی دینا ہوگی۔ ایسا معاشرہ جو سوال کرنے، اختلاف سننے اور دلیل سے قائل ہونے کی صلاحیت کھو دے، وہاں انتہاپسندانہ بیانیے کے لیے جگہ پیدا ہونا آسان ہوجاتا ہے۔ فکری سلامتی دراصل قومی سلامتی کا وہ پہلو ہے جسے نظرانداز کرنے کی قیمت ریاست کو دیرپا طور پر ادا کرنا پڑتی ہے۔ ڈیجیٹل عہد نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ دہشت گرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورک جدید مواصلاتی ذرائع، سوشل میڈیا، خفیہ پیغام رسانی، غیر رسمی مالیاتی راستوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے پاکستان کو ردِعمل پر مبنی نظام سے پیش بینی پر مبنی سلامتیاتی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، بڑے اعدادوشمار کا تجزیہ، ڈیجیٹل فرانزک، مالیاتی نگرانی اور معلوماتی پیٹرن کی شناخت ریاستی اداروں کو خطرات کی قبل از وقت نشاندہی میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کو انسانی بصیرت، قانونی ضابطے اور ادارہ جاتی جواب دہی کا متبادل نہیں بنانا چاہیے۔ پاکستان کی پائیدار سلامتی کا راستہ نہ صرف مضبوط دفاع سے گزرتا ہے بلکہ مضبوط اداروں، موثر قانون، مربوط انٹیلی جنس، فعال سفارت کاری، مستحکم معیشت، متوازن علاقائی ترقی، ذمے دار ابلاغ اور باشعور شہری معاشرے سے بھی ہوکر گزرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اصل فتح اس دن ہوگی جب ریاست کو خطرات کے پیدا ہونے سے پہلے انھیں سمجھنے اور روکنے کی صلاحیت حاصل ہوجائے گی۔ پائیدار امن اس وقت جنم لیتا ہے جب قانون کے ساتھ انصاف، نگرانی کے ساتھ اعتماد، اور ترقی بھی قومی پالیسی کا حصہ بن جائے، یہی وہ مرحلہ ہے جہاں قومی سلامتی بندوق سے آگے بڑھ کر قومی بصیرت کا عنوان بن جاتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل